چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری 46 سے بڑھا کر 51ارب ڈالر کردی

چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری 46 سے بڑھا کر 51ارب ڈالر کردی
چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری 46 سے بڑھا کر 51ارب ڈالر کردی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کے تین نامور اقتصادی ماہرین نے جن کا موجودہ حالات تک پاکستان کو پہنچانے میں کچھ نہ کچھ کردار رہا ہے اور وہ خود اس کو تسلیم بھی کرتے ہیں نے ایک حیران کن قدم اٹھایا، پاکستان کی بحال ہوتی ہوئی معیشت کے بارے میں دنیا جہاں کے اندازوں، تخمینوں، تبصروں اور پیمانوں کی نفی کرتے ہوئے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے سربراہوں کی پاکستان آمد کے موقع پر ایک کھلا خط لکھ کر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں مذکورہ تین ماہرین کو کوئی عہدی یا کام نہیں دیا گیا اس لئے ان عالمی اداروں کے ماہرین کی پاکستان کے بارے میں جو بھی رپورٹیں متعلقہ بورڈ/ بینک کو دی گئیں وہ بقول ان کے گمراہ کن تھیں لیکن ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ان درآمدی ماہرین کے اصل مقاصد ان ہی کی زبانی یوں عیاں ہوگئے کہ ایک تو ہر دو عالمی اداروں کے سربراہان نے ان کے استدلال کو یکسر مسترد کردیا اور اپنے اس یقین کا بارہا اعادہ کیا کہ پاکستان کی معیشت اب کسی دلدل یا گرداب میں نہیں ہے بلکہ ترقی کی راہ پر چل نکلی ہے اور پاکستان عالمی سرمایہ کاری کا ایک بہت پسندیدہ ملک بن رہا ہے۔ اوپن لیٹر کا سب سے خطرناک حصہ وہ ہے جس میں ’ماہرین‘ اس بات پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستانی روپیہ کی قدروقیمت کم کرنی چاہیے ورنہ کوئی ترقی نہیں ہوسکے گی۔ اب یہ بات ہر آدمی سمجھتا ہے کہ روپیہ سستا ہونے سے درآمدی اشیاءکی قیمتیں لامحالہ بڑھیں گی اس طرح پاکستانی برآمدات کی پیداواری لاگت بھی بڑھے گی۔ اس میں پٹرولیم مصنوعات سے لے کر صنعتی خال مال، ادویات اور مشینری وغیرہ کی قیمتیں بھی شامل ہوں گی اور وہ مزیدار اپنی مارکیٹ کھونے لگیں گے، اس طرح مہنگئی کا وہ جن جو سخت محنت کے ساتھ موجودہ سطح پر قید کیا گیا وہ دو بارہ اپنا سر بوتل توڑ کر باہر آجائے گا اور باقی نتائج کے تصور کیلئے کسی افلاطونی علم کی ضرورت نہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہمارے عظیم ہمسایہ اور آزمودہ دوست چین نے جو غیر معمولی سرمایہ کاری سی پیک کے تحت وطن عزیز میں کرنا شروع کی اور جس کو متنازعہ بنانے کی کوشش بھی کی گئی کہ شاید وہ بددل ہوکر پیچھے ہٹ جائے لیکن ان کی شومئی قسمت کہ چین نے سی پیک کے پہلے تخمینے میں ساڑھے پانچ ارب ڈالر کا اضافہ کرکے اس کا حجم 46 ارب سے بڑھا کر ساڑھے 51 ارب ڈالر کردیا ہے اور یہ اضافہ انتہائی خاموشی کے ساتھ پچھلے دنوں کیا جو کہ ان ہی حلقوں کو ایک موثر جواب ہے یہ بھی ریکارڈ کی بات ہے کہ مئی 2013ءکے عام انتخابات اور جون 2013ءمیں موجودہ حکومت بننے کے درمیانی ہفتوں میں چین کے وزیراعظم نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا جس سے عالمی حلقے انگشت بدنداں رہ گئے اس دورے کے دوران ابتدائی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے مضبوط و مربوط ترقیاتی پیکج شروع کرنے کا عزم بھی دہرایا۔ چینی وزیراعظم رائے ونڈ جاکر منتخب وزیراعظم نواز شریف کو ملنے والے پہلے عالمی سربراہ تھے۔ مغربی اور بھارتی لابی کی سی پیک کے اقتصادی پہلوﺅں کے ساتھ ساتھ اصل پریشانی پاک چین دفاعی تعاون جو نئی بلندیوں اور گہرائیوں تک محاوراتی دائرے سے نکل کر حقیقی سطح پر پہنچ چکا ہے جس میں امکانی طور پر آٹھ ایٹمی آبدوزوں کا بیڑہ بھی شامل ہورہا ہے ان میں سے چار ایٹمی آبدوزیں چین شپنگ یارڈ اور چار پاکستان کے شپنگ یارڈ میں بنیں گی۔

مزید : اسلام آباد