”آرمی چیف کی بہنیں کہتیں بھائی بادشاہ بن گیا ہے“جاوید ہاشمی کی کتاب میں انکشاف

”آرمی چیف کی بہنیں کہتیں بھائی بادشاہ بن گیا ہے“جاوید ہاشمی کی کتاب میں ...
”آرمی چیف کی بہنیں کہتیں بھائی بادشاہ بن گیا ہے“جاوید ہاشمی کی کتاب میں انکشاف

  

لاہور( سپیشل ایڈیٹر)بعض سیاستدانوں کو فوجی حکمرانوں کی فطرت پڑھنے کا ملکہ ہوتا ہے۔جاوید ہاشمی پاکستان کی سیاست کا ایسا کردار ہیں جنہوں نے جمہوریت کی بقا کے لئے جیلیں کاٹیں اور کسی صورت مالی مفادات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی حتٰی کی جرنیلوں کی منشا پوری کرنے سے بھی قاصر رہتے۔جاوید ہاشمی نے جرآت مندی سے جمہویرت کی تاریخ لکھی اور جنرل ضیا الحق سے پرویز مشرف تک انہوں نے جرنیلوں کی غلطیاں کو ان کے منہ پر بیان کردیا جس کی وجہ سے انہیں سخت ترین مشکلات سے گذرنا پڑا۔اسکا ذکر انہوں نے دوران اسیری اپنی کتاب ” ہاں میں باغی ہوں “ میں مختلف واقعات کی صورت کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض فوجی جرنیل اپنی ترقی کے لئے سیاستدانوں کو کیسے استعمال کرتے تھے۔انہوں نے جنرل آصف نواز مرحوم کے حوالے سے بھی ایک ایسا انکشاف کیا تھا کہ وہ میاں نواز شریف کی نظروں میں جچنے کے لئے کیا کرنا چاہتے تھے۔لیکن بعد میں انہوں نے اپنی نظریں پھیر لیں اور بادشاہ کہلوانے لگے تھے۔

”1996ءمیں نواز شریف دوبارہ برسراقتدار آئے تو چیف آف آرمی سٹاف جہانگیر کرامت نے اقتدار میں فوج کا حصہ مانگنے کیلئے نیشنل سکیورٹی کونسل کی تشکیل کا مطالبہ کر دیاتھا۔نواز شریف نے ان سے استعفیٰ طلب کرلیا۔ان کے بعد پرویز مشرف چیف آف آرمی سٹاف بنائے گئے۔انہوں نے سیاسی حکومت کے اقدامات کے خلاف اعلانیہ بغاوت کرتے ہوئے ہندوستان سے امن مذاکرات پرناپسندیدگی کا اظہار کیا اور ہندوستان کے وزیراعظم کو پروٹوکول دینے سے انکار کر دیا۔وہ اپنے ملک کے وزیراعظم کو ملنے جاتے تو ٹوپی اُتار لیتے،اس طرح انہیں سلیوٹ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی،مگر ضرورت پڑنے پر نیپال میں ہندوستان کے وزیراعظم کو سلیوٹ کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ضیاءالدین بٹ بھی1999ءمیں فوج کے سربراہ بن جاتے تو نواز شریف سے یہی کچھ کرتے جو پرویز مشرف نے کیا۔جنرل آصف نواز کراچی کے کور کمانڈر تھے۔میری ان سے ایک شادی میں ملاقات ہوئی۔انہوں نے مجھے اپنے گھر پر چائے کی دعوت دی۔دوسرے دن میں ان کے ہاں گیا تو مجھے کہنے لگے”آپ وزارت عظمیٰ کیلئے میاں نوازشریف کا ساتھ دیں“

میں نے کہا ” مسلم لیگ میں ہوں،اگرچہ ہمارے درمیان کچھ دوریاں ہیں لیکن ان کی ذات کے بارے میں اختلاف نہیں“

انہوں نے کہا”میاں صاحب کو میرے خیالات کے بارے میں بتا دیجئے گا“

میں میاں صاحب کو کیوں بتاتا؟آصف نواز چیف  آف آرمی سٹاف بن گئے تو ان سے اکثر سرراہ ملاقات ہوتی۔انہوں نے پرپرزے نکالنے شروع کیے اور چہرے پر غصے کا خول چڑھالیا۔ایک تقریب میں ایوان صدر میں ایک ہی میز پر کھانا کھارہے تھے،مجھے مخاطب کرکے کہنے لگے ”تمہارا آدمی ٹھیک نہیں جارہا اور یہ ٹھیک ہو بھی نہیں سکتا“

میں ششدررہ گیا۔میں نے بات کو مذاق میں ٹالتے ہوئے کہا”میری جان بخشی تو ہو جائے گی“

انہوں نے غصے سے کہا”میں بالکل سنجیدہ ہوں“

اب مجھے بھی غصہ آگیا۔میں نے کہا”کیا آپ کو کراچی کی ملاقات بھول گئی ہے ،اس وقت نوازشریف آپ کا آدمی تھا آج صرف میرا ہو گیا“

کہا ”میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں،آپ کب آسکتے ہیں“پھر وہ میرے ہمسائے کمانڈر خلیل الرحمن کے گھر آتے رہے لیکن میں نے ان سے ملاقات کرنامناسب نہ سمجھا۔وہ چیف آف آرمی سٹاف بن گئے تو انکی بہنوں نے مشہور کردیا کہ ان کا بھائی پاکستان کا بادشاہ بن گیاہے“

مزید : لاہور