کشمیریوں کی اخلاقی و مالی مدد ہمارا فرض ہے

کشمیریوں کی اخلاقی و مالی مدد ہمارا فرض ہے
 کشمیریوں کی اخلاقی و مالی مدد ہمارا فرض ہے

  

جماعۃ الدعوہ پاکستان کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ کشمیر کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ آج سیاسی انتشار کی صورت میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورت حال عالمی سازش کا حصہ ہے۔ اس افراتفری کا مقصد کشمیر کے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔ بھارت ہمارے اندرونی خلفشار کا فائدہ اٹھا کر اپنا کھیل کھیل رہا ہے۔حکومتی و اپوزیشن جماعتیں باہمی لڑائی جھگڑوں کی بجائے کشمیریوں کی مدد کریں۔ آپس میں الجھنے کی وجہ سے کوئٹہ جیسے سانحات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ کشمیریوں کی مالی مدد کرنا بھی پاکستان پر فرض ہے۔ مظلوم کشمیری چار ماہ سے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ کشمیر کی تحریک آزادی کو پس منظر میں نہ رکھا جائے۔ غاصب افواج نے آسیہ اندرابی اور دختران ملت کی دیگر خواتین کو بھی گرفتار کر رکھا ہے۔ پوری حریت قیادت قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہی ہیں۔ یو این کے اجلاس میں وزیراعظم نے کشمیریوں کی درست ترجمانی کی، لیکن کشمیریوں کے لئے خطابات اور بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس میں خطاب کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ظلم و تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی دہشت گردی کے ثبوت اور تصاویر دیں، جنہیں دیکھ کر بان کی مون نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے پیلٹ گن کا استعمال غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیا، جس کے استعمال سے ہزاروں کشمیری بچے اور مرد و خواتین زخمی ہوئے۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔وزیراعظم نے جموں و کشمیر کی صورت حال پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مضبوط موقف اور حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، ساتھ ہی انہوں نے بان کی مون کی توجہ کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب بھی دلائی، جس کے نتیجے میں گزشتہ دنوں کے دوران اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک اور کئی ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔ ہندوستانی ظلم و تشدد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جارحیت جاری ہے۔ گزشتہ 2 ماہ میں ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے 6 ہزار سے زائد کشمیری زخمی ہوئے۔ کشمیریوں کی نئی نسل ہندوستان سے آزادی چاہتی ہے اور ہندوستان کے غیر انسانی سلوک کی وجہ سے حریت پسند کمانڈر برہان وانی نئی تحریک آزادی کی علامت بن گیا ہے اور سری نگر سے سوپور تک کرفیو کے باوجود آزادی کے لئے احتجاج جاری ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ہم کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام کی تحقیقات کے لئے عالمی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ سلامتی کونسل اپنی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور بے گناہ کشمیریوں کو رہا کیا جائے اور کرفیو اٹھایا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے ،جس کے باعث وادی میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے اور علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔مقبوضہ کشمیر میں 8 جولائی کو بھارتی فوج کے ہاتھوں تحریک آزادی کے نوجوان کمانڈر بربان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے کشمیر میں بھارتی ظلم کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی فوج نے آزادی کے لئے جدو جہد کرنے والے نہتے کشمیریوں پر زندگی اجیرن کرکھی ہے، جبکہ علاقے میں تقریبا 3 مہینے سے کرفیو نافذ ہے، جس کے باعث نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔

کرفیو کے باعث تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بندہے، جبکہ ریاست کی کٹھ پتلی حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند کر رکھی ہے۔ضلع کشتواڑ میں بھارتی فوج نے بھارت مخالف نعرے لگانے کے الزام میں 3 حریت رہنماؤں کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد علاقے میں فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔گزشتہ کئی روز سے سری نگر سمیت پوری ریاست میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔مقبوضہ وادی میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سری نگر کے ہسپتالوں میں پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے،جس میں سے 300 افراد کے بینائی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے باعث اب تک 108 کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ ہندوستانی فوج کشمیر میں نہتے اور بے گناہ شہریوں پر طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے، خواتین اور بچے بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔ عالمی برادری نے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا ہے۔ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم کے علاوہ کئی ممالک نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیر میں مظاہروں کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بھارت پاکستان پر مظاہرین کی حمایت کرنے اور علاقے کے عوام کو اشتعال دلانے کا الزام لگا رہا ہے، جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں ک

مزید : کالم