ہم ملک کے لئے کیا کر رہے ہیں؟

ہم ملک کے لئے کیا کر رہے ہیں؟
 ہم ملک کے لئے کیا کر رہے ہیں؟

  

ہم اپنی بد اعمالیوں اور منفی سوچ کے نتیجے میں جس مقام پر کھڑے ہیں اس کے آگے گہری کھائی اور ویران کنواں ہے جس میں گرنے سے اللہ نہ کرے،ہم تباہ ہو سکتے ہیں۔اس لئے اب یو ٹرن لینے کا وقت ہے ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کہاں جانا ہے جو پاکستانی صبح سے شام اور رات سے صبح تک اپنا پیٹ پالنے اور زندگی کی سانسیں پوری کرنے کی تگ و دو میں پریشان ہے۔ اس بیچارے نے پاکستان کے بارے میں کیا سوچنا ہے،پاکستان کے بارے میں معاشرے کے بارے میں سوچنا ان پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے جنہیں پاکستان نے خوشحالی دی۔ بڑے بڑے کاروبار دیئے، ہزاروں مربع ایکڑ زمینیں پاکستان کی بدولت الاٹ ہوئیں۔ وطن عزیز پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا۔ دو قومی نظریہ کیا تھا یہی کہ ہندو اور مسلمان اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ دونوں کی تہذیب تمدن اور ثقافت الگ الگ ہے مسلمان برصغیر میں اسلام کی سربلندی کے لئے متحد و منظم ہو کر حصولِ آزادی کے لئے میدان عمل میں اُترے، چنانچہ قافلہ حریت کی لازوال قربانیاں کام آئیں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ یہ تمام کہانیاں تاریخ کا حصہ ہیں، ان کو یاد رکھنا زندگی کا اہم جزو ہے مگر افسوس کہ حصول آزادی کے بعد ہم اس منزل تک نہ پہنچ سکے جس کا تعین قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کیا تھا۔

تحریک پاکستان کے دوران شیعہ، سنی، دیو بندی، بریلوی، اہلِ حدیث سب ایک تھے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں قوم نے جلد اپنی منزل پا لی۔ لیکن پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد ہم نے اس وحدت اور یگانگت کو پارہ پارہ کر دیا۔ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن قوتیں کب یہ گوارہ کرتیں کہ دنیا کے نقشے پر وجود میں آنے والا ملک ترقی سے ہمکنار ہو، چنانچہ پاکستان کے دشمنوں نے اپنے آلہ کاروں کے ذریعے ہمارے اندر نفاق ڈالنا شروع کر دیا۔ ہماری صفوں میں دراڑیں ڈالنے کے لئے انہوں نے ہمارے ہی بندوں کو خریدنا شروع کر دیا، ہوس زر میں مبتلا دھن دولت کے پجاری بکتے رہے اور ہماری جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے اپنی مذموم سازشوں اور بھیانک کارروائیوں میں مصروف رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے خود فرقوں، علاقوں، زبانوں اور مذہب کے نام پر ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنا شروع کر دیا۔

ہمارا دشمن چالاک اور عیار ہے اس نے سوچا کہ وہ ہم سے سیدھی جنگ کرنے کی بجائے ہمارے درمیان پھوٹ ڈال دے تاکہ ہم دست و گریبان ہو کر ایک دوسرے کو خود ہی ختم کر دیں۔ یہ ہماری فہم و فراست، شعور اور آگاہی کا امتحان تھا جس میں ہم اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سے ناکام ہوئے اور ملت کے غداروں کو اپنا دوست سمجھ بیٹھے۔ان کے اشاروں پر چل کر ہم ناقابل تلافی نقصان اٹھا رہے ہیں قیامِ پاکستان کے وقت نہ کوئی پنجابی تھا نہ بلوچ، نہ پٹھان اور نہ ہی سندھی،بلکہ سب ایک تھے،ایک جسم کی طرح ایک قوم تھی ایک ملت تھی جس کے عظیم جذبوں نے اقوام عالم کو حیران کر دیا تھا اور یہی بات دشمنان اسلام دشمنان پاکستان کو کھٹک رہی تھی چنانچہ پاکستان کے وجود میں آتے ہی انہوں نے سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا تاکہ پاکستان کا شیرازہ بکھیر سکیں۔

ایک وقت تھا جب پاکستان بنانے کی فکر تھی اس وقت قوم دفاعی اعتبار سے کمزور تھی، معاشی اور اقتصادی وسائل بھی محدود تھے، مگر اُس وقت قوم متحد تھی اس لئے وہ اپنا الگ اور آزاد وطن بنانے میں کامیاب ہو گئی۔آج وہی ملک وہی ریاست ایٹمی قوت ہے جس کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ہماری بہادر مسلح افواج جن پر ہر پاکستانی کو فخر ہے، جنہوں نے بلا شبہ وطنِ عزیز کو ناقابلِ تسخیر قوت بنا دیا ہے،مُلک میں اس وقت لولی لنگڑی جمہوری حکومت ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم انتشار کا شکار ہیں، دراصل بات یہ ہے کہ جس طرح قوم کو ملک بنانے کی فکر تھی،آج تمام پاکستانیوں کو ایک قوم بن کر ملک بچانے کی فکر کرنے کی ضرورت ہے آج تمام محب وطن لوگوں کو ملک بچانے کی فکر لاحق ہے، ضرورت ہے کہ قوم پھر اسی جذبے سے اُٹھے، ایک صف میں کھڑی ہو تمام بڑے بڑے لیڈر اپنے مفادات کو چھوڑیں، جس پاکستان نے ان لیڈروں کو محلات دیئے،بڑی بڑی جائیدادیں دیں، ہندو کی غلامی سے نجات دلائی،اپنے شہریوں سے اپنے باسیوں سے اپنے خیر خواہوں سے آج پھر اتحاد یگانگت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ہم اگر یہ عہد کر لیں کہ ہم فرقہ واریت چھوڑ دیں پاکستانی مسلمان بن جائیں۔پاکستانی مسلمان اس لئے لکھا ہے کہ دنیا میں اور بہت سے مسلمان ہیں جو خود کو فلاں فلاں لکھتے ہیں ساری دنیا کے مسلمانوں کا ایک ہونا تو بہت مشکل ہے ہم مسلمان تو ہیں مگر پاکستانی ہونا بہت ضروری ہے۔

طاقتور لوگوں اور حکمرانوں کو سوچنا ہے کہ ہم وطن عزیز کے دفاع، سلامتی، عوامی فلاح و بہبود اور معیشت کی مضبوطی کے لحاظ سے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لحاظ سے کیا کر رہے ہیں۔؟ صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلایا جا رہا ہے، محض بول بچن اور بلند بانگ دعوے ہیں اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے، سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں دشمن دوبارہ غلط راستے پر چلانے کی کوشش تو نہیں کر رہا تاکہ ہمارا ملک دوبارہ تباہی اور بربادی کی طرف نہ چلا جائے جس طرح مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا تھا۔ نریندر مودی اب برسر اقتدار ہے،اس نے بنگلہ دیش کو بنانے میں فخر کا اظہار کیا تھا،اس نے بلوچستان کے بارے میں بھی ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ محب وطن پاک فوج اور طاقت ور اداروں کو پاکستان کے دشمنوں کو ہر صورت میں صفحہ ہستی سے مٹانا ہوگا تاکہ ملک سلامت رہے اور شہیدوں کے خون سے وجود میں آنے والا ملک قیادت تک دنیا کے نقشے پر قائم رہے۔*

مزید : کالم