نئی صف بندیاں

نئی صف بندیاں
 نئی صف بندیاں

  

سیاست میں قربتیں اور فاصلے کبھی یکساں نہیں رہتے۔ کبھی قربتیں بڑھ جاتی ہیں فاصلے گھٹ جاتے ہیں فاصلے بڑھ جائیں تو قربتیں گھٹ جاتی ہیں۔ ان میں اضافے اور کمی بیشی معمول کی بات ہے۔ سیاسی فاصلے اور سیاسی قربتیں کبھی پائیدار نہیں رہتی ہیں۔ پاکستان کے سیاسی مد وجزر میں آجکل اتار چڑھاؤ اپنے عروج پر ہے۔ یہ پیش بندیاں اور صلح جوئی2018ء میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت العلمائے اسلام دو متحارب گروپ رہے ہیں اور سیاسی افق پر ان کی سرگرمیاں ہمیشہ معاندانہ ہی رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو ایک زمانے میں مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمودؒ کے مد مقابل رہے بلکہ تحریک نظام مصطفی میں قومی اتحاد کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ مفتی محمود تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی سربراہی ذوالفقار علی بھٹو نے کی۔ آج مفتی محمودؒ اور بھٹو کی اولادیں سیاسی افق پر باہم شیرو شکر ہوتی نظر آ رہی ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو خود مولانا فضل الرحمن کوملنے گئے۔ اخباری خبر کے مطابق بلاول بھٹوکو ان کے والدآصف زرداری نے خود مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں اہم پیغام کے ساتھ بھیجا۔ ممکن ہے یہ مدوجزر بلاول میں ان کی سیاسی تربیت کا حصہ ہو، کیونکہ بلاول خواہ عہدہ کے لحاظ سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہی کیوں نہ ہوں ، وہ عمر اور تجربہ کے لحاظ سے ابھی کم سن ہیں۔ اخباری خبروں کے مطابق بلاول بھٹو اپنے والد آصف علی زرداری کا اہم پیغام لے کر مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں گئے اور انہوں نے مولانا سے انکوائری کمیشن بل پر حمایت طلب کی، جس پر مولانانے اس معاملے میں ان کو حمایت کی یقین دہانی نہیں کرائی،بلکہ صاف انکار کر دیااور کہا کہ وہ حکومتی اتحاد میں شامل ہیں، اِس لئے اس معاملے میں وہ ان کی حمایت کرنے سے قاصر ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا جواب اصولی ہے، لیکن یہ بات اپنی جگہ وزن رکھتی ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں اصول ٹوٹنے میں بھی دیر نہیں لگتی نہ ہی دوبارہ جوڑنے میں بھی کسی خاص الفی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل قریب یا بعید میں سیاسی افق پر کیا نمودار ہو۔

پاکستان کی سیاسی فضا ہمیشہ متلاطم ہی رہی ہے۔ اس تلاطم خیز فضا میں مائنس ون فارمولے کی بازگشت بھی نئی نہیں ہے۔ یہ فارمولا کئی مرتبہ اخبارات کی زینت بنا۔ مخالف و موافق بیانات بھی سامنے آتے رہے۔ حالات کے تناظر میں اس فارمولے کا جائزہ لیا جائے تو اس کے نتائج ہمیشہ مثبت نہیں منفی ہی نکلے اور ہمیشہ بڑی بڑی سیاسی متحدہ قوتوں کو شکست و ریخت ہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لئے مائنس فلاں فلاں کی بجائے حالات کے دھارے کو اپنے رخ پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہو گا۔ سیاسی حالات کے تناظر میں اپنی خواہش کو فوقیت دینے کا رجحان ہمیشہ خطرناک ہی رہا ہے۔

اس حوالے سے یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اپنی خواہش اور اپنی فکر کو فوقیت دینے کے لئے جتھہ بندی کر کے تشدد کی راہ اپنانے کی کوشش کرنا اور مسائل کو سڑکوں اور گلی کوچوں میں عددی برتری جمع کر کے خود کو برسبیل حق خیال کرنا انتہائی منفی رویہ ہے کہ اس رویہ کی وجہ سے حالات میں سدھار کی بجائے اُلجھاؤ پیدا ہوتا ہے۔ فیصلے کبھی سٹریٹ پاورسے نہیں ہوتے۔ ہمارا ملک ماضی میں اس کے بھیانک نتائج بھگت چکا ہے۔ 1970ء کی دہائی اس کے ثبوت کے لئے کافی بڑی دلیل ہے۔ جب ایک پارٹی نے سٹریٹ پاور کے ذریعے حالات کا رُخ بدلنے کی کوشش کی تو مظلوم عوام خاکی وردیوں اور کالے بوٹ والوں کی طرف ہی حسرت بھری نگاہوں سے تکتے رہے اور جب وہ آگئے تو لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا اور ان کو مرحبا جی آیاں نوں ہی کہا۔حلوے بانٹے۔خوشیاں منائیں۔ اس لئے سیاست کاروں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیں اور مُلک میں ایسے حالات پیدا نہیں کرنے چاہئیں کہ جن کی وجہ سے ہمارے بہادر فوجیوں کے کندھوں پر مزید دہری ذمہ داری آ جائے اور ان کو بیرونی جارحیت کے ساتھ ساتھ اندرونی جارحیت سے بھی نبرد آزما ہونا پڑے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس وقت ہمارا پڑوسی دشمن مُلک تاک میں ہے، گھات لگائے بیٹھا ہے۔ کب پاکستان اندرونی خلفشار کا شکار ہواور کب ہم پاکستان کے لئے مشکل پیدا کریں۔*

مزید : کالم