سید کام کرتا تھا۔۔۔ سرسید احمد خان، ایک نابغہ

سید کام کرتا تھا۔۔۔ سرسید احمد خان، ایک نابغہ
 سید کام کرتا تھا۔۔۔ سرسید احمد خان، ایک نابغہ

  

سر سید احمد خان وقت سے پہلے پیدا ہو جانے اور اپنی علمی و فکری روشن خیالی اور مستقبل بینی کے سبب ملحدِ ’’وکرسٹان‘‘ قرار دیئے گئے، کبھی ’’نیچری‘‘ کہلائے اور بالآخر کفرو ارتداد کے مسلسل فتوؤں کی زد میں رہے، مگر اپنے نصب العین سے پیچھے نہ ہٹے۔۔۔انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا، اَن تھک محنت، جاری و ساری مخلصانہ لگن اور دن رات ایک کر دینے کی ذہنی و جسمانی مشقت سے انہوں نے عالمی سطح پر فقید المثال تعلیمی ادارہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی صورت میں بنا کر دکھا دیا، جس کام کو اکثر زعمائے ملت مشکل، بلکہ ناممکن خیال کرتے تھے، وہ ممکن ہو گیا۔ ایسا ہی کچھ ہمارے مُلک میں موٹروے کی تعمیر کے وقت ، منفی رویہ دیکھنے کو ملا تھا اور اب اُسی منفی رویے کے حامل افراد موٹروے پر آرام دہ سفر کرتے ہیں تو معماروں کو ’’عہدِ موجود کا شیر شاہ سوری‘‘ کہہ کر رطب اللسان ہوتے ہیں، یہی کچھ ’’شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال و ریسرچ سینٹر‘‘ کے قیام کے حوالے سے ہُوا۔ ہر بات کو منفی انداز میں دیکھنے والوں نے اِس عظیم الشان منصوبے کو ناممکن العمل قرار دیا تھا، مگر اب ہسپتال نہ صرف یہ کینسر کے مریضوں کی آخری اُمید اور صحت یابی کی آخری آماج گاہ کے طور پر لاہور کے وسیع رقبے پر ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے،بلکہ سینکڑوں لاعلاج مریضوں کو بعض اوقات مکمل شفا یاب بھی کر دیتا ہے اور مکمل نہیں تو کم از کم دو چار دس مہینے، سال، دو سال، چار پانچ سال زندگی بڑھا دیتا ہے، میری ایک بھانجی اگرچہ اِسی ہسپتال سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئی، مگر ایک اور بھانجی صحت یابی کی روشن مثال بن کر شوکت خانم ہسپتال کے لئے دُعا گو نظر آتی ہے۔ مَیں خود اِس ہسپتال سے زیادہ ریسرچ سینٹر میں زیر علاج رہ کر زندہ سلامت متحرک ہوں اگرچہ اس میں زیادہ کام قرآنی معجزے کا ہے جو پہاڑوں پر اُترتا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتے، جب مقرر بے بدل میرے محبِ عزیز و قدیم حضرت آیت اللہ عقیل الغروی نے میرے دِل سے جُڑی ہوئی گدر انار جیسی گِلٹی پر قرآنی آیات کا دَم کیا اووہ گلٹی مائع بن کر رواں پانی کی طرح بہہ نکلی تو شوکت خانم کے تمام ڈاکٹر لیڈی ڈاکٹرز انگشت بہ دنداں رہ گئے اور آپریشن کا اہتمام دھرے کا دھرا رہ گیا۔ پھر تو انہیں لکھ کر دینا پڑا کہ آپ ہمارے’’ نان کینسر پیشنٹ‘‘ تھے،

ہمارے ہاں کینسر کے مریضوں ہی کا نہیں ہر طرح کے مریضوں کا علاج ہوتا ہے، اپنی یاد نگاری کے ضمن میں کہاں سے کہاں جا پہنچا؟ ذکرِ خیر تو دراصل سر سید احمد خان کا مقصود ہے کہ جو اُس دلی میں پیدا ہوئے جو کبھی بقول میر ’’دِلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب‘‘ اسی منتخبِ زمانہ شہر میں ایک متمول خاندان میں سر سید احمد خان نے جنم لیا۔کھاتے پیتے گھرانے کے فرد ہونے کی حیثیت سے پڑھ لکھ کر منصفی کے عہدے تک پہنچے تو باقی تمام زندگی آرام و سکون ، اطمینان اور آسودگی سے گذار سکتے تھے، مگر قوم کے درد نے انہیں ریفارمر بنا دیا۔ ایک عظیم مصلح قوم کی حیثیت سے اپنی ذاتی حیثیت کو بھلا کر کشکول بدست سرگراں پھرے۔گوہرِ مراد پا لیا تو وقتِ مرگ فقیری تھی، عُسرت تھی، تنگ دستی تھی، حتیٰ کہ سکندر کی طرح دونوں ہاتھ خالی جہانِ فانی سے عالمِ جاودانی کو سدھارے۔ اس حد تک ہاتھ خالی کہ کفن بھی چندے ہی کا میسر آیا، تمام زندگی قوم کی خاطر چندہ جمع کرنے والے کو کیا پتا تھا کہ قوم اُس کے احسانوں کا بدلہ کفن کی صُورت میں بھی چندہ دے کر ہی اتارے گی۔!

سر سید احمد خان کاغذ، قلم، حرف و لفظ کی حرمت و عظمت سے بخوبی آگاہ تھے، وہ جانتے تھے کہ تحریر کبھی ضائع یا زائل نہیں ہوتی۔انہوں نے اپنی دیگر عملی اور جان لیوا مصروفیات سے قطعِ نظر اتنا لکھا، اس قدر لکھا، اور اتنا اچھا لکھا کہ صاحبِ اسلوب قلم کار ٹھہرائے گئے۔انہوں نے ایک ماہانہ ادبی و علمی و فکری و تعلیمی جریدہ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کے نام سے جاری کیا جو صدیوں پر محیط ہوتا ہُوا ہنوز جاری ہے‘‘۔آثار الضادید، اُن کی ایک مشہورِ زمانہ تالیف و تصنیف ہے۔’’مضامین سر سید‘‘ کے عنوان سے کئی جلدوں پر مشتمل اُن کے علمی، تعلیمی اور اخلاقی مضامین کو اکٹھا کرکے ’’مجلسِ ترقی ادب لاہور‘‘ سے شائع کرایا گیا ہے اور اس طرح مرتب و ناشر نے خود کو بھی لازوال بنا لیا ہے۔

سر سید احمد خان کو ہومیو پیتھی طریقِ علاج سے بھی خصوصی شغف تھا اور وہ شوقیہ طور پر ہومیو پیتھی کے ذریعے مریضوں کا علاج معالجہ بھی کرتے تھے۔مَیں نے ایک مضمون’’سر سید احمد خان اور ہومیو پیتھی‘‘ کے عنوان سے سید عطا حسین کلیم مرحوم کے ماہانہ جریدے’’ہومیو پیٹھی‘‘ راولپنڈی کے لئے بھی لکھا تھا۔ موضوع کی انفرادیت کے سبب وہ بے حد پسند بھی کیا گیا تھا۔ مگر افسوس اُس کی نقل یا اصل اب میرے پاس موجود نہیں۔ یہ ایک محققانہ کاوش تھی جو چَھپ کر چَھپ گئی۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ سر سید احمد خان جدید علوم و فنون سے نہ صرف والہانہ شغف رکھتے تھے بلکہ اُن کو آزماتے، پرکھتے بھی تھے اور صرف مشاہدے پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے خود تجربہ بھی کر کے دیکھتے تھے۔ لندن میں عظیم تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا عمیق نظر سے مشاہدہ کرنے کے بعد علی گڑھ واپس آ کر تجربہ بھی کر کے دیکھا اور کامیاب تجربے میں نام بنایا اور کام دکھایا۔ایسا کام جو رہتی دُنیا تک ان کے شجرۂ عمل کو آسودگی بخشتا رہے گا۔!

سر سید احمد خان کے حوالے سے لکھے گئے گزشتہ کالم کے آغاز میں ایک مشہورِ زمانہ مصرع:

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا تھا

مولانا الطاف حسین حالی کے نام لگا دیا گیا ہے۔ مَیں اپنی اس کوتاہی کو تسلیم کرتے ہوئے لکھ رہا ہوں کہ دراصل یہ اکبر الٰہ آبادی کا سر سید احمد خان کو خراجِ تحسین تھا۔مولانا حالی کا نہیں۔۔۔۔۔۔!

اکبر الٰہ آبادی کا پوراشعر اس طرح ہے:

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سیّد کام کرتا تھا

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

مَیں اِس ضمن میں ملتان کے بشیر احمد راٹھور صاحب کا بھی ممنون ہوں کہ اُنہوں نے فون کر کے اس ’’بلنڈر‘‘ کی طرف میری توجہ دلائی، جبکہ مَیں لکھنے کے بعد خود کر وہ حماقت کی اصلاح کرنے کی پوزیشن میں تھا مگر بروقت درستی نہ کرائی جا سکی اور ’’بلنڈر‘‘ سرزد ہو کے رہا۔بہرحال بے حد معذرت!!*

مزید : کالم