پرویز رشید تیرے ’’خون‘‘ سے ۔ ’’انقلاب‘‘ آ گیا۔۔۔؟

پرویز رشید تیرے ’’خون‘‘ سے ۔ ’’انقلاب‘‘ آ گیا۔۔۔؟
پرویز رشید تیرے ’’خون‘‘ سے ۔ ’’انقلاب‘‘ آ گیا۔۔۔؟

  

کہتے ہیں کسی چودھری کے بیٹے نے قتل کر دیا، اس کا باپ، ایک وکیل سے ملا کہ ’’میرے بیٹے کا مقدمہ لڑو‘‘ ۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا ٹھیک ہے، چودھری نے پوچھا فیس کیا لو گے؟

وکیل نے کہا ’’25سولوں گا‘

چودھری نے کہا، اتنی کم فیس کا مطلب ہے، تو اچھا وکیل نہیں، میں تو کسی بڑے وکیل کو مقدمہ سپرد کروں گا‘‘

کچھ عرصے کے بعد، وہ چودھری اسی وکیل کو سر راہ ملا، تو وکیل نے پوچھا، ’’چودھری صاحب! سنائیں بیٹے کے مقدمے کا کیا بنا؟‘‘

چودھری نے کہا’’اس کو تو پھانسی ہو گئی۔۔۔!‘‘

وکیل نے پوچھا ’’وکیل کو کتنی فیس دی تھی؟‘‘

کہنے لگا’’25لاکھ فیس دی، پھر بھی پھانسی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔‘‘

وکیل کہنے لگا’’بلا وجہ اتنی بڑی رقم خرچ کی، یہی کام ، میں نے 25سو میں کر دینا تھا۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔

یہ ’’واقعاتی‘‘ لطیفہ، مجھے ، آج شدت سے یاد آ رہا ہے، لیکن میں اس لطیفے پر قہقہے لگانے کی بجائے، افسردہ ہوں، مجھے، اپنی ’’سیاسی قیادت‘‘ کے بعض ’’چہروں ‘‘ کی سوچ اور ’’کہہ مکرنیوں‘‘ پر افسوس اور ’’عاقبت نا اندیشانہ‘‘ فیصلوں اور ’بے سوچے‘ اپنے وابستگان کے جذبات سے ’’کھیلنے‘‘ پر از حد دکھ محسوس ہو رہا ہے۔

میں سوچ رہا ہوں کہ دہشت گردی و تخریب کاری کی ماری، پاکستانی قوم، کو مزید تقسیم در تقسیم کرنے اور مختلف طبقات میں نفرت اور بے گانگی کی آگ لگانے، علاقائی اور صوبائی تعصبات کے شعلے بھڑکانے اور ایک دوسرے کے خلاف، مرنے مارنے کے للکاروں کے ساتھ، صف آرا کر دینے سے، کون سے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔۔۔۔؟

ایک طرف، دشمن، مسلسل سرحدوں پر حملہ آور تھا اور سرحدی دیہات کے معصوم لوگوں پر آگ برسا رہا تھا اور دوسری طرف ، لیڈر تھے کہ جو قوم کو پٹھان اور پنجابی بنا کر لڑانے پر تلے تھے۔۔۔۔۔۔

عین اس وقت بھی، جبکہ ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ، اپنے مسلح پروٹوکول اور ہزاروں ہمراہیوں کے ساتھ، وفاقی دارالحکومت میں (ہرحال میں) داخل ہونے کے لئے، اپنے لوگوں کے خون کو گرما رہا تھا اور مسلسل انگیخت کر رہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تمام رکاوٹوں کو توڑ دو ‘(راہ میں لگے) کنٹینروں کو دریائے سندھ میں پھینک دواور دوسری طرف دوسرے صوبے اور وفاق کے اداروں کے ’سپاہی‘ ڈٹ کر، آنسو گیس کے گولے(اپنے ہی پاکستانی بھائیوں پر ) پھینکنے کے احکامات کی تعمیل میں لگے تھے، عین اسی دوران بھارت، نکیال اور دیگر سرحدی علاقوں پر ، شدید گولہ باری میں لگا تھا (اور اس کے نتیجے میں کئی معصوم پاکستانی شہید اور زخمی بھی ہو گئے) مگر ہماری سیاسی قیادت، ڈنڈ بیٹھکیں لگا کر اپنے حواریوں کو واضح الفاظ میں، حکومتی اداروں کے لوگوں سے ’’لڑنے‘‘ کے لئے تیار رہنے کی ہدایات دے رہی تھی۔۔۔

پوری دنیا میں ، جگ ہنسائی ہو رہی تھی، پاکستان کا بچہ بچہ، آنے والے حالات سے خوف زدہ تھا، اندیشے تھے کہ عفریتوں کی صورت، منہ کھولے لپکے چلے آ رہے تھے، سبھی خیر کی دعا مانگ رہے تھے، مگر کوئی تھا جو پھر بھی ، ’’ڈٹا‘‘ ہوا تھا اور کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔۔۔۔۔۔ ایسے میں سپریم کورٹ نے جب ’’کمیشن‘‘ بنانے کی بات کی تو، ’’انا پرستوں‘‘ کے ’’انا پرست‘‘ نے بھی، ٹھنڈا ٹھار ‘اعلان‘ ذ کر دیا ۔۔۔ اور میں سوچنے لگا، اگر ’’سپریم کورٹ کے کمیشن‘ پر ہی ٹھنڈا ہوتا تھا، تو چھ ماہ پہلے بھی ہوا جا سکتا تھا، قوم کو اندیشوں میں مبتلا کرنے اور ملک کے ’’ناقابل بیان بھاری نقصانات‘‘ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

جناب عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا تو، یہ بات، عام ہو گئی کہ اس بار ’’امپائر‘‘ ہر حال میں ’’انگلی‘‘ ضرور اٹھائے گا۔ تحریک انصاف کے بعض مرکزی ذمہ داران کی اپنی پارٹی میٹنگوں میں، صراحت سے، اس طرح کی باتیں دہرائی گئیں، شیخ رشید تو مسلسل یہی تاثر پھیلائے اور ’’قربانی قربانی‘‘ کی رٹ لگاتے پھرے، اسی دوران میں ’’ڈان‘‘ میں چھپنے والی ایک خبر کے حوالے سے، بعض ’’طاقتوروں‘‘ کی ناراضی کو بھی بڑھا چڑھا کر بیان کیا جانے لگا، کئی چینلوں پر بیٹھے ’طوطے‘ مسلسل راگ الاپ رہے تھے کہ ’’حکومت گئی سو گئی‘‘ ’’حکومت نہیں تو وزیر اعظم کی چھٹی تو پکی ہے۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔ چند ایک تھے جو شرطیں باندھ رہے تھے کہ آج رات ’پی ایم‘ تبدیل ہو رہا ہے (حالانکہ ہر رات P.Mتبدیل ہوتا ہے، رات بارہ کے بعد P.Mکی جگہ A.Mآ جاتا ہے اس میں شرطیں باندھنا عبث ہی ہے)

’’نادیدہ ہاتھوں‘‘، ’’طاقت ور حلقوں‘‘ کی ناراضی اور ’’امپائر کی انگلی اٹھنے‘ کا پروپیگنڈا، اتنا عام اور اتنا پر زور تھا کہ بعض ’’راسخون فی العلم‘ بھی گھبرا گئے اور خدشہ ظاہر کرنے لگے کہ ’’شاید، اب کی بار، ایسا ہی ہو ۔۔۔۔۔۔‘‘(ہم اس صورتحال پر گزشتہ جمعتہ المبارک کے کالم میں، وضاحت سے لکھ چکے ہیں کہ اس ’’تاثر‘ کی کوئی حیثیت نہیں رہی نہ ہی موجودہ ملکی حالات میں ایسا ممکن ہے، یہ محض افواہ ہے اور حالات بدل چکے ہیں، خود شیخ رشید کہہ چکے ’’قربانی طے تھی، مگر قصائی ہی بھاگ گیا۔‘‘ دوسرے، اگر قادری صاحب آ گئے تو واضح ہو گا کہ ان کی شرط پوری ہو گئی ہے، کسی ذمہ دار‘‘ نے ان سے بات کر لی ہے اور ان کے نہ آنے پر صاف ہو جائے گا کہ ’’امپائر‘‘ کے اشاروں کی بات غلط ہے، اسی طرح جس طرح پچھلے دھرنے میں جھوٹی پھیلائی گئی تھی۔۔۔۔۔۔

بعض ’’طاقتوروں‘ ‘کی ’’ناراضی اور غصے‘ کا تاثر پھیلانے والے اس کثرت اور تواتر سے شور مچا رہے تھے کہ الامان و الحفیظ ! ایسے میں حکومتی ، ’’اعلیٰ سطحی‘‘ وفد کی چیف آرمی سے ملاقات نے اپنی اہمیت اور ملک و ملت کے مفاد میں، اپنی افادیت کی مہر ثبت کر دی، (جس طرح ہم نے جمعتہ المبارک کے کالم میں بھی لکھا تھا کہ) اس ملاقات کے بہرحال، اچھے اثرات مرتب ہوئے اور وہ (بے بنیاد) پروپیگنڈا، جو حکومت اور پاک فوج کے درمیان دوریوں پر کیا جا رہا تھا، وہ سراسر غلط ثابت ہوا اور اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی ۔۔۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ’’پرویز رشید کو قربان کر کے، حکومتی زعما اور بڑوں نے اپنے آپ کو بچا لیا ہے۔۔۔‘‘

اس حوالے سے چوہدری نثار کی پریس کانفرنس پر، قدرے صاد کرتے ہوئے، ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ’’پرویز رشید ایک مثالی سیاسی ورکر ہے، جس نے اپنے نظریات اور اپنی جماعت کے لئے، بارہا ’’قربانیاں‘‘ دی ہیں اور صعوبتیں جھیلی ہیں، اس کی حب الوطنی اور اپنی قیادت سے وابستگی نے ایک بار پھر، اپنے آپ کو ثابت کر دیا ہے وہ اپنی جدوجہد سے اوپر تک گیا تھا، حقیقتاً وہ ’’سیلف میڈ‘‘ آدمی ہے، اگر اس کی قربانی سے ملک و ملت کا کوئی بھلا ہو گیا ہے اور کسی بڑے نقصان کی راہ رک گئی ہے تو یہ بھی اچھا ہی ہوا ہے۔۔۔۔۔۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی معرکے موجود ہیں کہ جب کسی چھوٹی پارٹی نے اسلام آباد کی طرف رخ کیا، راولپنڈی سے آگے بڑھے یا کسی اور شہر سے نکلے تو ’’کام دکھانے والوں‘‘ نے حکومت کو چلتا کیا، اس بار، پروپیگنڈا بھی تھا اور کے پی کے کی طرف سے، وزیر اعلیٰ کی قیادت میں، ایک ’’لشکر‘‘ بھی بڑھتا چلا آ رہا تھا، اگر کسی ’’امپائر کی ترغیب یا کسی ’’طاقت ور‘ کی ایما ہوتی تو، اب تک بہت کچھ ہو چکا ہوتا، مگر ایسا بالکل نہ تھا۔ دس لاکھ کا مجمع اکٹھا کرنے کے دعوے بھی ’’بے بنیاد‘‘ ثابت ہوئے، ’’مرنے مارنے‘‘ کے نعرے لگانے والے بھی دکھائی نہ دیئے، گزشتہ روز ’’بنی گالہ‘ میں ایک بڑی تعداد تھی، جو رات گذرنے کے ساتھ کہیں چلی گئی، صبح کپتان آیا تو تھوڑے ہمراہی تھے، وزیر اعلیٰ کے پی کے کو برھان انٹرچینج پر فتح نہ ملی تو واپس ہو گئے، سپریم کورٹ میں (اپنی ہی رٹ پر) معزز عدالت نے کمیشن کی بات کی تو ’’سر تسلیم خم‘‘ ہو گیا ۔۔۔۔۔۔اسلام آباد کو ’’ہر حال میں بند کرنے‘‘ کی باتوں سے رجعت اختیار کرتے ہوئے، اسلام آباد ہائی کورٹ ہی کی تجویز کردہ، گراؤنڈ (کو نہ ماننے کے اعلان کے باوجود) قبول کر کے، پرامن، مختصر جلسہ کرنے اور امن و امان سے، واپس گھروں کو چلے جانے اور سپریم کورٹ میں ’’قانونی جنگ‘‘ لڑنے کا عندیہ دے دیا گیا ۔۔۔۔۔۔ چودھری نثار نے ’’عمران خان کے فیصلے‘ ‘ کی تحسین کی ہے اور میں پھر سوچ رہا ہوں، چودھری نے چھوٹا وکیل نہ کر کے اچھا کیا تھا یا برا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور میرا ایک دوست پوچھ رہا ہے ، ’’کھائے پیئے بغیر جو گلاس توڑا گیا ہے،اس کی قیمت کون بھرے گا۔۔۔۔۔۔؟

مزید : کالم