’’کشیدگی کے تنور میں سرد پانی کی ٹینکی‘‘

’’کشیدگی کے تنور میں سرد پانی کی ٹینکی‘‘
 ’’کشیدگی کے تنور میں سرد پانی کی ٹینکی‘‘

  

جب ملکی حالات کسی نازک دور سے گزر رہے ہوں تو ان کے مروُر کی لمحہ بہ لمحہ داستان سنانے، بتانے اور دکھانے کا کام پرنٹ میڈیا نہیں کرسکتا۔ یہ کام الیکٹرانک میڈیا (ای میڈیا) ہی کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں تک تازہ ترین خبر کی ترسیل و اشاعت کا تعلق ہے تو یہ کام ای میڈیا ہی کے کرنے کا ہوتاہے۔

آج 2نومبر (2016ء) ہے اور اگر اس تناظر میں دیکھا جائے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا 24/7 کیسا چل رہا ہے تو معلوم ہوگا کہ پرنٹ میڈیا، ای میڈیا کے سامنے یا ساتھ ساتھ نہیں بلکہ اس کے بہت پیچھے کہیں کھڑا ہے۔ اور جہاں تک تبصروں اور تجزیوں کا معاملہ ہے تو وہ تو مزید پیچھے چلے جائیں گے۔ سبب یہ ہے کہ جب تک کوئی واقعہ (از اول تا آخر) مکمل نہیں ہو جاتا تجزیہ کار یا تبصرہ نگار اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔ اگر کرے گا تو وہ ادھورا اور خام ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں اخباروں کے ادارتی صفحات، زمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کے اخباری صفحات سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔۔۔

تبصرہ نگار یا کالم نویس کی یہ محدودیت کہ وہ گھڑی کے ساتھ نہیں چل سکتا، ایک طرح سے اس کی مقدوریت بھی ہے۔ تبصرہ یا تجزیہ کسی واقعہ کا ہم عصر تو ہوتا ہے، ہم عمر اور ہم نفس نہیں ہوتا۔ عمر کی ہر سانس، ہر لحظہ متبدّل اور متغّیر ہوتی رہتی ہے۔ لازم نہیں ہوتا کہ ان سانسوں / لحظوں کا رخ، مسلسل کسی ایک سمت میں ہو۔ ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ آج جو چیز سفید نظر آتی ہے، وہ آنے والے کل میں بھوری یا سیاہ بھی بن جاتی ہے۔ یہی تبدیلی ہے جو پرنٹ میڈیا کے کالم نگار کو حالات و واقعات کا ایک معروضی اور متوازن جائزہ لینے کے قابل بناتی ہے۔ یہی اس کی مقدوریت (Capability) ہے۔ اس کے پاس لمحاتِ گریزاں کے مناظر بھی ہوتے ہیں اور وہ اوقاتِ مشاہدہ بھی جو اسے غور و فکر بلکہ استغراق کے مواقع عطا کرتے ہیں۔ایسے میں اس کی نوکِ قلم سے جو الفاظ نکلتے ہیں اور جو تجاویز اس کے دل و دماغ سے پھوٹتی ہیں وہ کسی عاجل (Quick) فکر کی غماز نہیں ہوتیں بلکہ بہت سوچنے سمجھنے کے بعد نہاں خانہ ء خیال سے نکل کر صفحہ ء قرطاس پر پھیلتی ہیں۔

پاکستان میں ہم جو کچھ ایک ہفتہ عشرہ سے دیکھ رہے ہیں اس کا ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیا جائے تو پرنٹ میڈیا، ای میڈیا سے زیادہ معتبر ٹھہرے گا اور کالم نگار کا کالم، خبروں کے بے ہنگم ہجوم میں مجروح نہیں ہوپائے گا بلکہ طوفان گزر جانے کے بعد طوفان کے مابعدی اثرات کا تماشا کرنے اور اس کی وجوہات کے اندر زیادہ دور تک نکل کر جھانکنے کا بہتر موقع فراہم کرے گا۔ جہاں ای میڈیا دن رات ایک ہی رٹ لگاتا ہے اور تصویر کے چار کونوں کو کئی کونوں میں تقسیم کرکے پیش کرتا ہے وہاں پرنٹ میڈیا کا کالم نگار تصویر کو تقسیم نہیں کرتا بلکہ اسے یک جسم اور یک جان رکھ کر دیکھتا ہے کہ وہ کیسی لگتی ہے۔ اور پھر اس کے تمام گوشوں کو ایک فنکارانہ پختگی کے پیمانے سے ناپ کر تصویر کی خوبصورتی یا بدصورتی کی وضاحت کرتا ہے۔۔۔ پاناما لیکس اور ڈان لیک دونوں کو اکٹھا کرکے اگر اس کی ایک تصویر مرتب کی جائے تو اخبار کا کالم نگار بمقابلہ الیکٹرانک میڈیا کے پیشکار کے، ایک زیادہ واضح اور مکمل پکچر پینٹ کر سکے گا۔

یہ تمہید تھوڑی سی طولانی ہو گئی۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جب قوم کے سامنے کوئی ایسا مقدمہ زیر بحث ہو جس میں طرفین کے سٹیکس (Stakes) برابر برابر ہوں تو اس کی تفصیلات ای میڈیا پر زیادہ قبولِ عام پاتی ہیں جبکہ پرنٹ میڈیا وقت کی بگٹٹ دوڑتی رفتار نہیں روک سکتا۔ اس نے تو ایک خاص اور مقررہ وقت پر قارئین کے سامنے آنا ہوتا ہے، اس سے پہلے نہیں۔ تاہم لوگ کہتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ جام کو لبوں تک آتے آتے اتنی دیر ہو جائے کہ وہ بار بار بادہ نوش کے ہاتھوں سے پھسلے، پھر سنبھلے اور پھر پھسل کر آدھا زمین پر گر جائے اور آدھا ہونٹوں تک پہنچ جائے!عمران خان کے اسلام آباد لاک ڈاؤن کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ’’نیمے بروں، نیمے دروں‘‘ والا معاملہ پیش آیا ہے۔

کل سپریم کورٹ میں جب ساڑھے نو بجے صبح کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سرکاری وکیل سے فاضل عدالت نے بعض سوال پوچھے جس کا جواب سلمان بٹ نے یہ کہہ کر دیا کہ اس کے لئے وزیراعظم سے مشورہ کرنا ہے اور ان کو ایک دن کی مہلت درکار ہے۔ اس لئے وقت چاہیے۔ تاہم فاضل عدالت نے اٹارنی جنرل کو، پابند کیا کہ یہ کیس چونکہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے اور اس کو اس طرح تاخیر کا شکار نہیں بنایا جا سکتا تو بنا بریں ان سے کہا گیا کہ وہ دو گھنٹوں کے اندر اندر وزیراعظم کا جواب لے کر آئیں اور ایک بجے تک آکر بتائیں کہ وزیراعظم کا موقف اس سلسلے میں کیا ہے۔

چنانچہ اٹارنی جنرل کو تعمیلِ حکم کرنا پڑی۔ یکم نومبر کو ایک بجے کے بعد جب کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو برف کافی پگھل چکی تھی۔ اس سے پہلے ایک طرف تحریک انصاف اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی تھی اور دوسری طرف حکومتی وزراء بھی ٹس سے مس ہونے کے قائل نہیں تھے۔ تین چار روز سے چوہے بلی کا یہی کھیل جاری تھا۔ میرا خیال ہے شاید خان صاحب کو اندازہ ہو چکا تھا کہ پشاور سے آنے و الے قافلے کو ’’تھکاوٹ‘‘ کا سامنا ہے۔ اس قافلے نے گزشتہ رات بھر کافی شدائد برداشت کئے تھے۔ ایک تو موسم ایک دم بدل رہا تھا۔ دن اور رات کے درجہ ء حرارت میں کافی فرق آنے لگا تھا۔ اس لئے برہان انٹرچینج پر کل صبح (یکم نومبر) 8بجے ہی خان صاحب نے وزیراعلیٰ کے پی کو پیغام بھجوایا کہ قافلے کو برہان انٹرچینج سے واپس صوابی لے جایا جائے اور تھکن کے مارے اہلِ قافلہ کو آرام کا موقع دیا جائے۔ ان کو سیر ہوکر ناشتہ کروایا جائے اور اس کے بعد بنی گالہ روانہ کر دیا جائے۔ دریں اثناء ٹیلی ویژن والوں کی کوریج مسلسل جاری رہی۔ یہاں تک بھی آن ائر کیا گیا کہ پرویز خٹک صاحب اپنی گاڑی میں کل کی تھکن سے چور اب استراحت فرما رہے ہیں۔ ویسے بھی خٹک صاحب دھان پان جسم و جان کے مالک ہیں۔ لیکن باوجود اس کے وہ سارا دن قافلہ سالاری کرتے رہے اور پھر رات بھر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رہے۔۔۔ پاکستان کی تاریخ ان کی عمر اور ان کے نحیف الجسم ہونے کے باوجود ان کی استقامت، ان کے فولادی عزم اور ان کی اپنے قائد کے ساتھ والہانہ وابستگی کو یاد رکھے گا۔

وہ ابھی صوابی ہی میں تھے کہ ان کو عمران خان کا فون آیا کہ سپریم کورٹ نے کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس لئے کل 2نومبر کو یومِ تشکر منایا جائے۔ دونوں فریق کمیشن کی تشکیل پر رضامند ہو گئے۔ حکومت کے TOR (ٹرمز آف ریفرنس) تو فاضل عدالت کے سامنے پیش کر دیئے گئے لیکن جب عدالت نے تحریک انصاف کے TOR کا مطالبہ کیا تو وہ فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔ چنانچہ فیصلہ صادر ہوا کہ اگر جمعرات (3نومبر 2016ء ) کو طرفین کسی TOR پر متفق نہ ہوئے تو عدالت اپنے TOR دے گی اور ان کے مطابق کیس کی سماعت آگے بڑھائی جائے گی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ 3نومبر کے بعد یہ سماعت اب مسلسل ہو گی اور اس میں بلاوجہ عدالتی التواء نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان کئی بار یہ بات ببانگ دہل کہہ چکے تھے کہ اگر حکومت متفقہ TOR مان کر کمیشن تشکیل دے دے تو وہ 2 نومبر کے دھرنے کی کال واپس لے لیں گے۔ تو ایک طرح سے عدالت کی اس کارروائی سے خان صاحب کی اَنا کا کچھ نہ کچھ کتھارسس تو ہو ہی گیا!

قارئین کرام! میں خودستائی کو روسیا ہی تصور کرتا ہوں۔ لیکن آج یہ کہنے میں مجھے کچھ باک نہیں کہ میں نے پہلے بھی دو سے زیادہ کالموں میں عرض کیا تھا کہ میری چھٹی حس کہہ رہی ہے کہ عین آخری وقت میں عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے کوئی ایسا فیصلہ آ جائے گا جو فریقین کے لئے قابل قبول ہوگا۔23 اکتوبر کو میرے کالم کا عنوان تھا: ’’2نومبر کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟‘‘۔۔۔ اس کا آخری فقرہ تھا: ’’وقت آ گیا ہے کہ میڈیا ایسے پروگرام آن ائر کرے جو ’’دوبدو‘‘ ہونے کی پالیسی کی بجائے ’’یکسو‘‘ ہونے کی طرف حاضرین و سامعین کی رہنمائی کریں‘‘۔۔۔۔ 28 اکتوبر کو شائع ہونے والے کالم کا عنوان تھا:’’ ہم پل صراط پر چل رہے ہیں۔‘‘ اس کا آخری فقرہ تھا: ’’جب آپ کا دشمن آپ پر وار کرنے کو بے تاب ہو، جب اس کی پشت پر امریکہ، اسرائیل اور افغانستان کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے ہوں تو پھر اندرونی مناقشات ٹھیک کرنے کے لئے کس کو پہل کرنی چاہیے؟۔۔۔ حکومت کو یا پی ٹی آئی کو؟۔۔۔‘‘ ۔۔۔ اور جو کالم 30اکتوبر کو شائع ہوا اس کا عنوان تھا: ’’ہماری عدلیہ: امید کی آخری کرن‘‘؟ اس کا آخری فقرہ تھا: ’’شائد یکم نومبر کو عدالتی فیصلے میں کوئی ایسی صورت نکل آئے جو کشیدگی کے اس تنور میں سرد پانی کی ٹینکی کھول دے!۔۔۔ اگر ایسا ہوجائے تو سپریم کورٹ کی تاریخ میں یہ ایک نیا اور سنہرا باب ہوگا!‘‘۔۔۔ آج کے اس فیصلے کو ’’سرد پانی کی ٹینکی‘‘ کہا جا سکتا ہے!

میرے اس کالم ’’شمشیروسناں اول‘‘ کے قارئین عرصہ ء دراز سے جانتے ہیں کہ سیاست میرا موضوع نہیں۔ میرا موضوع دفاع اور دفاع کے تناظر میں پاکستان کو درپیش سٹرٹیجک چیلنج ہیں۔ لیکن 2نومبر کو تحریک انصاف کے دھرنے کی دھمکی میں پاکستان کا بہت کچھ داؤ پر لگ گیا تھا۔ مقامِ شکر ہے کہ تصادم کی صورت ٹل گئی ہے۔ امید ہے آنے والے ایام میں سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی، وہ فریقینِ مقدمہ کے لئے قابلِ قبول ہوگا۔ ہمارا منتہائے مقصود ، پاکستان کو مضبوط بنانا ہے اور ان دشمنوں کے نرغے سے بچانا ہے جو دم سادھے گھات لگا کر ہمارے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں!*

مزید : کالم