سیاست میں کامیابیاں سیاسی بصیرت سے ملتی ہیں

سیاست میں کامیابیاں سیاسی بصیرت سے ملتی ہیں

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد کے لاک ڈاؤن یا احتجاج کے پروگرام کو تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اِس روز پریڈ گراؤنڈ میں ’’دس لاکھ افراد کے ساتھ یومِ تشکر‘‘ منائیں گے۔ بظاہر اُن کا یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہے، جس کے متعلق اُن کے وکلا نے اپیل کرنے کا اعلان کیا تھا، اب انٹرا کورٹ اپیل کر بھی رہی ہے لیکن یکم نومبر کو سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران جو پیشرفت ہوئی اس کے پیشِ نظر انہوں نے اپنے فیصلے میں ردوبدل کر لیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیصلے میں ریمارکس دیئے تھے کہ احتجاج کا حق لامحدود نہیں،انتظامیہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے، لاک ڈاؤن یا امنِ عامہ خراب ہونے پر کارروائی ہو سکتی ہے، مختص جگہ پر احتجاج ہو سکتا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ اگر عمران خان مختص جگہ پر احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو وفاقی حکومت اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ انہیں اس کی اجازت دے سکتی ہے،لیکن عام شہری کی جائیداد اور اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔ عدالت نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ تمام اقدامات اور ایکشن قانون کے مطابق اُٹھائے جائیں اور اگر لاک ڈاؤن کی کوشش یا معمول کی زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے تو انتظامیہ ایسی کوششوں کے خلاف اقدامات اُٹھائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں واضح کر دیا کہ پریڈ گراؤنڈ کے سوا کسی جگہ دھرنا نہیں ہو گا۔

اگرچہ تحریکِ انصاف کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اُنہیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے انصاف کی توقع نہیں لہٰذا وہ مقدمے کی سماعت سے الگ ہو جائیں، لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے درخواستوں پر فیصلہ صادر کر دیا، اِس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق تو تحریکِ انصاف کے پاس موجود تھا،لیکن عدالتوں کے اندر اور سیاسی میدان میں حالات اِس انداز میں تیزی سے تبدیل ہوئے کہ لگتا ہے اِن ہی کے دباؤ کے تحت عمران خان کو لاک ڈاؤن اور احتجاج کا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا ورنہ اِس سے پہلے وہ نہ صرف اپنے دھرنے کے اعلان پر ڈٹے ہوئے تھے،بلکہ بار بارپارٹی کارکنوں کو بنی گالہ پہنچنے کی ہدایت بھی کر رہے تھے،لیکن حکومتی اقدامات کی وجہ سے عمران خان کے کارکنوں کے لئے بنی گالہ ’’بہت دور‘‘ ثابت ہو رہا تھا۔اگرچہ بہت سے لوگ بنی گالہ کے باہر جمع بھی ہو گئے اور عمران خان اُن کے ساتھ مل کر ڈنڈ بیٹھکیں بھی لگاتے رہے اور ان کا لہو بھی گرماتے رہے، لیکن محسوس ہوتا ہے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی اسلام آباد پہنچنے میں ناکامی عمران خان کے تازہ فیصلے کی بڑی وجہ بنی۔پرویز خٹک دھمکیاں دیتے اور باغی ہو جانے کی بدخبریاں سناتے ہوئے پشاور سے اسلام آباد کی طرف غالباً اِس خیال سے بڑھ رہے تھے کہ دھرنا وَن کی طرح اب بھی اُنہیں سٹیج پر ڈانس کا موقع ملے گا اور ناچ گانے کی رونقیں پہلے کی طرح ہی لگیں گی،لیکن اب کی بار وفاقی حکومت کی طرف سے استقبال کا انداز مختلف تھا، اِس لئے برہان انٹر چینج پر سخت پولیس ایکشن کی وجہ سے اُنہیں واپس جاتے ہی بنی اور وہ صوابی میں اپنے ’’بیس کیمپ‘‘ کی جانب پسپا ہوگئے، اس ناکامی کے باوجود پرویز خٹک بہرحال عمران خان کے ہیرو ٹھہرے۔ حالا نکہ انہوں نے ایک نیوز چینل کے ساتھ انٹرویو میں اعلان کردیا تھا کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد بند کیا تو وہ اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

پرویز خٹک وزیراعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ تحریکِ انصاف کے لیڈر بھی ہیں اور اِس حیثیت میں اپنے آپ کو درست طور پر عمران خان کے احکامات کا پابند بھی سمجھتے ہیں اور معمول کے حالات میں دونوں عہدوں کے تقاضے اچھی طرح پورے کئے جا سکتے ہیں اور ان میں باہم کوئی تضاد اور تصادم پیدا نہیں ہوتا،لیکن جس طرح کے حالات برہان انٹر چینج پر پیدا ہو گئے تھے اِن حالات میں پارٹی عہدے اور سرکاری عہدے کی تمیز و تفریق میں جو مہین سا فرق ہوتا ہے وہ مٹ جاتا ہے، ویسے بھی آنسو گیس کے گولے کا شیل جب پھینک دیا جاتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی زد میں آنے والا کون ہے۔اِس کے اثرات سے بچنا اُن لوگوں کی اپنی ذمے داری ہوتی ہے جن پر یہ گولا پھینکا جا رہا ہوتا ہے۔ پرویز خٹک جب تحریک انصاف کے لیڈر کا کردار ادا کر رہے تھے اس وقت یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ ان کی جانب جو گولا پھینکا گیا وہ وزیراعلیٰ کی طرف پھینکا گیا تھا، اس فرق کو ملحوظ رکھا جانا چاہئے تھا۔

اسلام آباد آتے ہوئے صوبہ خیبرپختونخوا کے ایک وزیر کی جس انداز میں تلاشی لی گئی تھی اور اُن سے جو کچھ برآمد ہو گیا تھا ،اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اسلام آباد میں تلاشی کا انتظام ذرا سخت ہے۔ پرویز خٹک نے اچھا کیا کہ اپنے قافلے کولے کر برہان انٹر چینج سے ہی واپس چلے گئے ورنہ شاید500 گاڑیاں اگر صحیح سلامت اسلام آباد پہنچ جاتیں، تو گاڑیوں کی تلاشی سے نہ جانے کیا کچھ برآمد ہوتا، راولپنڈی میں ایک دوسری گاڑی سے پسی ہوئی مرچوں کی جو بوریاں ملی ہیں معلوم کرنا چاہئے وہ کس مقصد کے لئے لے جائی جا رہی تھیں۔

اِن حالات میں عمران خان نے یہ درست فیصلہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن اور احتجاج کی جگہ کوئی اچھا سا نام رکھ کر جلسہ کر لیا جائے، چنانچہ اب وہ پروگرام کے مطابق مختص جگہ(پریڈ گراؤنڈ) میں جلسہ کریں گے اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے الفاظ میں جتنا عرصہ چاہیں جلسہ کرتے رہیں۔ ہم اِن سطور میں عرض کرتے رہتے ہیں کہ سیاست دو اور دو چار کا حسابی کھیل نہیں ، نہ اِس کے ضابطے اپنی جگہ بے لچک ہوتے ہیں، سیاسی جماعتیں اگر وقت کی بدلتی رفتار کے ساتھ اور حالات کی نزاکت کو سمجھ کر فیصلے کرتی رہیں تو سیاسی میدان میں کسی نہ کسی وقت کامیابیاں سمیٹ سکتی ہیں۔ اگر وہ اپنی قوت لایعنی کا موں پر صرف کرتی رہیں تو وقت کا دھارا اُنہیں تیزی سے روندتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔اِس برصغیر میں بہت سی سیاسی جماعتوں کے عروج و زوال کی داستانیں چپے چپے پر بکھری ہوئی ہیں، وہ آندھیوں کی طرح اُٹھیں اور بھگولوں کی طرح غائب ہو گئیں۔عمران خان اپنے انقلاب کو بار بار سونامی کے نام سے پکارتے ہیں،لیکن سونامی کا طوفان کبھی مستقل نہیں ہوتا یہ بھی ایک وقتی عذاب ہوتا ہے، وہ آتا ہے اور اپنے اثرات مرتب کر کے چلا جاتا ہے۔ مقام تشکر ہے کہ سونامی کبھی آج تک پاکستانی ساحلوں سے نہیں ٹکرایا۔ امریکہ اور برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہئے جہاں ہر چند سال بعد قومی سطح کے الیکشن ہوتے ہیں اور ہار جیت ہوتی رہتی ہے،لیکن جماعتیں سیاسی میدان میں موجود رہتی ہیں،جمہوریت میں سیاسی کامیابیاں اور ناکامیاں کسی ملین مارچ کی مرہون منت نہیں ہوتیں، اِس کے لئے سیاسی تدبر اور حکمتِ عملی شرطِ اولین ہوتی ہے۔

مزید : اداریہ