تحریک انصاف اور حکومت کی پرتشدد محاذ آرائی عروج پر

تحریک انصاف اور حکومت کی پرتشدد محاذ آرائی عروج پر

اسلام آباد سے ملک الیاس

مسلم لیگ ن کی حکومت اور تحریک انصاف کے مابین پی ٹی آئی اسلام آبادکے یوتھ کنونشن پر ہونیوالے پولیس کریک ڈاؤن سے شروع ہونیوالی پرتشددمحاذ آرائی اس وقت عروج پر پہنچی ہوئی ہے،28اکتوبر کو شیخ رشیداحمد کو لال حویلی میں جلسہ نہیں کرنے دیا گیا مگرانہوں نے اپنے وعدے کے مطابق کمیٹی چوک پر اچانک پہنچ کر میڈیا کے ذریعے خطاب کیا اور بعدازاں موٹرسائیکل پر بیٹھ کر پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہاں سے نکل گئے اس پر حکومتی حلقوں کا کہنا تھا کہ حکومت شیخ رشید کو گرفتار ہی نہیں کرنا چاہتی تھی،لال حویلی جلسے کیلئے تحریک انصاف کے چیئرمین و دیگر رہنما بنی گالہ سے ہی نہ نکل سکے ،شیخ رشیدکاجلسہ ناکام بنانے کیلئے راولپنڈی اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کی گئی رات کو ہی ان کے گھروں میں چھاپے مارے گئے جبکہ لال حویلی کے اردگرد تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کردیا گیا مری روڈ بھی کنٹینرز لگاکربندکردی گئی ہے جسے رات گئے کھولاگیا ،راولپنڈی میں انتظامیہ اور پولیس کی حکمت عملی کامیاب رہی تھی ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کو فیض آباد کے قریب پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ ،احتجاج کرنیکی اجازت دی ہے اس پر تحریک انصاف کاموقف سامنے آیا کہ عدالت کی مختص جگہ پر احتجاج نہیں کرینگے اور سپریم کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کرینگے،اسلام آباد میں تحریک انصاف کے 2نومبر کے احتجاج کو روکنے کیلئے عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ جانیوالے سارے راستے سیل کردیے گئے ہیں، کورنگ نالے کے مقام پر بنی گالہ جانیوالی سڑک مکمل طورپربندکردی گئی ہے،عمران خان کے گھر کی طرف جانے والی سڑک پر خندقیں کھود دی گئی ہیں تاکہ کوئی گزرنہ سکے اس کے باوجود کارکنان کی اچھی خاصی تعداد دشوار گزارراستوں،پہاڑیوں اورچورراستوں سے گزرکر وہاں پہنچی،پی ٹی آئی کے کارکن راتیں شدید سردی میں کھلے آسمان تلے گزار رہے ہیں ان میں خواتین بھی شامل ہیں ،بنی گالہ جانیکی کسی کو اجازت نہیں دی جارہی پہلے وہاں کے رہائشیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر جانے دیاجاتا رہا اب وہ بھی سلسلہ بندکردیا گیا ہے بنی گالہ پولیس ناکے پر پہنچنے والے کارکنوں کو گرفتارکرکے حوالات منتقل کرنیکاسلسلہ بھی جاری ہے خواتین کارکنان کو بھی گرفتارکیاگیا،اسی ناکے پر پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر علی امین گنڈھاپور کی گاڑی سے اسلحہ ،شراب برآمد کرنیکا بھی الزام عائدکیاگیا خودعلی امین گنڈھاپور پولیس کو جھل دیکر بھاگ نکلے،تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں عمران اسماعیل اور عارف علوی کو بھی گرفتارکیاگیا بعدازاں وزیر داخلہ کے احکامات پر چھوڑدیاگیا،شیری مزاری کو بھی روکا گیا مگروہ لڑجھگڑکر بنی گالہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں،اسلام آباد کے ریڈ زون کو بھی کنٹینر لگاکرسیل کردیا گیا ہے ،دوسری طرف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کاکہنا ہے کہ کپتان اپنی پلاننگ کے مطابق چلتا ہے،کسی کے کہنے پر ادھر ادھر نہیں بھاگ سکتا،میں دونومبر کو ہی نکلوں گا،ہم جمہوریت جانتے ہیں کبھی کوئی انتشار نہیں کیا،وزیراعظم کیخلاف ملک میں نفرت پیدا ہورہی ہے،پاکستان کا ہرطبقہ دونومبر کوسڑکوں پر نکلے گا جس ملک کا سربراہ کرپٹ ہو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ہم ملک کو قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنائیں گے،قانون پرامن احتجاج کو روکنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں، امید ہے انصاف ہوگا۔ 2 نومبر کو 10 لاکھ لوگ پرامن طریقے سے نکلیں گے۔ بنی گالا کے راستے غیر قانونی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ پولیس شریف خاندان کی نوکر بنی ہوئی ہے،وزیراعظم کاساتھ دینے پر پولیس اہلکاروں کوسزائیں دیں گے، کارکنوں کے رشتہ داروں کو بھی پکڑا جا رہا ہے۔ کنٹرولڈ ادارے انصاف نہیں دے رہے، عوام کو طاقت سے حق لینا ہوگا۔ بنی گالا پہنچنے والے مجاہد ہیں۔ پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں کے جذبے کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔

بنی گالہ میں وزیراعلی خیبرپختونخواہ پرویز خٹک کی قیادت میں آنیوالے قافلے کا را ت گئے تک انتظار ہوتا رہا ہے مگر برہان انٹرچینج پر پی ٹی آئی کے کارکنوں پر آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی جس کیو جہ سے وہ آگے بڑھنے میں ناکام ہوگئے بعدازاں قیادت کے کہنے پر پی ٹی آئی کاقافلہ واپس صوابی چلاگیا تاکہ دوبارہ تازہ دم ہوکر پھر اسلام آباد کارخ کرسکے،آج دونومبر کا دن انتہائی ہنگامہ خیزہوسکتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت سکیورٹی حصار توڑ کر بنی گالہ سے نکل پاتی ہے یا نہیں ،اگر قیادت نکل بھی آتی ہے تو کیا اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کارکنان لاکھوں کی تعداد میں پہنچ پائیں گے حکومت نے پی ٹی آئی کارکنان کو روکنے کا جہاں پورا بندوبست کررکھا ہے وہاں تحریک انصاف کے کارکنان نے بھی اسلام آباد پہنچنے کیلئے تیاریاں کررکھی ہیں ۔

قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر لیک ہونے کیوجہ سے حکومت سینیٹر پرویزرشید سے وزار ت اطلاعات و نشریات کا قلمبندان واپس لے لیا ،انکی جگہ مریم اورنگزیب کووزیرمملکت اطلات ونشریات کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کاکہنا ہے کہ مجھے جو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں انہیں احسن طریقہ سے نبھانے کیلئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاؤں گی، وزیراعظم محمد نواز شریف نے اعتماد کا اظہار کیا ہے، وزارت اطلاعات کا قلمدان اہم ترین ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے بے پناہ منصوبے مکمل اور پالیسیاں تشکیل دی ہیں جو آئندہ بھی جاری رہیں گی انکا کہنا تھا کہ عمران خان کی دارالحکومت اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کر دینے کی کال صرف پاکستان مسلم لیگ ن کی بات نہیں بلکہ یہ ریاست کے خلاف ہے جس میں وہ دارالحکومت کو بند کرنا چاہتے ہیں لیکن گذشتہ روز اسلام آبادہائی کورٹ نے بھی ایک تفصیلی فیصلہ دیا جس میں اسلام آبادبند کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اورپی ٹی آئی کو ایک مخصوص جگہ پر جلسہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے، عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ بات بھی کہی ہے کہ کسی بھی غیر قانونی کام کی صورت میں ریاست اپنا قانونی حق استعمال کر سکتی ہے اور یہی نوٹس پھر پی ٹی آئی کو بھی دیا گیا ہے، اب یہ مسئلہ پی ٹی آئی اور ریاست پاکستان کے درمیان ہے، ریاست کی حفاظت حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے جسے پورا کیا جائے گا اور عام آدمی کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

مزید : ایڈیشن 1