حکومت اور حزب اختلاف سیاسی کلچر کو اپنائیں

حکومت اور حزب اختلاف سیاسی کلچر کو اپنائیں

سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جناب رشید اے رضوی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ رشید اے رضوی کا شمار ان وکلا میں ہوتا ہے جنہوں نے عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں بڑا فعال اور موثر کردار ادا کیا تھا اور ہر طرح کے خوف و لالچ کو ٹھکرا کر بڑی ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہے تھے۔ ان سے بجا طور پر توقع کی جاتی ہے، کہ وہ اپنے دورِ صدارت میں جہاں وکلا برادری کی فلاح و بہبود کے لئے موثر کردار ادا کریں گے وہیں وہ عدلیہ اور بار کے تعلقات کا وہ اعتماد اور وقار بحال کریں گے جس کے بغیر انصاف کا حصول ممکن نہیں ہے اور یہ جب ہی ہو گا کہ جب تک بار کالے کوٹ کا تقدس بحال کرنے کے لئے ان عناصر کو عدالتی ضابطہ اخلاق اور قاعدے قانون کی پابندی کرنے پر مجبور نہیں کرتی، جنہوں نے ’’موبو کریسی‘‘ کی سیاست کے علمبرداروں کی طرح ’’کالا کوٹ کریسی‘‘ کے ذریعے اس باوقار پیشے کو خلق خدا کو انصاف کی فراہمی میں عدالتوں کی معاونت کرنے کے بجائے، محض دھونس دھاندلی کے ذریعے ’’مال بناؤ‘‘ بنا کر رکھ دیا ہے۔

جناب رشید اے رضوی کے منتخب ہونے سے یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس اور کرپشن میں ملوث ہونے کے دیگر الزامات کے زیر سماعت کیس میں عدالتوں کی رہنمائی میں پیشہ ورانہ کردار ادا کریں گے۔ ان کا تعلق اگرچہ جناب حامد علی خان گروپ سے ہے، مگر وہ تحریکِ انصاف میں شامل نہیں ہیں۔ ان کا ایک زمانے میں تعلق پیپلزپارٹی سے رہا ہے ،مگر عدلیہ آزادی کی تحریک میں فعال ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی قیادت سے ان کے فاصلے بڑھ گئے تھے۔ اِسی وجہ سے مُلک بھر کی وکلا برادری نے سابق چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر جناب فاروق ایچ نائیک کے مقابلے میں229 ووٹوں کی برتری سے 1289 ووٹ دے کر صدر منتخب کیا ہے جبکہ سینیٹر جناب فاروق ایچ نائیک ان کے مقابلے میں1060ووٹ حاصل کر پائے ہیں حامد علی خان کے پروفیشنل گروپ کے سیکرٹری جناب آفتاب باجوہ بھی اپنے مدمقابل عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار صفدر تارڑ کو شکست دے کر سپریم کورٹ بارکے سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے ہیں۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر گروپ کو سپریم کورٹ بار میں چھ سال بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، خدا کرے جس طرح وکلا برادری نے ووٹ کی پرچی کے ذریعے قیادت کی تبدیلی کی روایت کو مستحکم کیا ہے۔ اِسی طرح مُلک کی قیادت کی تبدیلی میں بھی ’’ووٹ کی پرچی‘‘ کو ہی واحد اور حتمی فیصلے کو تسلیم کرنے کی روایت مستحکم ہو جائے۔

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس اور کرپشن کے دیگر الزامات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کر کے جنابِ عمران خان اور حکومت کو بحران سے نکلنے کا ایک باوقار راستہ فراہم کر دیا ہے۔ دونوں فریقوں کو اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے، حکومت پر زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر کے سرخرو ہو، بصورتِ دیگر وہ بھی سیاسی عمل کے تعطل کا سبب بنے گی ۔پانچ عشروں کی سیاسی تاریخی اس حقیقت کی شاہد ہے، سیاست دانوں نے اپنے مخالفوں سے زیادہ خود اپنے غلط اندازوں اور غلط حکمت عملیوں سے اپنی راہ کھوٹی کی ہے، حکمرانوں کی ایوان اقتدار سے رخصتی میں فیصلہ کن کردار درست وقت پر درست فیصلوں میں تاخیر نے ادا کیا ہے، جہاں تک معاملہ ہے،جناب میاں محمد نواز شریف کی حکومت کا اور جناب عمران خان کی ہجوم کی سیاست کے مستقبل کا، دونوں کے لئے اس بحران سے نکلنے، عافیت، سلامتی اور بقاء کا ایک ہی راستہ رہ گیا ہے۔دونوں فریق پانامہ لیکس اور کرپشن کے دیگر الزامات میں سپریم کورٹ کسی جج کی سربراہی میں کمیشن بنائے یا از خود پانچ رکنی بنچ کوئی فیصلہ دے اسے من و عن تسلیم کرنے میں جو فریق اس سے انحراف کرے گا وہ اپنی سیاست کو ختم کرنے کا باعث بنے گا اور مُلک میں ایک بار پھر آئین کی راہ کھوٹی کرنے کا ذمہ دار ’’قرار‘‘پائے گا۔

سیاست اور سیاسی عمل کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھنے کی ذمہ داری حکومت اور حزب اختلاف دونوں پر ہے، وطن عزیز کو ایک بار پھر کسی غیر آئینی اور ماورائے آئین اقدام سے محفوظ رکھنا مقصود ہے۔دونوں فریقوں کو دشنام طرازی، بدکلامی، بدزبانی کی روش ترک کرنا پڑے گی اور گفتگو اور مکالمہ کا آغاز کرنا پڑے گا۔ حکومت اور حزب اختلاف جس کو سیاست کرنی ہے، وہ سیاسی کلچر کو بھی اپنائے۔ سیاست تو نام ہی مذاکرات اور افہام و تفہیم سے آئین اور قانون کے مطابق تمام مسائل کا حل سیاسی انداز میں اتفاق رائے پیدا کر کے خلق خدا کی مشکلات کو کم کر کے ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ وطنِ عزیز میں جب بھی سیاست اور سیاسی عمل کو نقصان پہنچا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے ان کی حمایت کی تھی،جنہوں نے عطائی نظام مسلط کیا تھا۔ پانچ عشروں کی تاریخ شاہد ہے ’’عطائی نظام‘‘ مسلط کرنے والوں کے خلاف باکردار سیاست دانوں کی طویل اور صبر آزما جدوجہد اور سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی بے مثال قربانیوں کو ’’بے ثمر‘‘ کرنے میں بنیادی کردار ’’ذاتی انا‘‘ کے حصار گرفتار اور خبطِ عظمت میں مبتلا شخصیات نے ادا کیا، خدا کا شکر ہے کہ اب حکومت اور حزب اختلاف نے پانامہ لیکس اور کرپشن کے دیگر الزامات میں ملوث لوگوں کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے بعد توقع ہے سنجیدگی کا رویہ راہ پائے گا اور سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر عمل کریں گے جس میں دونوں کو تحمل، برداشت اور اپنے گھوڑوں کو روکنے کی نصیحت کی گئی ہے، جو فریق عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کرے گا وہی فتح مند قرار پائے گا، جو نہیں مانے گا وہ خود انجام بد سے دوچار ہو گا اور اپنی سیاست خود اپنے ہاتھوں دفن کرے گا۔ اب ذکر ہو جائے وزیر داخلہ جناب چودھری نثار علی خان کے اس موقف کا کہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کو اس وجہ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ قومی مفاد کے خلاف ’’ڈان‘‘ میں خبر رکوانے میں ناکام رہے تاہم انہوں نے پرویز رشید کے بارے میں واضح کر دیا ہے کہ وہ خبر لیک کرنے میں ملوث نہیں ہیں تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وزیر اطلاعات کی یہ ذمہ داری تھی یا نہیں، اس کا فیصلہ تو وہ ہی کرنے کے مجاز ہیں،جنہوں نے ان کو وزارت کے منصب پر فائز کیا تھا۔ تاہم اِس حوالے سے ایک واقعہ یاد آ گیا ہے کہ اس نامہ نگار کو مُلک کے نہایت ہی محترم نیک نام معتبر اخبار نویس میجر(ر) ابن الحسن، مرحوم و مغفور نے بتایا تھا کہ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد نیشنل بنک میں شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ تھے۔ جناب ممتاز حسن(مرحوم) ان کو نیشنل بنک میں لے آئے تھے وہ ریٹائر ہو گئے تو جو صاحب نیشنل بنک کے صدر مقرر ہوئے وہ ممتاز حسن سے مختلف مزاج رکھتے تھے۔ممتاز حسن (مرحوم) کا شمار معاشیات کے شعبہ میں اعلیٰ مہارت رکھنے والوں میں ہوتا ہے اور ساتھ ہی انگریزی، عربی، فارسی اور اُردو ادب کی علمی شخصیت تھے اور ساتھ ہی علم پرور اور ادب نواز تھے، جس کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں محترم و معتبر تھے، ان کے بعد آنے والے سربراہ ان صفات سے محروم تھے۔ ’’ایک دن اخبارات میں بنک کی کارکردگی کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی تو مجھے طلب کیا گیا اور دریافت کیا کہ کیا آج کے اخبار پڑھے ہیں، تو مَیں نے جواب دیا میری تو نوکری ہی اخبار پڑھنے کی ہے، مَیں تو ناشتہ کرتے وقت تمام اخبارات کا مطالعہ کر کے دفتر آتا ہوں، بھڑک کر بولے’’ تو پھر بنک کے بارے میں جو خبر شائع ہوئی ہے وہ کیوں نہیں رکوائی‘‘۔ ’’تو مَیں نے جواب دیا کہ جناب میں اخبار میں خبر رکوانے کے لئے نہیں رکھا گیا ہوں‘‘ مجھے بنک کی کارکردگی میڈیا میں موثر انداز میں پیش کرنے کے لئے رکھا گیا ہے۔آپ کے خیال میں کوئی چیز غلط جھپ گئی ہے تو انتظامیہ اپنا موقف دے، مَیں من و عن شائع کرا دوں گا‘‘ تو وہ جواب میں بولے اخبار والوں سے پتہ کر کے بتاؤ کہ یہ خبر کس نے ان کو دی ہے تو میرا جواب تھا کہ مَیں یہ سوفیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نہ تو میرے توسط سے یہ خبر کسی کو ملی ہے اور نہ ہی یہ جانتا ہوں کہ ان کو کس نے دی ہے اور مَیں اس خبر کا ذریعہ معلوم کرنے کی کوشش کر کے اپنے آپ کو بے توقیر کرنے کی بجائے نوکری کو خیر باد کہنے کو ترجیح دوں گا‘‘ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا، اور نیشنل بنک کو خیر باد کہہ کر ’’گلف اینڈ اکنامکس‘‘ کے ’’دبنگ‘‘ ایڈیٹر کی شہرت پائی جن کا آج بھی صحافت کے علاوہ ہر شعبہ زندگی میں احترام سے نام لیا جاتا ہے۔ محترم الطاف حسن قریشی نے سقوط ڈھاکہ پر اپنے مضامین میں اس کے بہت سے کرداروں کے بارے میں پردہ اٹھایا تھا ان پر وہ جناب مجیب الرحمن شامی اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی ، جناب بھٹو کے سول مارشل لا میں گرفتار اور فوجی عدالت سے سزا یاب بھی ہوئے تھے، جسے بعد میں عدالت عالیہ نے غیر قانونی قرار دے کر رہا کردیا تھا۔ ان کو حمود الرحمن کمیشن نے گواہی کے لئے طلب کیا تو کمیشن کی تکنیکی معاون کرنے والے عسکری افراد نے الطاف حسن قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ کس نے آپ کو بتایا، اس کا نام ہمیں بتائیں تو جناب الطاف حسن قریشی نے چیف جسٹس حمود الرحمن کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ جناب آپ ان کو بتا دیں کہ ’’مَیں ایک صحافی ہوں جو کسی کو اپنی خبر کا ذریعہ نہیں بتایا کرتا ‘‘ اگر ان کے پاس میرے لکھے ہوئے کو عدالت کے سامنے غلط ثابت کرنے کے ثبوت موجود ہیں تو مَیں اس کی سزا قبول کروں گا۔ خبر کا ذریعہ پھر بھی افشا نہیں کروں گا‘‘ اگر جناب پرویز رشید یہ خبر لیک کرنے میں ملوث نہیں ہیں تو وہ اِس قربانی کی وجہ سے ہیرو بنیں گے اور سیاست میں بلند قامت رہیں گے۔

مزید : ایڈیشن 1