تحریک انصاف کا احتجاج

تحریک انصاف کا احتجاج

لاہور سے چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان محاذ آرائی نے بہت کچھ متاثر کیا ہے۔ لاہور میں بھی پولیس کی طرف سے تحریک انصاف کے کارکنوں کو حراست میں لینے کے لئے چھاپے مارے گئے۔ بعض کارکن پکڑے گئے لیکن زیادہ تر گھروں سے پہلے ہی غائب ہو کر روپوش ہو گئے تھے ۔ ان میں سے اکثر لاہور سے روانہ ہو کر راولپنڈی یا قریب ترین شہر میں ٹھہر گئے ہیں، اس سے پہلے جب عمران خان کی طرف سے احتجاج کی کال دی گئی تو لاہور میں پریس کلب کے باہر، جی پی او چوک اور ٹھوکر نیاز بیگ پر احتجاج کیا گیا۔ لاہور پریس کلب کے باہر کارکن صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید اور قومی اسمبلی کے رکن شفقت محمود کی قیادت میں آئے تھے۔ یہاں نعرہ بازی کی گئی اس احتجاج کی وجہ سے چاروں طرف سڑکوں پر ٹریفک بلاک ہوئی اور دیر تک لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔جی پی او چوک میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی تنظیم انصاف لائیرز فورم کے ارکان نے جی پی او چوک میں ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کی، یہاں موجود وکلاء کے اس گروہ نے لوگوں کو آنے جانے سے روکا جس پر تکرار بھی ہوئی۔ ایک فاصل وکیل نے تو ایک شہری کو جو موٹرسائیکل پر بچوں کو سکول سے لے کر آ رہا تھا، گزرنے کی کوشش کی تو ایک وکیل نے باقاعدہ تھپڑ رسید کر دیا موٹرسائیکل سوار بچوں سمیت مشکل سے گرتے گرتے بچا، دوسرے وکلاء نے فاضل وکیل کو مزید تشدد سے روکا، ٹھوکر نیاز بیگ پر بھی تھوڑے کارکنوں نے احتجاج کیا، نتیجے کے طور پر ٹریفک متاثر ہوئی۔ تاہم مزنگ میں احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے شاہراہ فاطمہ جناح، قرطبہ چوک اور فیروزپور روڈ پر بدترین ٹریفک جام نظر آیا اور دیر بعد گاڑیوں کو نکلنے کا موقع ملا، اس سے شہریوں نے کوئی اچھا تاثر نہیں لیا۔ اب حالات یہ ہیں کہ پولیس تحریک انصاف والوں کو اسلام آباد جانے سے روکنے کے لئے ناکے لگائے ہوئے ہے اور شبہ پر لوگوں کو سواریوں سے اتار کر پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ آج 2نومبر ہے اور بہت سے شہروں میں کشمکش جاری ہے۔ تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری کی قیادت میں کارکنوں کا ایک گروپ داتا دربار سے پیدل اسلام آباد روانہ ہوا۔

جماعت اسلامی نے وحدت روڈ کرکٹ گراؤنڈ میں سہ روزہ سالانہ اجتماع منعقد کیا اس کی روزانہ نشستیں ہوئیں اور آخری روز بھیکے وال موڑ سے وحدت روڈ پر کرپشن کے خلاف مارچ کیا گیا اور نعرہ بازی ہوئی۔ اس اجتماع کی کارروائی جماعت اسلامی کی روایات کے مطابق پُرسکون تھی، حتیٰ کہ پنڈال میں داخلہ کے لئے گراؤنڈ کے مرکزی گیٹ کو رکھا گیا اور ایسا انتظام کیا گیا کہ تینوں روز وحدت روڈ پر ٹریفک بھی جاری رہی۔ مکینوں کو زیادہ پریشانی نہیں اٹھانا پڑی، البتہ تیسرے روز کرپشن کے خلاف مارچ کے باعث ٹریفک کو دوسرے راستوں پر موڑا گیا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی کرپشن کے خلاف اعلان جہاد کر دیا اور کہا کہ پاناما لیکس کا مسئلہ چھ سات ماہ سے لٹکا ہوا ہے۔ حکومت نے نہ تو جوڈیشل کمیشن بنایا اور نہ ہی پاناما لیکس کی تحقیقات ہوئیں۔ انہوں نے کہا جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو این آر او والوں سمیت کرپٹ افراد کو جیلوں میں ڈالے گی۔ کرپشن نے ملک کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ملکی مسائل کا حل شریعت کے نظام میں ہے اور ملک کی بھاری اکثریت اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔

لاہور میں مختلف طبقات کی طرف سے احتجاجی کا سلسلہ جاری ہے۔ اساتذہ بھی مظاہرے کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے اسمبلی کے سامنے دھرنا بھی دیا گیا۔ اس سے قبل پراپرٹی ڈیلر حضرات کی مختلف تنظیموں نے ڈی ایچ اے لاہور کی تنظیم کے ساتھ متحد ہو کر فیصل چوک میں احتجاج کیا اور گزرے اتوار کو لالک چوک ڈیفنس میں بھی مظاہرہ کیا گیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پراپرٹی کی رجسٹریشن وغیرہ کے حوالے سے جو نئے ٹیکس نافذ کئے گئے ہیں واپس لئے جائیں ان تنظیموں نے اب اسلام آبادجا کر مظاہرہ کرکے دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف بھی بہت سرگرم ہیں اور اپنی عادت کے مطابق صبح سے رات گئے تک کام کرتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ چھٹی والے روز بھی آرام نہیں کرتے اتوار کو بھی انہوں نے شعبہ صحت کے اجلاس کی صدارت کی اور صوبے میں نہ صرف علاج کی موجودہ سہولتوں کو بہتر بنانے اورہسپتالوں کے نظام کو ٹھیک کرنے کی ہدایت کی بلکہ انہوں نے ایک تجویز کی بھی منظوری دی جس کے تحت مریضوں کو ان کے گھروں پر مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ مختلف عوامی اجتماعات سے بھی خطاب کررہے ہیں اور تحریک انصاف کے عمل کو ہدف تنقید بناتے ہیں ان کے مطابق دھرنا والوں کو ملک کی ترقی عزیز نہیں اور وہ روڑے اٹکا رہے ہیں۔

وزیراعظم محمد نوازشریف بھی اس ویک اینڈ پر لاہور آئے اور انہوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی دعوت پر پھول نگر میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے پھول نگر اور قصور کے لئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لئے کروڑوں روپے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ سوئی گیس، پینے کے صاف پانی، کالجوں اور ہسپتال کی تعمیر کے لئے یہ فنڈز دیئے گئے۔ وزیراعظم نے زور دار تقریر کی اور کہاکہ مخالفین چند روز میں ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ وہ ایک روز جاتی عمرہ میں قیام کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گئے۔

مزید : ایڈیشن 1