وزیراعلی پرویز خٹک کے قافلے کو برہان پل سے پسپاکیوں ہونا پڑا؟

وزیراعلی پرویز خٹک کے قافلے کو برہان پل سے پسپاکیوں ہونا پڑا؟

وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن تحریک ناکام بنانے کے لئے صوبہ پختونخوا کو مُلک کے دوسرے حصوں خصوصاً پنجاب اور اسلام آباد سے عملاً کاٹ کر رکھ دیا ، موٹروے اور جی ٹی روڈ پہ نہ صرف درجنوں کنٹینر کھڑے کر دیئے گئے،بلکہ ریت اور مٹی کے پہاڑ بھی کھڑے کر دیئے گئے، اٹک پل پر جی ٹی روڈ اور صوابی انٹر چینج کے مقام پر موٹروے کو مکمل بند کر دیا گیا۔ ہزارہ کی جانب سے راولپنڈی جانے والے راستوں کو بھی کنٹینر اور مٹی کے پہاڑ کھڑے کر کے بند کیا گیا۔ اس صورتِ حال نے خیبرپختونخوا کو بالکل الگ کر کے رکھ دیا یہاں تک کہ راولپنڈی سے پشاور آنے والی ایک ایمبولینس کو بھی راستہ نہ مل سکا، جس میں ایک نوجوان اپنے باپ کی میت لا رہا تھا۔ ہزاروں خواتین اور بچے بُری طرح رُل گئے، زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی اس تمام تر سنگین صورت حال کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اپنے وزراء، مشیروں اور اراکین اسمبلی کی قیادت میں قافلہ لے کر اسلام آباد پہنچنے کا فیصلہ کیا،چنانچہ سوموار کی سہ پہر جب دس ہزار کارکنوں کا جلوس وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں موٹروے پر نکلا تو کنٹینروں کی اوٹ سے پنجاب پولیس نے شیلنگ شروع کر دی۔ وزیراعلیٰ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے جلوس لے کر صوابی انٹرچینج واپس پہنچ گئے، رات پڑتے ہی کرینوں کی مدد سے تمام کنٹینر ہٹا دیئے گئے اور مٹی کے پہاڑ بھی ہٹا دیئے گئے تو پنجاب پولیس کی طرف سے زبردست شیلنگ کے باوجود قافلہ آگے بڑھتا گیا اسی دوران مشتعل مظاہرین نے نے 8سے10سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی، بڑی گاڑیوں کے علاوہ10کے لگ بھگ موٹر سائیکلیں بھی نذر آتش ہوئیں، تاریکی ہونے کے باعث یہ واضح نہ ہو سکا کہ یہ آگ کس نے لگائی، مظاہرین جب آگے بڑھنے لگے تو پنجاب پولیس پسپا ہو گئی، رات گئے یہ قافلہ اسلام آباد سے محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر برہان پل پر آ گیا تو وہاں ایک بار پھر بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہوا، قافلہ رُک گیا تو پولیس نے مختلف اطراف سے مظاہرین پر وحشیانہ شیلنگ کی اور ربڑ کی گولیاں فائر کیں جس سے متعدد افراد زخمی و بے ہوش ہوئے۔ منگل کی علی الصبح روشنی پھوٹتے ہی پولیس نے ایک بار پھر بربریت کا مظاہرہ کیا،جس پر قائد تحریک عمران خان نے مظاہرین کو واپس صوابی پہنچنے اور نئے حکمت عملی وضع کرنے کی دایت کی۔ صوابی واپس پہنچنے پر وزیراعلیٰ نے براستہ غازی سری کوٹ، ہری پور پہنچنے کا اعلان کیا اور یوں براستہ قطار ٹیکسلا پہنچنے کی حکمت عملی وضع کی جہاں خیبرپختونخوا کی سرحد ختم ہوتے ہی ٹیکسلا چھاؤنی شروع ہوتی ہے۔ اگرچہ ٹیکسلا اور اس سے آگے بھی سنگین قسم کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، مگر یہ بات معنی خیز ہے کہ اگر یہ قافلہ ہری پور سے پنجاب کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر راولپنڈی کے ر استے اسلام آباد جایا جانے لگا اور بنی گالا پہنچ کر دم لیں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہری پور کے راستے پر قافلہ پنجاب میں داخل ہونے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ کا قافلہ پہلی مرتبہ جب صوابی سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا اور رکاوٹیں ہٹا دی گئیں تب گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کی ہنگامی بنیادوں پر اسلام آباد طلبی کی خبر نے زبردست سیاسی ہلچل مچا دی۔ اقبال ظفر جھگڑا کی اسلام آباد طلبی اور روانگی سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی خبریں نمایاں ہو گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اِس حوالے سے صدارتی آرڈیننس بھی تیار کر لیا گیا تھا جس پر بیشتر وفاقی وزراء نے اتفاق کر کے گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز دی تاہم وزیراعظم نواز شریف نے گورنر راج کے آپشن کو آنے والے دِنوں اور حالات کی نزاکت پر چھوڑ دیا۔ اگر حالات اِسی طرح پیچیدہ رہے اور کوئی سیاسی حل نکلتا نظر نہ آیا تو ایسی صورت میں گورنر راج کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

اسلام آباد مارچ کے دوران وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو گورنر راج کی خبروں سے آگاہ کیا گیا تو وزیراعلیٰ نے برملا کہا کہ گورنر راج بھی اب اِس قافلے کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا۔ گورنر اقبال ظفر جھگڑا ابھی تک اسلام آباد ہی میں مقیم ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اِس قدر سنگین سیاسی بحران اور سیاسی بدامنی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی اور ایک جمہوری مُلک میں سیاسی احتجاج کو روکنے کے لئے ایسے اقدامات کئے گئے کو کبھی آمریت کے دور میں بھی نہیں اُٹھائے گئے تھے۔عمران خان نے آج دو نومبر کو دس لاکھ افراد کی اسلام آباد پہنچنے کی کال دے رکھی ہے۔ ان دس لاکھ افراد میں سب سے زیادہ اہمیت ان چند ہزار افراد کو حاصل رہے گی جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں روانہ ہوں گے اگر یہ قافلہ راولپنڈی تک بھی پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ چند ہزار افراد دس لاکھ پر حاوی ثابت ہوں گے اور آنے والے دِنوں میں ملک کی سیاست میں اہم فیصلہ بھی انہی چند ہزار افراد کی کامیابی و ناکامی پر ہو گا۔

مزید : ایڈیشن 1