لاک ڈاؤن’’ان لاک‘‘

لاک ڈاؤن’’ان لاک‘‘
 لاک ڈاؤن’’ان لاک‘‘

  

ایسا لگتا تھاکہ اس بار کپتان عمران خان کی کال کے نتیجہ میں ’’تخت ہوگا یا تختہ‘‘لیکن اس بار بھی کپتان کی کال کا وہی نتیجہ نکلا جو 126دنوں کے پچھلے دھرنے کا تھا ،ان کی جانب سے اچانک احتجاجی کال واپس لینے کے فیصلے پر عمومی طوپر حیرت اور تعجب کا ردعمل دیکھنے میں آیا ، ان کے اس فیصلہ پر نہ تو ان کے جنونی کارکنوں کو کچھ سجائی دے رہا تھا نہ ہی دیگر سیاست دان ا س کا مفہوم تلاش کرسکے ، درحقیقت ایک کھلاڑی اور پھر اوپر سے کپتان ہونے کے باعث شائد سنسنی خیزیت اور حیران کر دینے والے اقدام ان کے مزاج کا حصہ ہیں ،اس پر مستزاد نوجوانوں کے مقبول رہنماء ہونے کے ناطے وہ شائد سمجھتے ہیں کہ وہ خلوص نیت سے فیصلہ کرتے ہیں اس لئے ان کے پیرو کاروں پر لازم ہے کہ وہ اسے دل و جان سے تسلیم کریں،وہ ایک عمدہ کھلاڑی اور بہترین کپتان تھے لیکن کھیل کے میدان میں بھی ان کے مزاج کی آمریت سے سب بخوبی آشنا تھے ،اب میدان سیاست کے کار زارمیں بھی وہ اپنے اس مزاج کو بدل نہیں سکتے ،انہوں نے احتجاج کی کال کافیصلہ واپس لیتے وقت اپنے پارٹی رفقاء تودرکنار اپنے اہم سیاسی حلیفوں سے بھی مشاورت نہیں کی ،بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا فیصلہ شائد حکومتی ایوانوں کیلئے اتنا حیران کن نہ تھا جتنا ان کے حلیف سیاست دانوں کیلئے ،کسی نے انہیں یوٹرن خان کا خطاب دیا تو کسی نے انہیں جلد باز قرار دیا ،بالخصوص انکے فیصلے سے انکے سٹریٹجک پارٹنر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کیلئے ایک ’’شاک‘‘سے کم نہ تھا ،کپتان عمران خان کے اس رویہ کی بدولت اس بار پروفیسر طاہرالقادری 2نومبر کے احتجاج میں شرکت سے گریزاں تھے بلکہ انہوں نے دوٹوک تبصرہ بھی کیا تھا کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاسکتا،درحقیقت کپتان عمران خان کے پچھلے طویل دھرنے کا اختتام اور 2نومبر کے لاک ڈاؤن کی کال واپس لینے کے دونوں فیصلوں کے محرکات یکساں ہیں دونوں بارانہیں شاید ایمپائیر کی وہ حمایت میسر نہیں ہوئی جس پر وہ تکیہ کررہے تھے تاہم منجھے ہوئے سیاستدانوں کے برعکس جب انہیں شایداس قسم کی صورتحال کاسامنا ہوتا ہے تو وہ کوئی درمیانی راستے نکالنے یا معقول فیس سیونگ لیے بنا عجلت میں ہی فیصلہ کرڈالتے ہیں اور اپنے حلیفوں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ان کی مشاورت سے کوئی سیاسی راستہ نکالیں ،حقیقت میں کپتان عمران خان سیاست کی روایتی چالبازیوں میں الجھنے کے بجائے جو صحیح سمجھتے ہیں کرگزرتے ہیں یہاں عوام کی سوچ میں ایک واضح تقسیم ہے جسے سمجھنا ضروری ہے ،40سال سے کم عمرنوجوانوں کی اکثریت انکی پیروکار ہے یہ وہ جنونی نوجوان ہیں جو سیاسی چالبازیوں اور شعبدہ بازیوں سے متاثرنہیں ہوتے انہیں ایک چالاک اور زیرک سیاسی رہنما لبھانے میں ناکام ہوگئے ہیں انہیں کپتان عمران خان کے غلط یا جلد بازی کے فیصلوں سے زیادہ غرض نہیں وہ اسے ایک سچا اور کھرا رہنما سمجھتے ہیں ،دلچسپ حقیقت ہے کہ 25سے35سال کے نوجوانوں کی اکثریت انہیں انکی اسی خوبی کی بنا پر پسند کرتی ہے جو 40سال سے اوپر عمروالوں لوگوں کو نہیں بھاتی،کپتان عمران خان کو اپنے جس رویہ کی بنا پر میدان سیاست میں تنقید کاسامنا ہے انکے اپنے حلقہ میں وہی رویہ انکی مقبولیت کا باعٹ ہے ممکن ہے کہ ان کی شخصیت کا یہ روایت شکن اسلوب ہی شائد ایمپائیر کی انگلی کھڑی کرنے میں رکاوٹ بن رہاہو،سول ملٹری تعلقات کے شکستہ پل پر ڈان لیکس کے شدید دباؤ کے باعث اس بار کپتان کو ایمپائیر سے زیادہ امیدیں وابستہ تھیں انہوں نے اس لیے پش اپس بھی خوب لگائے لیکن سب بے سود ثابت ہوا،درحقیقت حکمران جماعت کے پاس وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان ایک ایسا مضبوط اینکر ہے جو ہمیشہ انہیں سول ملٹری تعلقات کے گرداب سے باہر نکال لاتا ہے ایسا لگتا تھا کہ یہ بھنور اس باراس قدر بھپھرا ہوا ہے کہ حکومت اس میں گھرجائیگی لیکن میں پہلے بھی اپنے کالم میں دوٹوک الفاظ میں یہ لکھ چکاہوں کہ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعلی پنجاب شہبازشریف کی آرمی چیف سے ملاقات نتیجہ خیز تھی ایسا لگتا ہے کہ 2نومبر کواسلام آباد لاک ڈاؤن کی کال کو’’ ان لاک‘‘ کرنے کے ٹی او آرز اس ملاقات میں طے ہوگئے تھے ویسے کپتان اگر لاک ڈاؤن کا لفظ استعمال کرنیکی غلطی نہ کرتے تو شاید انہیں اس قومی ملاکھڑے میں اتنی ہزیمت کاسامنا نہ کرنا پڑتا اس لفظ نے حکومت کو بھرپور ڈنڈا چلانے اور طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کردیا،حکومتی طاقت کا اندھا استعمال ہونا شرمناک اور قابل مذمت ہے تاہم کپتان عمران خان کی جانب سے 2نومبر کے لاک ڈاؤن کا فیصلہ واپس لینے کے اعلان پر وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کا خیرمقدم شاید انہی ’’ٹی اوآرز‘‘کا حصہ لگتاہے جبکہ کامیابی کے حوالے سے ہمارا علامہ طاہرالقادری کی کپتان کی کال پر ذاتی طور پر شرکت نہ کرنیکا سیاسی بیرومیٹر بھی درست ثابت ہوا ،اگرچہ دھرنا پارٹ ٹو میں بھی حکومت کو بظاہر کامیابی ملی ہے ماسوائے کہ سابق وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنادیا گیا اور محترمہ مریم نوازشریف کی کچن کابینہ کی انتہائی اہم رکن اسمبلی مریم اورنگزیب کو وزارت کاقلمدان مل گیا مریم اورنگزیب کا صرف یہ تعارف ہی کافی نہیں کہ وہ طاہرہ اورنگزیب کی صاحبزادی اور آپا نجمہ حمید کی بھانجی ہیں ،وہ اعلیٰ درجے کی تعلیم یافتہ ہونے کیساتھ ساتھ سوشل سیکٹر میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں،قومی اسمبلی میں نوجوان خواتین ارکان میں سے سب سے فعال رکن ہیں جو قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم سے اقوام متحدہ کے پاکستان میں انسانی حقوق کے اہداف کے حصول کیلئے سر گرم عمل ہیں،پاکستان تحریک انصاف کی بدولت ان کے اعلان کردہ یوم تشکر کو وفاقی دارالحکومت میں بعض حلقے مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں،اراکین اسمبلی کی حکومتی میڈیا ٹیم کے اہم زعماء بشمول وزیر مملکت مریم اورنگزیب ،وزیر مملکت نجکاری محمد زبیر ،ترجمان ملک مصدق ،ٹاک شوز کے حکومتی ہیرو طلال چوہدری ،سمیت بعض رہنماء کہسار مارکیٹ میں لاک ڈاؤن کو ان لاک کرنے کی تھکاوٹ اتار رہے تھے ،وفاقی دارالحکومت میں حکومتی زعماء کے چہروں پر دھرنا پارٹ ٹوکی کامیابی مترشح ضرور ہے لیکن ساتھ ساتھ پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں جانے کے انجانے خوف کی پرچھائیں بھی موجود ہیں۔

مزید : کالم