مینٹل ہیلتھ ایکٹ 2001 ء میں ترامیم کی جائیں گی، خواجہ سلمان رفیق

مینٹل ہیلتھ ایکٹ 2001 ء میں ترامیم کی جائیں گی، خواجہ سلمان رفیق

لاہور(جنرل رپورٹر) دور جدید کی ضروریات اور ذہنی امراض کی جدید تعریف کرنے اور دیگر معاملات کو قانونی دائرہ میں لانے کے لئے مینٹل ہیلتھ ایکٹ 2001 ء میں ترامیم کی جائیں گی ۔ یہ بات مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے ہیڈ پروفیسر آفتاب آصف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بتائی گئی ۔ ملاقات میں ڈپٹی سیکرٹری ہیلتھ ٹیکنیکل ڈاکٹر محسن اور سینئر لا آفیسر رفیع احمد بھی موجود تھے ۔ پروفیسر آفتاب نے بتایا کہ آرمی پبلک سکول پشاور کے افسوسناک واقعہ کے بعد KEMU میں سائیکوٹراما سینٹر قائم کیا گیا تھا جہاں مختلف واقعات میں متاثر ہونے والے افراد کا علاج و بحالی کا کام کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے مسائل اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کے حل کے لئے مینٹل ہیلتھ ایکٹ میں ترامیم کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے اس موقع پر ترمیم شدہ (ڈرافٹ لا ) مسودہ بھی پیش کیا جو شعبہ نفسیات KEMU نے ایک سال کی محنت کے بعد تیار کیا ہے ۔

خواجہ سلمان رفیق نے سینئر لاء آفیسر اور ڈاکٹر محسن کو ہدایت کی کہ اس مسودہ کا تفصیلی مطالعہ کر کے رپورٹ دیں اور اس سلسلہ میں قانونی اور نفسیاتی ماہرین کا تعاون بھی حاصل کریں جس کے بعد محکمہ قانون سے رجوع کیا جائے گا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4