غازی علم دین شہید کے نام پر ہسپتال ، مسجد اور یو نیو رسٹی بنا ئی جائے، مذہبی رہنما

غازی علم دین شہید کے نام پر ہسپتال ، مسجد اور یو نیو رسٹی بنا ئی جائے، مذہبی ...

لاہور (سٹی رپورٹر) تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے زیرِ اہتمام مزار پُر انوار غازی علم دین شہید پربسلسلہ عُرس غازی علم دین لبیک یا رسول اللہ ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں تحریک کے مرکزی اور صوبائی قیادت اور سینکڑوں علما مشائخ و ہزاروں عاشقانِ رسول ﷺنے شرکت کی۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث علامہ حافظ خادم حسین رضوی پیشوائے اہلسنت پیر محمد افضل قادری ، پیر سید ظہیر الحسن شاہ ، صاحبزادہ پیر محمد اعجاز اشرفی، غلام غوث بغدادی، علامہ قاضی محمود اعوان، مولانا پیر سید سرور شاہ بخاری، پیر سید فضل رسول، مولاناعبدالرحمن نعیمی، محترم بلال عبداللہ، پیر راشد سیالوی، شیخ اظہر رضوی، مولانا عبدالرشید اویسی، مولانا غلام عباس فیضی و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ غازی علم الدین شہید نے انگریز کے دورِ حکومت میں گستاخِ رسولﷺ راجپال کو واصلِ جہنم کر کے سُنت فاروقی کو زندہ کر کے گستاخئ رسول ﷺ کے آگے بند باندھ دیا۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے قائدین نے کہ غازی علم الدین شہید نہ کسی خانقاہ کا سجادہ نشین تھا، نہ کسی مسجد کا خطیب اعظم تھا، نہ کسی مدرسہ کا اُستاد یا طالبعلم تھا اور پیشہ کے اعتبار سے ترکھان تھا۔ لیکن برصغیر کے سیدالسادات امیرِ ملتِ اسلامی پیر سید جماعت علی شاہ ؒ نے 6لاکھ جنازہ کے اجتماع میں حضرت غازی صاحب کے پاؤں کو چوما۔ جبکہ کسی نے کہا کہ آپ سید زادے ہو کر ایک مزدور کے پاؤں چوم رہے ہیں۔ پیر سید جماعت علی شاہ ؒ نے جواب میں کہا میں غازی صاحب کے پاؤں نہ چومتا تو کیا کرتا، اُن کے چہرہ کو میرے سامنے حضور سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے چوما ہے۔ قائدین نے کہا کہ بڑے دُکھ کی بات ہے کہ آج کے حکمران غازیان اسلام کو دہشت گردوں میں شمار کرتے ہیں۔ جبکہ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے بمبئی سے ٹرین میں سفر کر کے لاہور ہائی کورٹ میں غازی علم الدین شہید کا مقدمہ لڑا۔ اور جب جج نے کہا کہ علم دین نے قانون ہاتھ میں لیا ہے تو قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جج سے کہا کہ تمہیں نہیں معلوم مسلمان اپنے نبی ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں اور پھر مصور پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے غازی علم الدین شہید کے بارے میں کہا کہ ہم لوگ باتیں کرتے ہی رہ گئے: ’’ترکھاناں دا پُتر بازی لے گیا‘‘۔ قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کم از کم غازی علم دین شہید کے نام پر لاہور میں ایک بڑی جامع مسجد، یونیورسٹی اور ایک بڑا ہسپتال تعمیر کیا جانا چاہیئے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1