’’سبحان اللہ خان صاحب‘‘

’’سبحان اللہ خان صاحب‘‘
 ’’سبحان اللہ خان صاحب‘‘

  

دو نومبر کو اسلام آباد لاک ڈاون کرنے کا اعلان واپس لے کرخان صاحب نے ایک درست فیصلہ کیا ہے۔ میں نے بھولے کو بتایا تو وہ ناراض ہو گیا، اسے میری طرف سے فیصلے کو درست قرار دینا بھی کوئی سازش نظر آ رہا تھا اور آپس کی بات ہے کہ یہاں وہ بہت زیادہ بے وقوفی کا مظاہرہ بھی نہیں کر رہا تھا۔ بھولے بھی بہت معصوم ہوتے ہیں، ان کی قیادت کی طرف سے اداروں کی تضحیک کی جا رہی ہو تو وہ اس کی حمایت میں بھی شور مچاتے ہیں اور اگر ان پر اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہو تو اس پر بھی جشن مناتے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیڈر کا حکم ہوتا ہے۔میں نے بھولے کو بتایا کہ میں اسے درست فیصلہ اس لئے سمجھ رہا ہوں کہ باشعور قومیں اپنے فیصلے سڑکوں پر نہیں ،اداروں میں کرتی ہیں مگر اس کو یہ نہیں بتایا کہ خان صاحب کے پاس اس کے سوا کوئی دوجا راستہ بھی نہیں تھا۔ حکومت کی مزاحمت کے بعد انہیں فیس سیونگ کی ضرورت تھی ۔ بنی گالہ پہنچنے والے کارکنوں کی تعداد کسی صورت بھی چند سو سے زیادہ نہیں تھی۔ تمام امیدیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک سے تھیں جنہوں نے اپنے ساتھ تمام تر حکومتی اور سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ایک لاکھ افراد کو لانا تھا مگر ان کے ساتھ کسی طور بھی پانچ سو سے زائد گاڑیوں کو قافلہ نہیں تھا ،ہر گاڑی میں پانچ افراد تصور کر لئے جائیں تو یہ تعداد اڑھائی ہزار بنتی ہے اور اتنے کم لوگوں کے ساتھ چند اسلام آباد کے تھانوں کی حوالاتیں تو بھری جا سکتی تھیں مگر اسلام آباد لاک ڈاون نہیں ہو سکتا تھا، عملی صورتحال یہ تھی کہ اسلام آباد لاک ڈاون ہونے کی بجائے بنی گالہ لاک ڈاون ہو گیا تھا۔

میں نے بھولے سے کہا کہ خان صاحب نے ایک بروقت فیصلہ کیا ہے کہ آج دو نومبر کو اسلام آباد کی سڑکوں پر خون خرابہ ہو سکتا تھا، کارکنوں کی طرف سے ڈنڈے اور پتھر ہی نہیں بلکہ اسلحہ لانے کی کوشش کسی وقت بھی کسی سانحے کو جنم دے سکتی تھی، مجھے عمران خان اور نواز شریف کے سیاسی مفادات سے کہیں زیادہ ان ماوں کی فکر تھی جن کے بچے سڑکوں پرگمراہ کن سیاسی نعرہ بازی کی وجہ سے مارے جا سکتے تھے۔ ان عورتوں کی فکر تھی جو بیوائیں ہو سکتی تھیں، ان بچوں کا غم سوچ سوچ کے ہی مارے جا رہا تھا جنہیں یتیمی کا دکھ سہنا پڑسکتا تھا اور قائدین نے انہیں شہید قرار دینے کے بعد بھول جانا تھا۔میں نے بھولے کو یہ نہیں بتایا کہ خان صاحب یہ فیصلہ اتنی ہی تاخیر سے کیا ہے جتنی تاخیر سے انہوں نے انتخابی دھاندلی کے معاملے سپریم کورٹ کے اعلیٰ سطحی کمیشن کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے چودہ اگست سے دو روز قبل ہی اپنے قوم سے خطاب میں سپریم کورٹ کی ثالثی قبول کرنے کا اعلان کر دیا تھا مگر عمران خان بضد تھے کہ پہلے میاں نواز شریف مستعفی ہوں ۔ انہوں نے سوا سو سے بھی زائد دنوں تک اپنے کارکنوں کے جذبوں اورولولوں ہی نہیں بلکہ پیسوں کوبھی ضائع کیا اوراس کے بعد وہی کچھ مان لیا جو اصولی اور منطقی طور پر مانا اور منایا جا سکتا تھا۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ خان صاحب نے ایک ناکام تجربے کے بعد پھر سات ماہ ضائع کر دئیے۔ پانامہ لیکس آنے کے فوراً بعد وزیراعظم میاں نواز شریف نے پہلے کی طرح سپریم کورٹ کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات اور فیصلے کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا تھا، ہاں، یہ درست ہے کہ ٹی او آرز پراختلافات تھے مگر وہ تو اب بھی ہیں، یہ اختیار پہلے بھی سپریم کورٹ کو دینے کی پیش کش کی گئی تھی اور آج بھی صورت حا ل کم و بیش وہی ہے۔پی ٹی آئی کے دوستوں کو دیکھتے ہوئے نجانے وہ پٹھان کیوں شدت سے یاد آ رہا ہے جو پانچ ہزار ، پانچ ہزار کا شور مچانے کے بعد قالین پانچ سو ادھار کے وعدے پر ہی بیچ گیا ہے۔

میں نہیں جانتا کہ جب آپس میں بحث ہو رہی ہو گی تو اس وقت آج کے روز یوم تشکر منانے کی تجویز کس اعلیٰ دماغ کی طرف سے آئی ہوگی کہ یوم تشکر تو ہمیشہ کامیابی کے بعد ہی منایا جاتا ہے ،یہاں ایک لڑائی سیاسی میدان سے عدالتی میدان میں پہنچنے کے سوا کوئی کامیابی نہیں،کیا یوم تشکر منانے والے میاں نواز شریف کے اس اطمینان کو محسوس نہیں کر رہے،کیایہ اطمینان اور اعتماد ان کے لئے خطرے کی ایک گھنٹی نہیں ہے۔ کیا انہوں نے یہ فیصلہ چیف جسٹس کے ایک حکومت پر تنقیدی بیان کی روشنی میں کر لیا ہے۔ مجھے سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرے گی۔ کچھ بھولے سمجھتے ہیں کہ لیکس کا معاملہ شائد دو جمع دو چار کی طرح سیدھا ہے مگر سیاست میں کبھی بھی معاملات اتنے سیدھے نہیں ہوتے ۔ حب علی سے زیادہ بغض معاویہ میں حکومت کی ٹانگیں کھینچنے والوں نے انگریزی اخبار کی خبر اوروزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک پرہونے والی شیلنگ کو حکمرانوں کی سلامتی اور ملکی سالمیت کے لئے ز یادہ پانامہ لیکس سے زیادہ خطرناک قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ مجھے بغض معاویہ رکھنے والے مہربانوں سے بحث کے دوران احساس ہوا کہ انہیں پانامہ لیکس کی کمان سے چھوڑے ہوئے تیر کے خطا ہونے کا یقین ہو گیا ہے ۔ میں اس حد تک ان سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیشہ کی طرح پانامہ لیکس سے بھی کہیں زیادہ اہم معاملہ سول ملٹری ریلیشن شپ کا ہے اوراسی پر ہی حکومت کے مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ ابھی تک آنے والی متضاد اطلاعات میں ایک خبر یہ ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجواہ کو چیف آرمی سٹاف جبکہ لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو چئیرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان مشاورت مکمل ہو چکی ہے مگر دوسری طرف موجودہ آرمی چیف کوان کی دہشت گردی کے خاتمے اور جمہوریت کے تسلسل کے سلسلے میں خدمات اور کردار پر ایک برس کی توسیع دینے کی خبریں ابھی تک گردش میں ہیں۔ بعض جگہوں پر یہ دعویٰ بھی ہے کہ حکومت ان ناموں کا بھی جائزہ لے رہی ہے جو ایک برس کے بعد فوج کی سربراہی کے لئے سامنے آئیں گے مگرانگریزی اخبار کی خبر کا معاملہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سے نہیں بلکہ فوج کے ادارے سے مجموعی طور پر تعلق رکھتا ہے لہذا باخبر دوستوں کا اصرار ہے کہ یہ معاملہ ہر دوصورتوں میں منطقی انجام تک پہنچانا پڑے گا۔

دوسرا سوال پاکستان کی سالمیت کے حوالے سے ہے ، یہ کہا جا رہا ہے کہ پنجاب پولیس کی طرف سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے قافلے پر شیلنگ کر کے پاکستان کو توڑنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے تو مجھے اس پر یہ کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ تمام پختونوں کی نمائندگی نہیں کرتے، ان کے پاس نہ صرف پختونوں کی طرف سے ملنے والا محدود مینڈیٹ ہے بلکہ ان کی طرف سے پنجاب کے راستے وفاق پر چڑھائی کو پختونوں کی نمائندہ دیگر سیاسی جماعتیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ پنجاب پولیس کو شیلنگ نہیں کرنی چاہئے تھی مگر اس سے پہلے اسے درست ماننا پڑے گاکہ پرویز خٹک کو پنجاب کے راستے اسلام آباد پر چڑھائی کاشرمناک منصوبہ ہی نہیں بنانا چاہئے تھا۔ پنجاب نے ہمیشہ وفاق اور اس کی دیگر اکائیوں کے لئے قربانی دی ہے، اپنے حصے کا پانی دیا ہے، اپنی اگنے والی گندم دی ہے، پنجاب کے حصے کی بجلی کراچی کو طویل عرصے تک دی جاتی رہی اوربعض اطلاعات کے مطابق ا ب بھی دی جا رہی ہے مگر دوسری طرف ان صوبوں نے اپنی پیداوار قرار دیتے ہوئے پنجابیوں کو گیس کی منصفانہ تقسیم سے محروم رکھا ہوا ہے، اگر ہم اس بحث میں پڑیں گے تو این ایف سی اور کالاباغ سمیت بہت سارے ابواب کھل جائیں گے۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جس میں جانا سب کے لئے ہی خطرناک ہو گاکیونکہ گروہی اور سیاسی مفادات کو قومی مفادات کا نام دے کر قوم کو گمراہ کیا جا رہا ہے دونومبر کوعمران خان صاحب سے کیا جانے والا اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر ان کے الفاظ کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے باوجود ان کی جیبوں سے کچھ غلط برآمد نہ ہوا توپھر وہ گذشتہ انتخابات میں کمایا ہوا وقت، جو ان کی اس وقت تک کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی پونجی ہے، احتجاجوں ا ور دھرنوں میں ضائع کرنے کے بعد کہاں کھڑے ہوں گے۔ خان صاحب کے فیصلے کے درست ہونے کو اس تبصرے میں ڈھونڈا جا سکتا ہے،کہا گیا،’’ ہم یعنی عمران خان اور تحریک انصاف، کہہ رہے تھے کہ کمیشن بناو، حکومت کمیشن بنانے پر راضی تھی اس لئے ہم احتجاج کر رہے تھے۔ اب سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ کمیشن بناواور حکومت کمیشن بنانے پر راضی ہے اس لئے ہم احتجاج موخر کر رہے ہیں‘َ‘۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔ سبحان اللہ خان صاحب !!!

مزید : کالم