موصل کی بازیابی کے بعد جرمنی کو دہشت گردی کے سنگین خطرات لاحق ہو نے کا انتباہ

موصل کی بازیابی کے بعد جرمنی کو دہشت گردی کے سنگین خطرات لاحق ہو نے کا انتباہ

برلن(این این آئی)جرمنی کے داخلی خفیہ ادارے نے کہاہے کہ موصل کی بازیابی کے بعد جرمنی کو دہشت گردی کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ خفیہ ادارے نے دائیں بازو کی جانب سے پرتشدد رویہ اپنانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کی داخلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ہانس گیورگ ماسن نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں واضح کیا کہ جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو عراقی شہر موصل میں ہونے والی ممکنہ شکست کے بعد جرمنی میں جہادیوں کے حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ماسن نے اس مناسبت سے کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی صفوں میں شامل جرمن جہادی جب واپس وطن لوٹیں گے تو امکاناً وہ تخریبی راستے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ماسن نے برلن حکومت کو خبردار کیا کہ مہاجرین کی آبادکاری کے تناظر میں جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے افراد بھی مسلح حملوں میں شدت پیدا کر سکتے ہیں۔ہانس گیورگ ماسن نے بتایا کہ جرمن حکام موصل کی بازیابی کے بعد پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور جوابی حکمت عملی وقت پر مکمل کر لی جائے گی۔ ماسن نے یہ بھی کہا کہ جرمن جہادیوں کے لیے عراق اور شام کے جنگی حالات کسی بھی طرح پرکشش نہیں ہو سکتے اور واپس آنے والے جہادی شکست اور ناکامی سے بھرے ہوں گے۔ ماسن کے مطابق یہی کیفیت اْن کو دہشت گردانہ حملوں کے لیے ترغیب دے گی تا کہ وہ ذہنی طور پر اپنی پسپائی کا بدلہ لیں سکیں۔

مزید : عالمی منظر