متنازع منصوبے کا افتتاح کردیا گیا

متنازع منصوبے کا افتتاح کردیا گیا

مقبوضہ بیت المقدس (آن لائن)صہیونی ریاست کی جانب سے بیت المقدس کو یہودیانے کے مذموم عزائم پرعمل درآمد کرتے ہوئے شہر مقدس میں ’یروشلم نیو فیس‘[باب یروشلم] نامی منصوبے کا افتتاح کردیا گیا ہے۔ اس متنازع اور مذموم منصوبے کی آڑمیں صہیونی ریاست اڑھائی ارب ڈالر کی رقم سے بیت المقدس کویہودیانے کی سازش کررہی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے مغربی بیت المقدس میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اسرائیلی وزیر مواصلات یسرائیل کاٹز، وزیر برائے القدس امور زئیف الکاین اور بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ کے سربراہ نیر برکات نے شرکت کی۔ اس تقریب کے بعد مغربی بیت المقدس میں نئے اسرائیلی اقتصادی ویڑن کے تحت ’باب یروشلم‘ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔مرکز اطلاعات فلسطین نے القدس کے داخلی راستے کو ایک نئے اور پرکشش ڈیزائن کے ساتھ تیار کرنے کا خطرناک صہیونی منصوبہ چند ماہ پیشتر منظر عام پر آیا تھا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں اسے ’’یروشلم فیس‘‘ یعنی ’القدس کا چہرہ‘ یا ’’باب یروشلم‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس نئے منصوبے کا مقصد بیت المقدس کی مغربی سمت کے داخلی راستے کو جدید خطوط پر تیار کرنا، القدس پر یہودیت اور عبرانیت کی چھاپ مزید گہری کرنا اور شہر کی اسلامی اور تاریخ وتہذیب وتمدن کو مسخ کرنا ہے۔اسرائیلی حکومت نے مجموعی طور پر اس منصوبے کی تکمیل کے لیے دو ارب 50 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پہلے مرحلے کے لیے ایک ارب 40 کروڑ شیکل رقم منظور کی گئی ہے۔امریکی کرنسی میں یہ رقم 350 ملین ڈالر ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی بلدیہ کی طرف سے تین عالمی کمپنیوں سے ’’القدس نیو فیس‘‘ کے نمونے کے نقشے طلب کیے گئے تھے۔ حتمی طور پر جرمنی کی ایک تعمیراتی کمپنی کو یہ ٹھیکہ سونپا جا رہا ہے۔ القدس کو یہودیانے کی صہیونی سازشوں کو آگے بڑھانے کے لیے جرمن کمپنی ’’طوفوطک 1‘‘ نے برطانیہ اور پرتگال کی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔اس منصوبے کی جو دیگر تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی بلدیہ القدس کی مغربی سمت کے مرکزی داخلی راستے کو نئے انداز اور ڈیزائن میں تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

مرکزی گیٹ کے 211 دونم رقبے کو صرف ’’القدس نیو فیس‘‘ کے لیے مختص کیا گیا ہے جب کہ مجموعی طورپر 720 دونم رقبے پر دیگر تعمیرات بھی اسی کا حصہ ہیں۔ منصوب پر 1 ارب 40 کروڑ شیکل کی رقم کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر