کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیردلیری اور بے باکی سے فیصلے کرنا ہمارا آئینی فریضہ ہے :چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیردلیری اور بے باکی سے فیصلے کرنا ہمارا آئینی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ لوگوں کو جلداور معیاری انصاف کی فراہی یقینی بناناہماری اولین ترجیح ہے، جس کیلئے عدالت عالیہ اور ضلعی عدلیہ کے ججز ہر وقت کوشاں ہیں۔ دلیری و بے باکی اور کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر فیصلے کرنا ہمارا آئینی فریضہ ہے۔ عدالت عالیہ کی 150سالہ تقریبات کو منانے کا مقصد صوبے کی عوام کو احساس دلانا ہے کہ ایک قابل اور متحرک عدلیہ انکے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے موجود ہے اور اس عدالتی نظام میں مثبت اصلاحات لائی جار ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ لاہور کی ایک سو پچاس سالہ تقریبات کے آغاذ سے نظام انصاف سے منسلک ہر فردبہت پر جوش ہے، ذاتی اختلافات کی بناء پر ہم اس ادارے کی تاریخ کو مسخ نہیں کر سکتے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ان خیالات کا اظہار عدالت عالیہ لاہور کی ایک سو پچاس سالہ تقریبات کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عدالت عالیہ لاہور کے سابق چیف جسٹس صاحبان، فاضل جج صاحبان، صوبائی و وفاقی لاء افسران اور بار کے نمائندوں نے فاضل چیف جسٹس کے ہمراہ عدالت عالیہ لاہور کی عمارت عدالت عالیہ کا نیا پرچم لہرایا اور فضاء میں خوبصورت غبارے اور کبوتر چھوڑے گئے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت عالیہ کا ایک سو پچاس سال کا سفر صرف ہماری نہیں، اس میں ضلعی عدلیہ اور بار بھی شامل ہیں۔ 1866 سے شروع ہونے والا سفر آج ایک سو پچاس سال تک پہنچ چکا ہے اور اس تقریب میں شامل ہونے پر سابق چیف جسٹس صاحبان، فاضل جج صاحبان، صوبائی و وفاقی لاء افسران اور خصوصاََ بار نمائندوں کے مشکور ہیں جنہوں نے اس پر مسرت تقریب کو رونق بخشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار نظام عدل کا بہت اہم جزو ہے، اس نے آئین او ر آئین کی حاکمیت کیلئے ایک طویل جنگ لڑی ہے، اس تقریب میں شرکت کیلئے پاکستان بار کونسل ، پنجاب بارکونسل اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن سے لیکر لاہور بارایسوسی ایشن تک سب کو اس تقریب میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا ہے ۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا انہیں خوشی ہے 1966 میں عدالت عالیہ لاہور کی سو سالہ تقریبات کا اہم حصہ ملک سعید حسن ایڈووکیٹ آج اس تقریب کا بھی حصہ ہیں۔فاضل چیف جسٹس نے عدالت عالیہ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی عمارت کا سفر1866 سے شروع ہوا، اس سے قبل کوئی رسمی عدالتی نظام موجود نہیں تھا۔ 1866 میں چیف کورٹ ایکٹ کے تحت بننے والی عدالت کے پہلے جوڈیشل کمشنر اے اے رابرٹ تھے۔ جوڈیشل کمشنر کے عہدے کو1884 میں چیف جسٹس کے عہدے کے ٹائٹل سے تبدیل کر دیا گیااور1919 میں اس ادارے کو نام تبدیل کر کے ہائی کورٹ رکھ دیا گیا۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ 1919 میں اس ادارے کا محض نام تبدیل کیا گیا، ہماری تاریخ 1866 سے ہی شروع ہوتی ہے جسے یاد رکھنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا 1966 میں عدالت عالیہ لاہور کی سو سالہ تقریبات منائی گئیں جس میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے بطور چیف گیسٹ شرکت کی تھی۔ فاضل چیف جسٹس بتایا کہ عدالت عالیہ کی عمارت میں مسلم (عربی)، عیسائی اور ہندو تہذیبوں کے اثرات ملتے ہیں جو مذہبی ہم آہنگی کا خوبصور ت مظہر ہیں۔ اس کا مطلب عدالت عالیہ میں رنگ ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے موجودہ طور پر عدالت عالیہ لاہور اور راولپنڈی، ملتان اور بہاولپور میں قائم بنچز 1973 کے آئین کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ جس کیلئے افراد کے مابین اختلافات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ بار، بنچ اور تمام ججزمیرے دست و بازو ہیں۔ ہم انصاف پر فیصلہ کرینگے یہی ہماری تاریخ اور یہی ہماری ورثہ اور یہی ہمارا مستقبل ہے۔

مزید : صفحہ اول