ای میلز کی دوبارہ تحقیقات کا معاملہ ،ٹرمپ کو ابتدائی سروے میں ہیلری پر سبقت

ای میلز کی دوبارہ تحقیقات کا معاملہ ،ٹرمپ کو ابتدائی سروے میں ہیلری پر سبقت

واشنگٹن (اے این این)ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مخالف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن پر 8 نومبر کو ہونے والے انتخاب سے قبل کئے گئے سروے میں سبقت حاصل کرلی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایف بی آئی کی جانب سے ہیلری کلنٹن کے خلاف خفیہ ای میل کے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کے اعلان کے بعد سے امریکا کی سیاست نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے اور چند روز قبل ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کو مخالف امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر سبقت حاصل تھی لیکن اب انہیں شدید دھچکے کا سامنا ہے۔ حالیہ نئے سروے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو 46 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے اور ہیلری کلنٹن 45 فیصد کے ساتھ پیچھے ہیں جب کہ 9 روز قبل کئے گئے سروے میں ہیلری کلنٹن کو مخالف امیدوار پر 12 پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی۔دوسری جانب ہیلری کلنٹن کے خلاف خفیہ ای میل کی دوبارہ تحقیقات کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر تنقید کے نشتر چلانے کی رفتار میں مزید اضافہ کردیا جب کہ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو ٹرمپ کو ہیلری پر 8 پوائنٹس کی سبقت حاصل ہوسکتی ہے اور وہ 53 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے جب کہ ہیلری کلنٹن کو 45 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہوگی۔اس سے قبل 22 اکتوبر تک ہیلری کلنٹن کو 52 فیصد اور ٹرمپ کو 49 فیصد عوام کی حمایت حاصل تھی۔ سال بھر انتخابی مہم چلانے والی ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن نے 22 اکتوبر کو ٹرمپ پر سبقت حاصل کی لیکن 5 روز بعد ہی 28 اکتوبر کو خفیہ ای میل کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر سال بھر کی گئی کوششوں پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔واضح رہے کہ ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی نے 28 اکتوبر کو سینیٹ کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ انہیں سابق وزیرخارجہ اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی خفیہ ای میل کی تحقیقات کے حوالے سے بعض شواہد ملے ہیں جس کے بعد ان کے خلاف ایک مرتبہ پھر تحقیقات شروع کی جارہی ہیں۔دوسری طرف ہیلری کلنٹن کی امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر پر کڑی تنقید ٗ کلنٹن کی انتخابی مہم نے ہلیری کلنٹن کی ای میل کے استعمال کے متعلق نئی تحقیقات پر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی پر دوہرے معیار برتنے کا الزام لگایا ہے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی میڈیا کے مطابق جیمز کومی نے برملا روس پر امریکی انتخابات میں مداخلت اور مبینہ ای میل ہیکنگ کا الزام لگایا ہے۔ایف بی آئی نے اس معاملے پر بی بی سی کو معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں وفاقی تفتیشی ادارے (ایف بی آئی )کو ڈیموکریٹ جماعت کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی ای میلز کا 'بڑا ذخیرہ مل جائے گا۔انھوں نے یہ بات مشی گن میں ایک ریلی کے دوران کہی۔ان کا کہنا تھا کہ ان کو امید ہے کہ 33ہزار ڈیلیٹ کی گئی ای میلز مل جائیں گی۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ای میلز کی بہت بڑی تعداد ہے۔ میرے خیال میں وہ 33 ہزار ای میلز مل جائیں گی جو لاپتہ تھیں۔ شکریہ ہماعابدین، ہما بہت عمدہ کام کیا ہے۔ شکریہ انتھنی وائنر۔امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے سربراہ کا اپنے ادارے کو یہ بتانا کہ وہ ممکنہ طور پر ہیلری کلنٹن سے منسوب ای میلز کی تفیش کر رہے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ہیری ریڈ نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے پر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایکٹ حکام کو انتخابات میں اثر انداز ہونے سے روکتا ہے۔امریکہ کے تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے ہیلری کلنٹن کی ای میلز سے متعلق نئی تحقیقات کی خبر امریکہ میں آئندہ ماہ چھ نومبر کو ہونے والے صدارت انتخاب سے دو ہفتے قبل سامنے آئی ہے۔دریں اثنا ایف بی آئی نے سابق امریکی وزیرِ خارجہ کی نائب ہما عابدین کی ای میلز تلاش کرنے کے لیے وارنٹ حاصل کیے ہیں۔یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ہیلری کلنٹن سے متعلق یہ ای میلز ہما عابدین کے سابق شوہر اینتھونی وینر کے لیپ ٹاپ سے ملی تھیں۔ہیلری کلنٹن کے خلاف یہ مقدمہ جولائی میں ختم کر دیا گیا تھا اور ان کے خلاف کوئی الزام بھی عائد نہیں کیا گیا تھا۔ایک اندازے کے مطابق لیپ ٹاپ میں ساڑھے چھ لاکھ ای میلز ہیں لیکن ان میں یہ واضح نہیں کہ کس نے کس کو ای میل کی اور یہ ای میلز کس حوالے سے ہیں۔

مزید : صفحہ اول