دو نومبر کی لاک ڈاؤن کال یکم نومبر کو کیوں واپس ہوئی؟

دو نومبر کی لاک ڈاؤن کال یکم نومبر کو کیوں واپس ہوئی؟

تجزیہ: نعیم مصطفےٰ

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے اسلام آباد بند کرنے کے اعلان کو یوم تشکر میں تبدیل کرنے کے فیصلے سے پی ٹی آئی کی سیاست اور خودعمران خان کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ایک طرف تو اس فیصلے نے درجنوں رکاوٹیں عبور کرکے شہر اقتدار تک پہنچنے والے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مایوسی میں دھکیل دیا ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے خاموش سپورٹرز کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی فیصلوں پر کس حد تک قائم رہنے والے رہنما ہیں۔ دو نومبر کی کال کو وفاقی اور پنجاب حکومت نے جس دانشمندی سے ناکام بنایا وہ قابل ستائش ہے تو دوسری جانب خیبرپختونخوا سے اسلام آباد بند کرنے کی خواہش لئے پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کے لئے اس لئے مایوسی کا باعث ہے کہ وہ صوابی سے ہارون آباد پل اور برہان انٹرچینج تک جس کرب اور ابتلاسے گزرے اور ان کی امیدوں پر اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی پانی پھیر دیا گیا اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ کس نام سے یاد رکھے گی۔ وزیر اعلیٰ خیبرپرویز خٹک خود بھی بڑھاپے کی عمر میں جوان کارکن جیسے حوصولے کا مظاہرہ کرتے رہے جس کا خود عمران خان نے بھی بارہا اعتراف کیا۔ ان کے لئے بھی اپنے قائد کا فیصلہ نہایت حیران کن ثابت ہوا ہوگا کیونکہ وزیراعلیٰ تو اس فیصلے سے دوتین گھنٹے قبل تک اس تحریک کے مہینوں چلنے کا تذکرہ کررہے تھے اور وہ کم از کم ایک ماہ کے لئے راشن سمیت تمام لاجسٹکس لے کر آئے تھے۔ ان کی کابینہ کے کئی اراکین بھی موٹروے پر پنجاب پولیس کی شیلنگ اورلاٹھی چارج کا شکار ہوئے۔ ان کے لئے بھی شاید عمران خان کا فیصلہ زیادہ خوش آئند نہیں ہوگا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ نے گزشتہ سال اکتوبر میں بھی پاکستانی تاریخ کا سب سے طویل دھرنا اچانک ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اس وقت بھی صورتحال اسی قسم کی تھی اور یہ کارکنوں کی جانب سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا جارہا تھا کہ نجانے ہمارے قائد نے اس دھرنے کو نتیجہ خیز کیوں ثابت نہ ہونے دیا۔ ہمیں تو کہا جارہا تھا کہ فتح کی منزل قریب ہے۔ اس مرتبہ اسلام آباد لاک ڈا?ن کرنے کے فیصلے کا اعلان جس شد ومد سے کیا گیا تھا اتنی ہی تیزی اور برق رفتاری سے اسے ایک روز قبل ہی واپس لے لیا گیا۔ کیا فیصلے کا اعلان غلط تھا یا اسے واپس لینے کا فیصلہ درست نہیں؟ اس بارے میں تو آنے والا وقت ہی کچھ بتائے گا یا سیاسی مورخ اس کا تجزیہ کریں گے لیکن ایک بات قریب از حقیقت ہے کہ ناپختہ سیاستدانوں کے اجلت میں کئے گئے فیصلے کبھی تاریخ میں سنہری حروف سے نہیں لکھے جاتے۔ جہاں تک عمران خان کی طرف سے وفاقی دارالحکومت بند کرنے کے دن محض پریڈ گرا?نڈ میں سیاسی جلسہ کرنے کا تعلق ہے تو یہ محض ’’گونگلو?ں سے مٹی جھاڑنے‘‘ کے مترادف ہے۔ 10 لاکھ افراد جمع کرنے کا دعویٰ بھی بڑا عجیب دکھائی دیتا ہے کہ محض عمران خان کی تقریر سننے کے لئے اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیسے جمع ہوجائیں گے۔ عمران خان جب منگل کی سہ پہر بنی گالا میں یہ اعلان کررہے تھے تو ہم نے خواتین سمیت پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو باقاعدہ آنسو بہاتے دیکھاجبکہ اکثر نے اپنے قائد کے اس فیصلے پر برملا ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ وہاں کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے لیکن میڈیا سے متعلق لوگوں کی تعداد بھی اس قدر زیادہ تھی کہ آج سے پہلے کسی ایونٹ پر نہیں دیکھی گئی۔ ان میں کئی ایک معروف تجزیہ کار بھی تھے جن کا خیال تھا کہ عمران خان نے لاک ڈا?ن کی کال اپنے طور پر واپس نہیں لی یہ یقیناًکسی طرف سے ان کو یقین دہانی کروائی گئی ہوگی کہ وہ سیاسی کشیدگی کو جلا? گھیرا? او مارولوٹو کی طرف بڑھنے سے روکیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ قائد تحریک انصاف نے ’سکن سیف‘ کرنے کے لئے عدالت عظمیٰ کی پانامہ کیس سماعت کا سہارالیا ہے اور اس امر کوبھانپتے ہوئے کہ حکومتی اقدامات کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں کا بڑی تعداد میں اسلام آباد پہنچنا ناممکن ہے اور وہ مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ویسے تو عمران خان اور پی ٹی آئی کا سارادارومدارخیبرپختونخوا سے آنے والے قافلے پر تھا جس کے لئے انہوں نے سرکاری اور سیاسی سطح پر خوب محنت بھی کی تھی اس قافلے کو موٹروے پر پسپاہونے پر مجبور ہوجانے کے باعث آخری امید بھی دم توڑ گئی تھی اس لئے عافیت اسی میں جانی گئی کہ وفاقی دارالحکومت بند کرنے سے فرار کا کوئی راستہ اختیار کرلیا جائے۔ آج پریڈ گرا?نڈ میں عمران خان دو اہم اعلان کرسکتے ہیں اور وہی ان کا آئندہ سیاسی مستقبل یا ایجنڈاکہلائے گا۔ ایک طرف تو وہ یہ کہیں گے کہ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران ہر روز خود سپریم کورٹ میں پیش ہوا کروں گا اور اس وقت تک وزیراعظم میاں نواز شریف کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک ان سے مبینہ کرپشن کا حساب نہ لے لوں۔ دوسری جانب وہ پاکستان میں انتخابی اصلاحات کا ایجنڈا بھی رکھتے ہیں اور اسے آج کے جلسے میں پی ٹی آئی کے سیاسی مستقبل سے جوڑنے کا اعلان بھی کرسکتے ہیں۔ دو نومبر کو شہر اقتدار بند کرنے اوریکم نومبر کو اس فیصلے کو واپس لینے کے عمران خان اور پی ٹی آئی پر کیا سیاسی اثرات ہوں گے اس کا جواب زیادہ مشکل تو نہیں لیکن پی ٹی آئی کے کارکن بالخصوص اور سیاسی شعور رکھنے والے عوام بالعموم اس حوالے سے تشنہ جواب ضرور ہیں۔

مزید : تجزیہ