عمران خان فیصلے سے شاداں ،موہوم امیدوں کا تاج محل تعمیر کرنیوالے پریشان

عمران خان فیصلے سے شاداں ،موہوم امیدوں کا تاج محل تعمیر کرنیوالے پریشان

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاک ڈاؤن کو جس انداز میں جشن کے جلسے میں بدلا ہے اس پر ان لوگوں کو مایوسی تو ہوئی ہوگی جنہوں نے اپنی امیدوں کے تاج محل 2 نومبر کے متوقع واقعات پر استوار کر رکھے تھے۔ جو لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں اور ان کے انداز سیاست سے تھوڑی بہت شُد بُد بھی رکھتے ہیں انہیں البتہ زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔ کپتان اپنی مرضی کے مالک ہیں اور فیصلے بھی خود کرتے ہیں، بادشاہت کے وہ سخت مخالف ہیں، موروثی سیاست کو بھی پسند نہیں کرتے لیکن ان کے فیصلوں کا انداز بہرحال شاہانہ ہے۔ انہوں نے کرکٹ پر راج کیا تو انہی شاہانہ فیصلوں کی وجہ سے کیا، اب اگر سیاست میں یہ فیصلے نہیں چل پا رہے تو یہ الگ بات ہے۔ کپتان کو کرکٹ سے الگ کرکے تو نہیں دیکھا جاسکتا۔ شیخ رشید احمد اس کے باوجود ان کے ساتھ چل رہے ہیں کہ انہوں نے ایک بار کہہ دیا تھا کہ وہ شیخ رشید کو اپنا چپراسی بھی نہ رکھیں، لیکن اب اگر کوئی یہ کہے کہ انہوں نے شیخ رشید کو چپراسی کی بجائے مشیر کیوں رکھ لیا تو وہ کہہ سکتے ہیں ’’چپراسی تو نہیں رکھا نا‘‘۔ مسلم لیگ (ق) بھی ان کے ساتھ نہ صرف کھڑی ہے بلکہ چل رہی ہے اب اگر جھنڈوں والا ٹرک پولیس نے پکڑ لیا تو اس میں مسلم لیگ (ق) کا تو کوئی قصور نہیں انہوں نے تو جھنڈے (ڈنڈوں سمیت) لہرانے کیلئے ٹرک راولپنڈی بھیج دیا تھا، اب آج پریڈ گراؤنڈ میں جو جشن بپا ہوگا یا یوم تشکر ہوگا اس میں بھی تو جھنڈے لہرائیں گے۔ عوامی تحریک بھی عمران خان کی سیاست کے ساتھ ہے لیکن اس کے قائد کو بھی عمران خان کا فیصلہ پسند نہیں آیا، اب وہ لیڈر ہیں ہر کسی کو فرداً فرداً اپنے فیصلوں کی اہمیت اور ان کے اندر چھپی ہوئی حکمتوں سے تو آگاہ کرنا ان کیلئے ممکن ہے اور نہ ہی مناسب۔ انہوں نے جب ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصہ پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کریں گے تو یہ درست فیصلہ تھا پھر وہ لوگوں کو اس مقصد کیلئے متحرک کرنے کی خاطر کہاں کہاں نہیں گئے، رائیونڈ تک ہو آئے‘ وہاں جلسہ عام میں ان کی للکار بھی سنی گئی، لاہور کی مال روڈ پر انہوں نے ریلی بھی نکالی، فیصل آباد میں جلسہ بھی کیا اور آخر میں یہ اعلان بھی کردیا کہ ہمارا یہ احتجاج (لاک ڈاؤن) آخری احتجاج ہوگا، اس کے بعد ہم کوئی احتجاج نہیں کریں گے کہ ضرورت ہی نہیں رہے گی کیونکہ جن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں وہی نہیں ہوں گے، پھر ابھی دو روز قبل انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مستعفی ہوگئے تو ہمارا احتجاج جشن میں بدل جائے گا۔ کیا بلا کا اعتماد ہے کپتان کے ان الفاظ میں، نہ صرف انہیں یقین تھا کہ اب کی بار استعفا آوے ای آوے اور وزیراعظم جاوے ای جاوے، بلکہ ان کے اعتماد میں اس وقت اور بھی اضافہ ہو جاتا تھا جب سوشل میڈیا پر ان گنت لوگ ان کے اعتماد میں یہ کہہ کر اضافہ کردیتے تھے کہ انہوں نے جو کچھ کہا درست کہا، انہی دنوں پرویز رشید کا استعفا آیا تو انہوں نے کیا شاندار تبصرہ کیا ’’ایک درباری گیا‘ دوسرا بھاگ گیا، باقیوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں‘‘ لیکن اگلے ہی دن بھاگ جانے والے درباری نے واپس آکر ٹویٹ کیا ’’میں آگیا ہوں تمہارا کیا بنے گا کالیا؟‘‘ اب جن لوگوں کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں وہ کپتان کے فیصلے پر رنگ برنگے تبصرے کر رہے ہیں اور اسے کپتان کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن وہ کوئی ’’امپائر‘‘ تو نہیں ہیں یہ فیصلہ تو بہرحال کوئی امپائر ہی کرے گا، اس ماحول اور اس فضا میں چودھری نثار علی خان نے متوازن رویہ اپنایا اور 44 سالہ دوست کے فیصلے کو سراہا اور کہا انہوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔ چودھری نثار اگرچہ ایچی سن کالج کے دور سے عمران خان کی دوستی کا دم بھرتے ہیں لیکن سیاسی طور پر دونوں کی راہیں ہمیشہ جدا جدا رہیں، اب بھی وہ مخالف سمتوں کی سیاست کرتے ہیں لیکن چودھری نثار علی خان کی خوبی یہ ہے کہ وہ بات صاف اور سیدھی کرتے ہیں اور خود تسلیم کرتے ہیں کہ غلط ہوسکتی ہے ضمیر کے فیصلے کے مطابق بہرحال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاش آنسو گیس نہ چلانی پڑتی اور کنٹینر نہ لگانے پڑتے۔ اب جس فیصلے کو ایک سیاسی مخالف برسر عام سراہ رہا ہے اور اس کے اندر چھپی ہوئی حکمتوں کو سمجھتا ہے حیف ہے کہ عمران خاں کے بعض ساتھی انہیں نہیں سمجھتے اور ڈاکٹر طاہرالقادری تو اس پر انا للہ بھی پڑھ رہے ہیں حالانکہ انہیں سیاسی بصیرت کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ اندازہ تو پہلے بھی ہونا چاہئے تھا کہ کپتان کے فیصلے حکمت عملی سے خالی نہیں ہوتے۔ مولانا فضل الرحمان کا تذکرہ ہم نہیں کرتے جنہوں نے بہرحال عمران خان کی مخالفت کرنا ہوتی ہے اور انہیں مجسم ’’یو ٹرن‘‘ قرار دیتے ہیں حالانکہ سیاست میں فیصلے وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے بھی پڑتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو اس وقت جو سیاست دان تحریک انصاف کو رونق بخشے ہوئے ہیں وہ اس جماعت میں نہ ہوتے۔ چودھری سرور کو ہی لے لیں، برطانیہ کی شہریت اور پنجاب کی گورنری چھوڑ کر تحریک انصاف میں گئے تو کوئی وجہ تو ہوگی۔

عمران خان بہرحال اپنے فیصلے سے خوش ہیں بلکہ شاداں و فرحاں ہیں اور ان کا خیال ہے ہم جو چاہتے تھے وہ ہمیں مل گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ’’تلاشی‘‘ پرسوں سے شروع ہو رہی ہے، آج پاکستان کی تاریخ بنی ہے، میں بہت خوش ہوں۔ اب اگر کپتان خوش تو ٹیم کے باقی کھلاڑیوں کو بھی خوش ہونا چاہئے، وہ خواہ مخواہ معترض کیوں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو کپتان سے زیادہ مدبر کب سے سمجھ لیا؟ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو جشن مبارک، انہوں نے جو چاہا پالیا، حکومت نہیں گئی یا وزیراعظم کا استعفا نہیں آیا تو کیا ہوا، یہ دونوں کام بھی کسی نہ کسی وقت ہو ہی جائیں گے چاہے 2018ء کے الیکشن سے پہلے ہوں۔ البتہ خان صاحب کی اس خوشی میں وہ اینکر شریک نہیں ہیں جنہیں وزیراعظم کے استعفے کا خود عمران خان سے بھی زیادہ انتظار تھا اور وہ چند گھنٹوں میں اسے دیکھنے کے نہ صرف متمنی بلکہ دعویدار بھی تھے، اب وہ اپنے دلائل کا رخ کس جانب لے جاتے ہیں یہ ابھی دیکھنا ہوگا۔ آج عمران خان کے الفاظ میں ’’زندہ قوم‘‘ جشن کیلئے سڑکوں پر نکلے گی۔

یہ دور وژیول ہے، صرف بولے ہوئے الفاظ کافی نہیں ہوتے، اس وقت چینلوں پر جو صاحبان گفتگو کر رہے ہیں اگر خدا توفیق دے تو ان کے چہروں کو بھی پڑھنے کی ضرورت ہے۔ سلیم کوثر نے کیا حسب حال کہا:

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے

جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

مزید : تجزیہ