ملک کو بدنام کرنے والے ثقافتی طائفوں پر پابندی عائد کی جائے

ملک کو بدنام کرنے والے ثقافتی طائفوں پر پابندی عائد کی جائے

لاہور(فلم رپورٹر)سٹیج ڈرامہ پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور فنکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے ثقافتی طائفوں کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرے جوبیرون ملک جا کر بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔پروڈیوسر ارشد چوہدری نے کہا کہ چند لوگوں کی وجہ سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے حکومت کو ایسے ثقافتی طائفوں کو بیرون ملک جانے سے روکنا چاہیے چند نام نہاد پروموٹرز غیر معروف لڑکیوں کو ساتھ لے جاکر ان کو نجی محفلوں میں پرفارم کرواکے فن وثقافت کے نام پر گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں ان لوگوں کی وجہ سے حقیقی پروموٹرز بھی بدنام ہورہے ہیں۔ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک نے کہا کہ ثقافتی طائفے کے ساتھ جانی والے کئی فنکار دوسرے ملکوں میں جا کر غائب ہوجاتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ ایسے تمام پروموٹرز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے جو انسانی سمگلنگ کے مرتکب ہوتے ہیں۔چنگیز اعوان نے کہا کہ نان پروفیشنل پروموٹرز بیرون ملک جانے کے خواہشمند نوجوانوں سے پیسہ لے کر ان کو ثقافتی طائفہ میں فنکار بناکر باہر لے جاتے ہیں اور وہ وہاں جا کر رفوچکر ہاجاتے ہیں۔میگھا نے کہا کہ مناسب قوانین نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہورہا ہے مجھے فخر ہے کہ میں جب بھی بیرون جاتی ہوں تو وہاں پر بطور ثقافتی سفیر اپنی ذمہ دارایاں احسن طریقے سے نبھاتی ہوں ۔

میں بھی غیر اخلاقی کاموں میں ملوث طائفوں پر پابندی کی حمایت کرتی ہوں۔خوشبو نے کہا کہ حکومت کو ثقافتی طائفوں کے سلسلے میں ٹھوس قوانین بنانے چاہییں۔دبئی جانے والے ثقافتی طائفے جن دھندوں میں ملوث ہیں یہ سب کو معلوم ہے ماہ نور نے کہا کہ ہمارے ملک میں کچھ لڑکیاں ایسی ہیں جو دوچار ڈراموں میں کام کرکے اپنے آپ کو آرٹسٹ لکھوا کر دبئی سمیت دیگر ملکوں میں جا کر غیر اخلاقی کام کرکے پوری شوبز انڈسٹری کو بدنام کرتی ہیں مجھ سمیت ہر پروفیشنل آرٹسٹ دو نمبر ثقافتی طائفوں کی مخالفت کرتا ہے اگر اب بھی ملک کو بدنام کرنے والے ثقافتی طائفوں پر پابندی لگا دی جائے تو مزید بدنامی سے بچا جا سکتا ہے۔

مزید : کلچر