پاکستان فلم انڈسٹری میں پیدا ہونے والا بحران کافی حد تک ختم

پاکستان فلم انڈسٹری میں پیدا ہونے والا بحران کافی حد تک ختم
  •  پاکستان فلم انڈسٹری میں پیدا ہونے والا بحران کافی حد تک ختم
  •  پاکستان فلم انڈسٹری میں پیدا ہونے والا بحران کافی حد تک ختم

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان فلم انڈسٹری میں گزشتہ دو دہائیوں سے پیدا ہونے والا بحران اب کافی حد تک ختم ہوگیاہے اس دوران بے شمار بلند بانگ دعوے حکومتی نجی اورفلم انڈسٹری کی سطح تک ہوتے رہے مگر سب ہی بے کار ثابت ہوئے۔ہمارے فلم میکرز نے اپنی مدد آپ کے تحت فلم انڈسٹری کو ایک بار پھر اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔لاہور کی فلم انڈسٹری کے کرتا دھرتا لوگ فلموں کی نمائش بڑھا کر پاکستان انڈسٹری کی ترقی اور بزنس کے جو بلند بانگ دعویٰ کئے تھے۔ وہ ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور گزشتہ برسوں کے دوران سینکڑوں بھارتی فلموں نے ماسوائے کروڑوں روپے مالی خسارے کے سوا کچھ نہ دیا۔ سینما گھروں کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے ہم نے کروڑوں روپے ضائع کرکے نام نہاد بھارتی بڑے فنکاروں کی فلمیں امپورٹ کرکے عارضی طور پر اپنی فلموں، فنکاروں کو تباہی اور اندھیروں میں چھپا دیا۔اس وقت بھرتی فلموں کی نمائش بند ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں اعلیٰ اور معیاری فلمیں بنا کر ہمیشہ کے لئے بھارتی فلموں کا راستہ روکنا ہوگا۔ مگر اب ہمیں خود دوبارہ اپنے فنکاروں اور فلموں کیلئے اپنے جذبے بیدار کرنے ہو گے۔ ڈائریکٹرز، کیمرہ مینوں، موسیقاروں کو عزت دیں ان پر سرمایہ کاری کریں تو امید ہے کہ ہم پھر دوبارہ پاکستان فلم انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں۔ گزشتہ سالوں سے اس سلسلے میں ’’چودھری‘‘ اور انڈسٹری کے ’’ٹھیکدار‘‘ بن کر متعدد لوگوں نے اخبارات میں اپنی تصاویر اور بلند بانگ دعوؤں پر مبنی بیانات کو بہت چھپوائے ہیں۔ مگر ان نامور فلمی لوگوں میں ایک بھی عملی طور پر آگے نہیں آیا ہے۔ ہمارے نزدیک آج بھی یہ بات ایک حقیقت ہے کہ فلم ہندوستان کی ہو یا پاکستان کی ہو۔۔۔ وہ نئے دور کے تقاضوں، مسائل اور معاشرے کی عکاسی کرے گی تو ضرور کامیاب ہوگی۔ آج بھی جو لوگ فلمیں بنا رہے ہیں ان میں محض چند فلمیں ایسی آرہی ہیں جن میں کسی حد تک سرمایہ کاری کے ساتھ ذہنوں کا استعمال بھی کیا جارہاہے مگر یہ چند لوگ بھی اعتماد کی اس سطح پر متزلزل ہیں جو کبھی کسی زمانے میں ہمارے فلمسازوں، ہدایت کاروں کو حاصل تھا۔ اس وقت ضرور ت اعتماد اور حالات کو بحال کرنے کی ہے کہ جس سے فلم بینوں کا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کیا جاسکے۔ ماضی میں ہمارے جن فلمسازوں نے کامیاب فلموں سے کروڑوں روپے کمائے۔ جن سینما مالکان کی جائیدادوں میں اضافہ ہوا۔ جن فنکاروں نے بے پناہ نام شہرت اور دولت سمیٹ لی۔ وہ اب دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت کریں۔ اپنے دھیان اور سرمائے کا رخ دوبارہ اپنی فلمی صنعت کی طرف موڑیں۔ ہمیں امید ہے کہ اگر ہمارے موجودہ فلمی لوگ صدقے دل سے دوبارہ کام کرنے میں سنجیدہ ہوگئے تو ضرور ہم محض بھارتی فضول فلموں کی امپورٹ اور مالی نقصان سے چھٹکارہ پالینگے۔ اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری کی بقاء اپنی ہی بنائی ہوئی فلموں میں ہے۔ اپنے ہی فنکاروں، موسیقاروں اور ہنر مندوں میں ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں اپنے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی سوشل، معاشرتی مسائل، ایکشن، کامیڈی اور دیگر موضوعات پر یادگار اور کامیاب فلمیں بنا کر بھارت سمیت دیگر ممالک کی فلموں سے بہتر کام کیا ہے تو یہ کام اب کیوں نہیں ہوسکتا؟ اب کیوں نہیں ہم ایسی فلمیں بنا سکتے ہیں کہ جن سے باری اسٹوڈیو تعمیر ہوگیا تھا۔ سبستان سینما لاہور کے مالک نے ایک فلم کی کامیابی سے پرنس سینما بنالیا تھا۔ فیصل آباد کے ایک سینما مالک نے فلموں سے ہی 3سینما بنا لئے تھے۔ یہ سب کچھ اب بھی ممکن ہے۔ فنکاروں میں اداکار شان ریما، میرا، معمر رانا، بابر علی ایک مرتبہ پھر آگے آئیں یہ اپنی فلمی شہرت کو مزید کیش کرانے کے لیے نجی ٹی وی چینلز اور کمرشلز میں سستے داموں فروخت نہ کریں۔ اس سے بہتر ہے کہ دوبارہ بڑی سکرین پر آجائیں۔ ہمیں اب بھارتی ثقافتی یلغار کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اب بھارتی فلموں میں بھی موضوعات کا خاتمہ ہو چلا ہے اور وہ بھی یکسانیت سے دوچار ہوکر زبردست ناکامی سے ہمکنار ہو رہی ہیں۔ وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ واقعات بھی بدلتے رہتے ہیں جو لوگ بدلتے وقت کے ساتھ چلتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ آج کا تماشائی بھی ماضی کے تماشائیوں کے مقابلے میں بہت بدل چکا ہے۔ اب وہ اپنی فلموں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے۔ جو فلمیں فلم بینوں کے معیار پر پوری نہیں اترتیں انہیں وہ مسترد کردیتا ہے۔ ہمارے ہاں بھارتی فلموں کی یلغار میں بھی پنجابی فلم ’’مجاجن‘‘ اور اردو فلم ’’خدا کے لئے‘‘ نے بہترین بزنس کیا۔ مگر پھر ہمارے فلم میکر نے دلچسپی چھوڑ دی اور ہمارا ناکامی کا گراف بڑھنے لگا۔ آج بھی اگر فلمساز وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا ساتھ دے تو دوبارہ ہماری فلم انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔ ہمیں اپنی پرانی روائیتی کہانیوں، موضوعات سے جان چھڑا کر نئی فلمیں بنانا ہونگی۔ ہم اپنی ہی فلموں سے دوبارہ عزت، مقام اور شہرت حاصل کرسکتے ہیں اور کرینگے۔ آج کا تماشائی غنڈوں بد معاشوں اور ذات برادری پر مبنی فلمیں نہیں دیکھنا چاہتا اور کم از کم شان، معمر رانا اور بابر علی کو بڑی بڑی مونچھوں اور ہیبت ناک خون سے بھرے چہروں کے ہمراہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ اب سکرین کو سجانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہیروز کلین شیو اور خوبصورت لباس کے ہمراہ منظر عام پر آئیں تو ان کے امیج اور اہمیت میں اضافہ ہوگا۔ اب محبت کے مناظر میں بھی سکیں کم اور حقائق کے قریب رہ کر گفتگو اور مکالمے ڈالے جائیں تو اس سے نوجوانوں کو سیکھنے اور سوچنے کا موقع ملے گا۔ اس سلسلے میں ہمارا رائیٹر اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اب رائٹرز کو بھی اپنی سوچ اور مکالموں کا رخ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ فلم انڈسٹری میں موجود لوگوں کو چاہیے کہ وہ نامور ہیروز کے ہمراہ اب نئے چہروں کی ضرورت پر بھی زور دیں اور نئے لوگوں کو بھی بہتر مواقع فراہم کریں۔ میوزک کے شعبے پر توجہ دیں میوزک کے حوالے سے ریکارڈنگ کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح ہم اپنی ہی بنائی فلموں سے حالات بہتر بنا سکتے ہیں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اچھی فلم بنانے والوں کی مل کر حوصلہ افزائی کریں۔ ایک دوسرے کے کام کو سراہا نا شروع کریں۔ فلم کی نمائش پر مل کر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں۔ فلم میں شامل فنکار دوبارہ سینماؤں میں آکر اپنی فلموں کی پرموشن اور پبلسٹی کے حوالے سے وقت نکالیں۔

اس طرح ہم دوبارہ بہت جلد اپنی فلموں کو دوبارہ مقبولیت دینے میں کامیاب ہو جائینگے۔ پھر ہمیں فلموں کو بتدریج فنی حوالوں سے بھی بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے؟ اس طرح ہم بھارتی فلموں کے بجائے دوبارہ اپنی ہی بنائی فلموں سے فلم انڈسٹری کو دوبارہ ترقی دینے میں کامیاب ہوجائینگے۔

مزید : کلچر