صدیق الفاروق کی تعیناتی کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

صدیق الفاروق کی تعیناتی کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لا ہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے عہدے پر صدیق الفاروق کی تعیناتی کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیاہے،۔فاضل عدالت نے آئندہ تاریخ سماعت پر صدیق الفاروق کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن، تعلیمی قابلیت اور رولز بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔درخواست گزار روبینہ آصف کی درخواست پر ان کی طرف سے حامد بشیر ایڈووکیٹ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے عہدے پر تقرری کیلئے عہدے دار کا پوسٹ گریجویٹ یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہونا ضروری ہے جبکہ صدیق الفاروق کی تعلیم بی اے ہے۔، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے لئے پینسٹھ سال عمر ہونا ضروری ہے ۔، عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں تعیناتی کا معاملہ بہت خراب لگتا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کہ صدیق الفاروق کی چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے عہدے پر تعیناتی کالعدم کی جائے، متروکہ وقف املاک بورڈ کے لیگل ایڈوئزار ناصراحمد اعوان نے بتایا کہ درخواست ناقابل سماعت ہے کیونکہ جن رولز کو بنیاد بنا کر تقرری چیلنج کی گئی اب تک ان رولز کی منظوری نہیں ہوئی، عدالت نے عبوری دلائل سننے کے بعد مزید سماعت آٹھ نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے رولز کے نوٹیفائیڈ ہونے سے متعلق تفصیلی جواب طلب کر لیا جبکہ صدیق الفاروق کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن، تعلیمی قابلیت اور رولز بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر