ماتحت عدلیہ میں ججو ں کی تقرری پبلک سروس کمیشن کے تحت کی جائیں،پنجاب بار کونسل

ماتحت عدلیہ میں ججو ں کی تقرری پبلک سروس کمیشن کے تحت کی جائیں،پنجاب بار ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پنجاب بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ ماتحت عدلیہ میں ججو ں کی تقرری پبلک سروس کمیشن کے تحت کی جائیں ، اعلیٰ عدلیہ کے خلاف شکایات کا انبار سپریم جوڈیشل کونسل میں موجود ہے نیک نام اور ریٹائرڈ ججز پر مشتمل سپریم جوڈیشل کونسل قائم کی جائے ، لاہور ہائی کورٹ کی ایڈوائزری کمیٹی تحلیل کی جائے اور مفکر پاکستان ، محسن پاکستان علامہ اقبال کا یوم ولادت کو عام تعطیل کا اعلان کیا جائے اگر رواں سال حکومت پاکستان اور عدلیہ نے 9نومبر یوم اقبال پر عام تعطیل کا اعلان نہ کیا گیا تو پنجاب بار کونسل راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہو گی ۔ اس سلسلے میں پنجاب بار کونسل کے چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی ممتاز مصطفی ، وائس چیئر مین چودھری محمد حسین ، ممبران پنجاب بار کونسل رانا اکرم ، منیر حسین بھٹی ، عبدالصمد خان بسریا ، سمیت دیگر نے مشترکہ طور پر گزشتہ روز پنجاب بار کونسل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ وکلاء کے خلاف ہائی کورٹ کی جانب سے کیا جانے والی کارروائی پر آل پاکستان وکلاء کنونشن طلب کیا گیا جس میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ ہائی کورٹ سات یوم کے اندر وہ سپروائزری کمیٹی تحلیل کریں گے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو سکا انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ وکلاء کی قربانیوں کی مرہون منت ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا اگر وکلاء نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر عدلیہ کو بحال نہ کرایا ہوتا تو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ آج اس منصب پر نہ ہوتے انہوں نے کہا کہ سول و سیشن ججوں کی بھرتیوں کا سلسلہ ہائی کورٹ نے اپنے ذمہ لے لیا جس کے نتیجے میں ناکام ترین وکلاء کو سزائے موت کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے عہدے دے دیئے گئے وکلاء کی تضحیک ، ان کا تمسخر اور انہیں حق سماعت نہ دینا اور من مانے فیصلہ جات صادر کرنا عدالتوں کا استحقاق بن چکا ہے انہوں نے کہا کہ جج صاحبان میں کرپشن کی مستند مثالیں آئے روز دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ ممتاز مصطفی نے کہا کہ ماتحت عدلیہ کے خلاف شکایات کے انبار ہائی کورٹ اور ممبر انسکپشن ٹیم کے دفاتر سے سالہاسال سے ردی میں پڑے ہیں کرپٹ ججز کو ترقیاتی اور مستعد ، چالاک و تابعدار ججوں کو محرمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ سپریم جودیشل کونسل میں اعلیٰ عدلیہ کے خلاف شکایات عرصہ سے پڑی ہیں اور فیصلوں کا انتظار کر رہی ہیں ان کونسل کا سرے سے اجلاس ہی طلب نہیں کیا جاتا جس وقت تک متعلقہ جج ریٹائرڈ ہو چکا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نیک نام ریٹائرڈ ججوں پر قائم کی جائے ۔ انہوں نے کہ اس امر کا بھی اظہار کیا کہ دفعہ 54لیگل پریکٹیشنر اینڈ بار کونسل ایکٹ 1973کے تحت یا ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈر کے تحت وکلاء کے خلاف سپروائزری کمیٹی کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کو قانونی طور پر حاصل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی تاریخ شاہی اختیار کے تحت 31مارچ 1919میں لیٹرز پٹنٹ کے ذریعہ قائم کی گئی سر ہنری اس کے پہلے چیف جسٹس مقرر کئے گئے اس طرح 97سالہ تاریخ کی حامل لاہور ہائی کورٹ کا 150 واں جشن منایا جا رہا ہے جو کہ خود نمائی کے سوا کچھ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ججز کی تعیناتی کے طریق کار میں کار آمد حیثیت ترمیم کی جائے انہوں نے کہا کہ اگر 15اکتوبر کو ہونے والے وکلاء کنونشن میں پاس ہونے والی قرارد اد پر عمل درآمد نہ کیاگیا تو وکلاء اپنے حق کے لیے مال روڈ پر دھرنا دے گی ۔

مزید : صفحہ آخر