عمران خان اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کریں، لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب سے اسلام آباد تک تمام سڑکیں کھولنے کا حکم

عمران خان اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کریں، لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب سے اسلام ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار ٗجسٹس انوار الحق اور جسٹس محمد قاسم خان پر مشتمل فل بنچ نے احتجاج کے نام پر اسلام آباد کو بند یا مفلوج کرنے اور حکومت کو سٹرکوں کو کنٹینرز سے بند کرنے سے روکتے ہوئے حکم دیا ہے کہ آئین اور قانون کے دائرہ میں رہ کر احتجاج کیا جا سکتا ہے لیکن کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ،چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو قانون کے دائرہ میں رہ کر اس سے سختی سے نمٹا جائے ۔ عدالت نے پنجاب سے اسلام آباد تک تمام سٹرکیں کھولنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سٹرکوں سے تمام کنٹینرز اور رکاوٹیں ہٹا دیں ہر شہری کو نقل و حرکت کی آزادی ہونی چاہیے ۔عدالت نے فریقین سے کہا کہ "انہیں اپنے گھوڑوں کی لگامیں تھام کر رکھنی چاہئیں ‘‘۔فاضل عدالت نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ دفعہ 144اور 3ایم پی او کے تحت گرفتاریا نظر بند کئے گئے تمام افراد کی فہرست اور اس حوالے سے نوٹیفیکشن آج ساڑھے بارہ بجے تک عدالت کے روبرو پیش کریں ۔فاضل عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کریں ۔گزشتہ روز جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں قائم تین رکنی فل بینچ نے تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے ٗ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں ٗ اور سٹرکیں بند کرنے کیلئے کنٹینرز کی پکڑ ڈھکر کے خلاف دائر مختلف درخواستوں پر سماعت کی ۔درخواست گزار اے کے ڈوگر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عمران خان شہریوں کو بغاوت پر ابھار رہے ہیں اور اشتعال انگیز تقریریں کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے وکلاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے تحریک انصاف کے دو نومبر کے پرامن اجتماع کو روکنے کے لئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور کارکنوں کو زبردستی گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے۔دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ رات کو درخواست گزار ولید اقبال کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جس پر پولیس نے بتایا کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا ۔جس پر فاضل عدالت نے ڈھائی بجے دوپہر ہوم سیکرٹری پنجاب کو طلب کرلیا کہ وہ بتائیں کہ سٹرکیں بند کرنے اور گرفتاریوں کے حوالے سے کیا کیا جا رہا ہے ۔جس پر ہوم سیکرٹری نے پیش ہو کربتایا کہ پنجاب میں اسلام آباد تک کوئی سٹرک بند نہیں ہے تاہم ہائی ویز اور موٹر ویز ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے زیرانتظام ہے ان سے رپورٹ لیکر پیش کر دیں گے ۔جس پر فاضل عدالت نے ہدایت کی کہ حکومت اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے خلاف طاقت کامظاہرہ کرنے کی بجائے قانون کے دائرہ میں رہ کر کام کریں ۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ احتجاج کے نام پر اسلام آباد بند نہیں ہونا چاہیے ہر ایک کے حقوق کی حفاظت ہونی چاہیے ۔عدالت نے مزید قرار دیاکہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ۔جو قانون کی خلاف ورزی کرئے اس سے سختی سے نمٹا جائے ۔اسلام آباد اور یہاں آنے جانے والی سٹرکیں بند نہیں ہونی چاہیے ۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ حکومت کو گرانا آئین کے تحت بغاوت ہے جس کی آئین میں سزاء بھی موجود ہے ۔عمران خان کی محب الوطنی پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ،عدالت کانظریہ ہے کہ ملک کے ساتھ عمران کی وفاداری کسی وزیر اعظم یا سیاسی لیڈر سے کم نہیں ہے لیکن عمران خان کو اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کرنا چاہیے ۔عمران خان صبر وتحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں وہ اب قومی لیڈر بھی ہیں ، وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو برداشت کریں ۔جہاں تک برننگ ایشوز کا تعلق ہے تو پاناما لیکس پر سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے اور اب زیادہ دیر نہیں ،سچائی سب کے سامنے آ جائے گی اور سب کچھ عیاں ہو جائے گا ۔ہوم سیکرٹری نے کہا کہ اتنی جلدی تمام گرفتار افراد کی فہرستیں پیش کرنا مشکل ہے کچھ اور مہلت دی جائے جس پر فاضل عدالت نے قرار دیا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے یہ ایک گھنٹے میں بھی تکمیل پا سکتا ہے،لہذا ساڑھے 12بجے تک تمام فہرستیں پیش کریں ۔

مزید : صفحہ آخر