اس سال سردی میں گیش بحران نہیں ہوگا، آرفین کو پریشر میں کمی کا سامنا رہے گا: امجد لطیف

اس سال سردی میں گیش بحران نہیں ہوگا، آرفین کو پریشر میں کمی کا سامنا رہے گا: ...

لاہور(لیاقت کھرل) ایم ڈی سوئی ناردرن گیس کمپنی امجد لطیف نے کہا ہے کہ اس سال سردی کی شدت میں گیس بحران نہیں ہو گا تاہم صارفین کو گیس کے پریشر میں کمی کا ضرور سامنا ہو گا۔ ایل این جی کی بڑی مقدار میں درآمدگی سے گیس بحران پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیابی ملی ہے۔ پہلی مرتبہ سردیوں میں صنعتوں کو بھی گیس ملے گی۔ فرٹیلائزر اور سی این جی کو بھی گیس ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’پاکستان‘‘ کو ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ اس موقع پر ایم ڈی امجد لطیف نے کہا کہ اس سال سردیوں میں گیس بحران پر قابو پانے کے لئے پہلے سے بہتر منصوبہ بندی کی گئی ہے جس میں ایل این جی کی بڑی مقدار میں درآمدگی کی گئی ہے جس سے گیس بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی بڑی مقدار میں درآمدگی کے باعث چارسو ملین کیوبک فٹ ایل این جی سوئی ناردرن گیس کمپنی کے سسٹم میں شامل ہو چکی ہے اور جنوری میں مزید 200 ملین کیوبک فٹ ایل این جی گیس کمپنی کے سسٹم میں آ جائے گی۔ جس کے باعث گیس کی ڈیمانڈ کے مقابلہ میں سپلائی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال گھریلو سیکٹر سمیت دیگر تمام سیکٹرز کو گیس ملے گی اور بالخصوص گھریلو سیکٹر میں موسم سرما کی شدت میں گیس کی ڈیمانڈ کو پورا کیے جانے میں کامیابی ملے گی۔ انہو ں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ اس سال سردیوں میں صنعتوں کو گیس ملے گی اور صنعتی پہیہ چلے گا۔ جبکہ فرٹیلائزر اور سی این جی سیکٹر کو بھی معمول کے مطابق گیس ملے گی جو کہ گزشتہ سال صنعتی سیکٹر، فرٹیلائزر اور سی این جی سیکٹر کو گیس نہ ملنے کی وجہ سے بند پڑے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قلت کے حوالے سے گیس بحران ایک بہت بڑا لفظ ہے جو کہ گیس کی قلت کے حوالے سے ایک واسٹ ڈیفی نیشن ہے جس میں گیس بحران کے خاتمے اور قابو پانے کے لئے بہتر منصوبہ بندی سے کی گئی ہے جس میں ایل این جی کی درآمدگی کے ساتھ ساتھ گیس کمپنی کے سپلائی سسٹم کو بھی اَپ گریڈ کیا گیا ہے جس میں کئی کئی سال پرانی گیس کی سپلائی لائنوں کوتبدیل کیاگیا ہے۔ اس کے باوجود سردیوں میں گیس کی شکایات کو دور کرنے جس میں گیس کی قلت، پریسر میں کمی اور گیس کی لیکیج کے لئے 24 گھنٹے ٹیمیں کام کریں گی اور گیس کمپنی کے ہیڈ آفس میں مرکزی شکایت سیل جبکہ گیس کمپنی کے ریجنل دفاترمیں جنرل منیجروں کی نگرانی میں الگ سے شکایت سیل قائم کیے جائیں گے جس کی وہ خود نگرانی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ گیس کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں گیس کی پیداوار کم ہے تاہم بہتر منصوبہ بندی سے سردیوں میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا جس کے باعث اس سال سردی میں گیس بحران محض نام رہے جائے گا۔ تاہم گیس کی ڈیمانڈ کے مقابلہ میں گیس کی قلت ضرور ہو گی۔ اس کے لئے گھریلو صارفین کو چاہیے کہ گیزر کا کم سے کم استعمال اور گیس ہیٹرز کا استعمال نہ کریں۔ صارفین گیزر کے لئے گیس کمپنی سے ٹائمر خرید لیں جس سے گیس کی بچت ہو گی اور گیس کابل بھی کم آئے گا جبکہ ہیٹر کی بجائے گرم کپڑوں کا استعمال کریں۔ صارفین کو چاہیے کہ سردیوں میں گیس کا صرف کھانے تیار کرنے کے لئے استعمال کریں۔ اس سے تمام گھریلو صارفین تک گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید : صفحہ آخر