اپ گریڈ کی جانیوالی ٹرینوں میں کھٹمل اور دیگر خطرناک حشرات، مسافر پریشان

اپ گریڈ کی جانیوالی ٹرینوں میں کھٹمل اور دیگر خطرناک حشرات، مسافر پریشان

لاہور(محمد نواز سنگرا)محکمہ ریلوے اپ گریڈ کی جانیوالی ٹرینوں میں کھٹمل اور دیگر خطر ناک حشرات کے خلاف کارروائی نہ کرسکا ۔ ٹرینوں کے اندر کھانے پینے کی ناقص اشیاء اور مضر صحت پانی استعمال کیا جاتا ہے۔مضر صحت پانی جو پینے کے قابل نہیں ہے وہی کھانے اور چائے بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ کھٹمل نے مسافروں کا سفر کرنا محال کر دیا مگر محکمہ ریلوے کے اعلیٰ حکام کے علم میں ہونے کے وجود مسافروں کو بہترین سفری سہولیات نہیں دی جا رہیں ۔روز نامہ پاکستان کی طرف سے کراچی ایکسریس ، تیز گام اور قراقرم ایکسپر یس کے کیے جانیوالے سروے میں مسافر ریلوے حکام کے خلاف پھٹ پڑے ۔مسافروں نے بتایا کہ وزیر ریلوے کی بہتری کے کھوکھلے دعوے کرتے ہیں جو محض کاغذی کارروائی تک محدود ہے ۔محکمہ ریلوے کی غفلت کی وجہ سے سفر کرنا محال ہو گیا ہے اور کھٹمل کے کاٹنے کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔ ٹرینوں کو اپ گریڈ تو کیا گیا ہے جس میں سیٹوں کی حالت بھی بہتر بنائی گئی ہے ایل سی ڈی بھی لگائی گئی ہے لیکن خطر ناک حشرات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیاء بنانے کیلئے صاف پانی کا استعمال یقینی بنایا گیا ہے۔ مسافروں محمد طارق،ناظم خان اور سہیل نے بتایا کہ محکمہ ریلوے اپ گریڈ ہونے والی ٹرینوں میں پرسکون سفر فراہم کرنے میں بری طری ناکام ہو گیا ہے ۔ کھٹمل کے ساتھ ساتھ بیکٹریا کی موجودگی کی وجہ سے سفر کرنا انتہائی مشکل ہے اور خطرہ ہے کہ ان حشرات کے کاٹنے کی وجہ سے بیماریاں لگ سکتی ہے۔ خلیل احمد اور نوید انجم نے بتایا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ چائے کیلئے گندہ پانی استعمال کیا جا رہا ہے اور ایسا پانی جس سے کلی نہیں کی جاسکتی وہ چائے بنانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔محمد زبیر اور رضا حید ر نے بتایا کہ وزیر ریلوے کے تمام دعوے کھوکھلے اور دھوکہ دہی ہے مسافروں کو سفری سہولیات میسر نہیں آرہیں۔جراثیم زدہ تکیے اور کمبل استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے بیماریاں لگنے کا خدشہ ہے۔اس حوالے سے ٹرین منیجروں نے بتایا کہ کھٹمل کے کاٹنے کی شکایات آتی ہیں جو اعلیٰ حکام تک پہنچائی جاتی ہے ۔پینے کے پانی کی شکایات انتہائی کم ہیں جس کی شکایات بھی اعلیٰ حکام تک پہنچائی جائے گی۔ ڈائننگ کار کے منیجر نے بتایا کہ جب کاریں ہٹا دی گئی ہیں تو مشکلا ت سامنے آگئی ہیں ۔صاف پانی رکھنے کیلئے جگہ ہی نہیں ہے اس لئے جس اسٹیشن پر گاڑی رکتی ہے چند بوتلیں بھر لیتے ہیں پانی جیسا بھی ہو استعمال کرنا مجبوری ہے۔

مزید : صفحہ آخر