’’چیک ری پبلک‘‘کا نام ’’چیکیا ‘‘ہو گیا، جوعوام کو پسند نہیں

’’چیک ری پبلک‘‘کا نام ’’چیکیا ‘‘ہو گیا، جوعوام کو پسند نہیں
’’چیک ری پبلک‘‘کا نام ’’چیکیا ‘‘ہو گیا، جوعوام کو پسند نہیں

  

پراگ(نیوزڈیسک)آپ نے یورپ کے ملک ’چیک ری پبلک‘کا نام تو سن رکھا ہوگا لیکن اس ملک کا نام چھ ماہ پہلے اس بات پر تبدیل کیا گیا کہ کوئی چھوٹا اور خوبصورت نام ہونا چاہیے لہذا اس کا نام ’چیکیا‘کردیا گیا۔اس کا نام تبدیل ہوچکا ہے لیکن ابھی اس کے شہری اسے نئے نام سے نہیں پکارتے۔برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کا کہنا ہے کہ جب بھی یہاں کے شہریوں سے ملک کے نئے نام کا پوچھا جاتا ہے تو وہ لاعلمی کا اظہار کرکے اسے ’چیک ری پبلک‘ہی کہتے ہیں۔’’کوئی اس ملک کا نام ’چیکیا‘نہیں لیتا کیونکہ یہ کافی عجیب سا نام ہے‘‘، ایک 40سالہ سافٹ ویر انجینئر لوکس ہاسک کا کہنا تھا کہ نیا نام لوگوں کو بالکل بھی پسند نہیں آیا۔اس کا کہنا تھا کہ یہاں کے شہریوں میں نئے نام کی قبولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔اسی طرح کے خیالات کا اظہار دارلحکومت میں رہنے والے کئی افراد نے کیا۔اپریل کے مہینے میں اس ملک کے لیڈروں نے ملک کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھاجبکہ صدر میلوس زیمان اس کا نام تبدیل کرنے کی تحریک میں پیش پیش تھے۔اس ملک کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ پرانا نام بہت لمبا ہے اور نئے نام کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں مدد ملے گی لیکن نئے نام کو بلاکل بھی پذیرائی نہ مل سکی۔یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس ملک کے صدر نیا نام استعمال کررہے ہیں لیکن ان کی آفیشل ویب سائٹ اور حکومتی مراسلوں میں پرانا نام استعمال کیا جارہا ہے۔ 1992میں چیکوسلواکیا کے ٹوٹنے کے بعد چیک ری پبلک اور سلوواکیا کے ناموں کے دو ملک وجود میں آئے تھے۔

مزید : صفحہ آخر