پی ایم ایس میں ضم ہونے والے افسر کااعلامیہ پر پندرہ روز کے اندر نوٹیفیکشن کے احکامات

پی ایم ایس میں ضم ہونے والے افسر کااعلامیہ پر پندرہ روز کے اندر نوٹیفیکشن کے ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہرعالم میانخیل اور جسٹس ا شتیاق ابراہیم پرمشتمل دورکنی بنچ نے عدالتی احکامات کے باوجود پی ایم ایس میں ضم ہونے والے افسرکااعلامیہ جاری کرنے پر پندرہ یوم کے اندر باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کرکے انہیں حوالے کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں دورکنی بنچ نے شمائل احمد بٹ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرشوکت علی یوسفزئی کی رٹ کی سماعت کی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذار محکمہ فشریزمیں ٹیکنیکل پوسٹ پرتعینات تھاتاہم انہیں پی ایم ایس میں ضم کردیاگیاجب سوات میں حالات کشیدہ ہوئے تو وہاں پرڈی سی او تعینات کردیاگیاتاہم اس کے باوجود انہیں باقاعدہ طورپرپی ایم ایس میں ضم کرنے کااعلامیہ جاری نہیں کیاجارہا ہے وہ اب بھی ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے پرخدمات سرانجام دے رہا ہے عدالت عالیہ پہلے ہی انہیں حکم جاری کرچکی ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیاجائے عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد متعلقہ حکام کوپندرہ یوم کے اندراندر نوٹی فکیشن جاری کرنے کاحکم دیادریں اثناء جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس قیصررشید پرمشتمل دورکنی بنچ نے صوبائی ہاؤسنگ اتھارٹی نے قبائلی ایجنسیوں کیلئے مختص کوٹے کے تحت اسسٹنٹ ڈائریکٹرکی پوسٹ پر ملازمت مانگنے والے وزیرستان کے رہائشی شفیع اللہ نورکی رٹ خارج کردی صوبائی ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے صباح الدین ایڈوکیٹ نے پیروی کی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر