مقبوضہ کشمیر، پُر تشدد واقعات میں 30سے زائد شہری زخمی،2طا لبات کی حالت نازک

مقبوضہ کشمیر، پُر تشدد واقعات میں 30سے زائد شہری زخمی،2طا لبات کی حالت نازک

سری نگر (اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم جاری ٗ مسلسل 116 ویں روز بھی حالات کشیدہ ٗ تشدد کے تازہ واقعات میں 30 سے زائد کشمیری زخمی ٗ زخمیوں میں تین کمسن طالبات بھی شامل ٗ دو کو نازک حالت کے باعث ہسپتال پہنچا دیا گیا ٗ حریت کانفرنس کی جانب سے ملازمین اظہار یکجہتی ریلی کو ناکام بنانے کیلئے کرفیو میں مزید سختی ٗ سری نگر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کردی گئی۔ٗ بارہمو لہ، پلوامہ، شوپیان، بانڈی پورہ،اننت ناگ اور سوپور میں جھڑپیں، مکانوں کی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ ٗ گھر گھر تلاشی کارروائیوں کے دوران ایک درجن سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ٗ وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بدستور معطل ٗ سکول بھی نہ کھل سکے ٗ مسلسل کرفیو نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنادی ۔ تفصیلات کے مطابق پلوامہ کے رہمومیں فوج اور پولیس کو اس وقت لاٹھی چارج ، ٹیر گیس شلنگ اور ہوائی فائرنگ کرنا پڑی جب انہوں نے مزار شہدا پر نصب کئے گئے پرچم اتارے۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ فوجی اہلکار وں نے جب بینر اور جھنڈے اتارے تو اس موقعہ پر وہاں لوگوں نے احتجاج کیا جس کے بعد جلوس نکالا گیا جسے منتشر کرنے کیلئے فوج نے ہوائی فائرنگ کی جس سے گاؤں میں افراتفری پھیل گئی۔تاہم بعد میں فوجی اہلکار وہاں سے چلے گئے لیکن جاتے جاتے دو افراد کو زخمی کردیا ۔ اس واقعہ کے آدھ گھنٹہ بعد پولیس اور سی آر پی ایف اہلکار بستی میں داخل ہوئے اور انہوں نے سیدھے رہاشی مکانوں کا رخ کیا اور آپریشن توڑ پھوڑ شروع کیا۔اس دوران مقامی مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں پر نعرے بازی کے بیچ لوگوں سے گھروں سے باہر آنے کی اپیل کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر امڈ آیا۔توڑ پھوڑ کرنے کے خلاف جب لوگ مشتعل ہوئے تو فورسز اہلکاروں نے لاٹھی چارچ کیا اور آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فورسز اہلکاروں نے مقامی مسجد شریف کے شیشے چکنا چور کئے جس پر مرد و زن گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے پتھراؤ شروع کیا جس پر فورسز نے ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ چلائے جس کے نتیجے میں علاقے میں اتھل پتھل مچ گئی اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھا گیا۔ قریبا2بجے فورسز اہلکارایک مرتبہ پھر گا ڑی میں سوار ہو کر علاقہ میں داخل ہو ئے اور انہوں نے مکانوں کی توڑ پھوڑ کے علاوہ بلالحاظ مردوزن کی مارپیٹ کرنا شروع کردیا۔ اس موقعہ پر بھی لوگوں کی بھاری تعداد گھروں سے باہر آئی اور فورسز پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں ان پر ٹیر گیس کے گولے داغے گئے اور پیلٹ بندوق کا استعمال کیا۔فورسزنے احتجاجی لوگوں کو قابو کرنے کیلئے شلنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں اور خشت باری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کر نے کیلئے فورسز نے شدید شلنگ کرنے کے علاوہ پلٹ گن کا استعمال کیا ۔ نوجوانوں اورفورسز کے مابین کئی گھنٹوں تک پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔جھڑ پوں کے دوران29 افراد زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق 17افراد کو پیلٹ لگے جن میں3 لڑکیاں بھی شامل ہیں ۔انکی دونوں آنکھوں میں پیلٹ کے چھرے لگے جنہیں سرینگر منتقل کیا گیا۔زخمی ہوئیں لڑکیوں کی شناخت افرا جان، توصیفہ جان اور افروزہ کے بطور ہوئی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر