پیپلز پارٹی کی سیاست جماں جنج نال والی ہے، کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوئی، عمران خان نے وعدہ توڑا ، حکومت نے دفاع کیا، چودھری نثار

پیپلز پارٹی کی سیاست جماں جنج نال والی ہے، کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوئی، عمران ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے آج کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوئی جیت ہوئی ہے تو بچوں اور پاکستان کی ہوئی ہے،عمران خان نے وعدہ توڑا تو حکومت نے دفاع کیا،پیپلز پارٹی نے نوٹس بھیجنا تھا وہ کہاں ہے؟ پیپلز پارٹی کی سیاست جمعہ جنج نال والی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ دنوں بعد چھٹی پر جارہا ہوں،آج کسی کی نہیں پاکستان کی جیت ہوئی ہے،پاکستان کی جیت قانون اور جمہوریت میں ہے،عمران خان نے جو کہا کہ اسے تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں،سیاسی کشمکش میں سب سے زیاد نقصان عوام اور ملک کا ہوتا ہے،میں اسلام آباد،راولپنڈی اور خیبر پختونخوا کے عوام کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اور تکلیف اٹھانے پر معذرت خواہ بھی ہوں۔انہوں نے کہا ہے کہ رکاوٹوں کی ذمہ دار حکومت نہیں ہے،ہم نے کسی جلسے یا جلسی کو نہیں روکا ہے،ہم نے کوشش کی معاملہ صلح صفائی سے حل ہوجائے ،جلسوں اور میڈیا کے ذریعے گولہ باری ہوتی رہی ہے،خیبرپختونخوا میں خود دس سال تک رہا ہوں،پختون حوصلہ مند اور مہمان نواز ہیں،میں سب باتوں کا احترام کرتا ہوں سیاست کا بھی ،اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا گیا تو تب کارروائی کی گئی،صوبے کا نہیں صوبائی حکومت کا راستہ بند کیا ہے۔میں پوچھتا ہوں اگر آپ کے گھر کوئی مہمان آئے تو اپنے گھر کے دروازے کھول دیتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں،لیکن اگر کوئی قبضہ کرنے آئے تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا،اگر وزیر اعلیٰ لاؤ لشکرکے ساتھ وفاق سے مقابلہ کرنے آئے تو کیا ٹھیک ہے،اگر طاقت سے مقابلہ کرنا ہے تو وفاق کے پاس طاقت ہے،سرکاری مشینری لے کر آنا کہاں کی شرافت ہے،میں پنجاب پولیس اور ایف سی کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے صرف آنسو گیس سے جتھوں کو سنبھالا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پولیس کسی پارٹی کی نہیں ریاست پاکستان کی ہے،عدالتوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اچھے فیصلے دئیے اور اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے،میں سراج الحق صاحب کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے صوبائیت کو ہوا دینے کے بجائے پاکستانیت کی بات کی،تین دن میں پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے کی اہل ہے،حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مجھے عمران خان نے کہا کہ ضمیر کی آواز سنیں،الحمداللہ میں نے ہمیشہ ضمیر کے مطابق فیصلے کیے ہیں،میں اللہ کی ذات کو جواب دہ ہونا ہے،الزام سے فیصلہ نہیں ہوجاتا ہے،وزیراعظم تو کئی بار اعلان کرچکے ہیں کہ ٹی اوآرز بنائے جائیں،میرے سے احتساب شروع کیا جائے،عمران خان پہلے مان جاتے تو احتساب ہوجاتا،4ماہ بعد بھی وہی فیصلہ ہوا ہے،عمران خان بتائیں وزیر اعظم کیا چیز چھپا رہے ہیں،عمران خان صاحب جو آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا اس کو پورا نہیں کیا ہم سب گنہگار ہیں،یہ سب اس وجہ سے ہوا آپ نے چڑھائی کا فیصلہ کیا اور ہم نے دفاع کیا ہے،میرا ضمیر مطمئن ہے،جس دن میرا ضمیر مطمئن نہ ہوا پریس کانفرنس کرکے سب کچھ چھوڑ دوں گا،دوستی یہ ہوتی ہے کہ خان صاحب میں نہ خوشامدی ہوں،نہ ضمیر فروش ہوں،لیڈر کا کام افراتفری پھیلانا نہیں ہوتا۔متنازعہ خبر کی تفتیش کے لیے تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی سول شخصیت کرے گی ،فیصلہ ہو گیاانہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مجھے نوٹس بھیجنا تھا وہ کہا گیا ہے،انتظامیہ تحریک انصاف سے بات کرے گی، میں نے انتظامیہ کو بلا لیا ہے عدالت کے فیصلے کی صورت میں لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔پیپلز پارٹی کی سیاست جمعہ جنج نال والی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ متنازعہ خبر کے معاملے میں ایجنسیز کے نمائندوں کی بااختیار کمیٹی بنے گی اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے،اب اس معاملے کو ختم ہونا چاہیے،انہوں نے ایف سی اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان بھی کیا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ خاتون کے جعلی شناختی کارڈ کے معاملے میں ایف آئی اے تحقیقات کررہی ہے،وزارت داخلہ نے ضمانت میں رکاوٹ نہیں ڈالی ،جج کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں اس معاملے میں نادرا اہلکاروں کو نہیں چھوڑوں گا۔انہوں نے کہا ہے کہ میرا فوج سے روزانہ کی بنیاد پر رابطہ ہے،آرمی چیف سے ملاقات میں ڈان میں خبر لیک ہونے سے متعلق بات ہوئی ہے،شہباز شریف،اسحق ڈار یا میرا نام خبر لیک ہونے میں نہیں ہے۔

مزید : پشاورصفحہ اول