کپتان صاحب نوبال پر آوٹ، سپریم کورٹ کو ماننا تھا لاک ڈاؤن اور عوام کی زندگی اجیرن بنا نیکی کیا ضرورت تھی، اسفند یارولی

کپتان صاحب نوبال پر آوٹ، سپریم کورٹ کو ماننا تھا لاک ڈاؤن اور عوام کی زندگی ...

چارسدہ (بیورورپورٹ)اے این پی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ کپتان صاحب نو بال پر آوٹ ہو گئے ۔ سپریم کورٹ کو ماننا تھا تو وزیر اعظم کے احتساب کیلئے اسلام آباد کے لاک ڈاؤن اورعوام کی زندگی اجیرن بنانے کی کیا ضرورت تھی ۔ عمران خان کنفیوژن کا شکار ہے ۔ ووٹ انہوں نے پختونوں سے لیا ہے مگر پختونوں کے حقوق اور مفادات کیلئے پنجاب کی ناراضگی کسی صورت موہ نہیں لے سکتے ۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور اسمبلی کی تحلیل کے خلاف اے این پی سب سے آگے ہوگی ۔ پرویز خٹک ، مولانا فضل الرحمان ، مولانا سمیع الحق اور سراج الحق سب افغان ہیں ۔ وہ سرڈھیری میں مشتاق خان کی اے این پی میں شمولیت کے حوالے سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر پارٹی کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے ۔ اسفند یار ولی خان نے کہا کہ نواز شریف ایک مرتبہ پھر پختونوں کے ساتھ وعدہ خلافی کر رہے ہیں اور پاک چین اقتصادی راہداری میں پختونوں کو اپنا حق نہیں دیا جا رہا ہے ۔وزیر اعظم میاں نواز شریف پاک چین اقتصادی راہداری میں انڈسٹریل زونز کے نقشے چھاپ دیں تو میں اپنی غلطی تسلیم کرکے نواز شریف سے معافی مانگوں گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے گزرنے والی سی پیک میں کوئی انڈسٹریل زون نہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا اصل نام کاشغر گوادر کوریڈور تھا جو پیپلز پارٹی حکومت کا منصوبہ تھا مگر نواز شریف نے سی پیک پر سیاست شروع کرکے نہ صرف منصوبے کا نام تبدیل کیا بلکہ خیبر پختونخوا کا حق مارنے کیلئے منصوبے کے اصل نقشے چھپائے ۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ نوازشریف جان لیں کہ جب تک سی پیک میں پختونوں کو اپنا حق نہیں دیا جا تا کسی صورت سی پیک کو بننے نہیں دینگے کیونکہ سی پیک پختونوں کی بقاء اور مستقبل کا مسئلہ ہے ۔ تبدیلی کے دعویدار عمران خان نے ووٹ پختونوں سے لیا ہے مگر پختونوں سے کئے گئے وعدے اور دعوے پورے کرنا تو درکنار پختونوں کے حقوق پر بھی خاموش ہے ۔ عمران خان کنفیوژن کا شکارہے ان کو مینڈیٹ پختونوں نے دیا ہے مگر وہ سیاست پنجاب کی کر رہے ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ پنجاب کے بغیر وزارت عظمی اور تحت پنجاب کا خواب حقیقت نہیں بن سکتا ۔عمران خان کو خیبر پختونخوا سے زرا بھر بھی لگاؤ ہے تو سی پیک سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر حقوق کیلئے میدان میں نکل آئے میں وعدہ کرتا ہوں کہ عمران خان کی قیادت میں صوبے کے حق کیلئے لڑوں گا۔سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم ، عمران خان اور دیگر فریقین کو نوٹس بھیجا تھا مگر اس کے باوجود عمران خان نے اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے اور وزیر اعظم کے احتساب کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنایا مگر آج عمران خان نو بال میں پھنس کر کلین بولڈ ہو گئے ۔ اسفند یار ولی خان نے کہا کہ ملک احتجاجی سیاست اور دھرنوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ احتساب اور لاک ڈاؤ ن کے حوالے سے حکومت اور عمران خان نے تمام حدود کراس کئے جس میں صرف عوام خوار ہو گئے۔ اسفند یار ولی خان نے کہا کہ پاکستان میرا ملک ہے مگر اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ میں افغان ہو ں اور افغان رہونگا۔ مولانا فضل الرحمان ، مولانا سمیع الحق ، سراج الحق اور پر ویز خٹک بھی افغان ہیں اگر کسی کو شک ہے تو جا کر ان کے کاغذات مال چیک کریں ۔ اگر پر ویز خٹک خود کو افغان نہیں سمجھتے تو وہ خٹک بھی نہیں ہے کیونکہ خٹک افغانوں کا معزز قبیلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت پختونوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور پختون تعلیم یافتہ نوجوانوں کا قتل عام ہو رہا ہے تاکہ پختون قوم کسی صورت ترقی نہ کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور اسمبلی کی تحلیل کے خلاف اے این پی سب سے آگے ہو گی اور کسی صورت گورنر راج نافذ نہیں ہونے دیگی ۔ انہوں نے سانحہ کوئٹہ پر شدید رنج وغم کا اظہار کیا اور کہا کہ 62نوجوانوں کے شہادت کے حوالے سے قوم کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جائے کیونکہ وقوعہ کے روز کوئٹہ میں اے این پی کا جلسہ عام اور پولیس دہشت گردوں کے ٹارگٹ پر تھے اور اس حوالے سے ذمہ دار اداروں نے ہمیں بھی باقاعدہ طور پر آگاہ کیا تھا مگر پولیس ٹریننگ سنٹر میں مقیم سینکڑوں نہتے پولیس جوانوں کو ایک چوکیدار کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا جس سے شکوک وشبہات نے جنم لیا۔

مزید : پشاورصفحہ اول