تھر کے عوام کا معیار زندگی کو تبدیل کریں گے :وزیر اعلیٰ

تھر کے عوام کا معیار زندگی کو تبدیل کریں گے :وزیر اعلیٰ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت تھر کے لوگوں کا معیار زندگی کو تبدیل کرنے کی خواہاں ہے جس کے لئے انہیں تمام تر ضروری سہولیات بشمول پانی، صحت ، انفراسٹکچر ، ٹرانسپورٹ ، بجلی اور روزگار کے مواقع فراہم کررہی ہے۔ لہٰذا تمام منتخب لوگوں ، لوکل باڈیز سے لیکر نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کو چاہیے کہ اس حوالے سے مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن کے ذریعے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ یہ بات انہوں نے منگل کو نیو سندھ سیکریٹریٹ میں تھر کی ترقیاتی اسکیموں سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں سینیٹر انجینئر گیان چند اسرانی ، ایم این اے نور احمد شاہ، ایم این اے فقیر شاہ محمد بلالانی ، ایم پی ایز دوست محمد راہموں، ڈاکٹر مکیش کمار ملانی، کھٹو مل ، چئیرمین ڈسٹرکٹ کونسل غلام حیدر سمیجو، وائس چئیر مین کرامی سنگھ ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات ) محمد وسیم، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی، سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز اعجاز میمن و دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بریفینگ دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات ) محمد وسیم نے کہا کہ 2076.351 ملین روپے کی 17جاری اسکیمیں جون 2017کے آخر تک مکمل ہو جائیں گی جسکے لئے 963.945ملین روپے اب تک جاری کئے جاچکے ہیں۔ جس میں سے 323.783ملین روپے استعمال ہو چکے ہیں۔ 55ضلعی اسکیمیں جن پر لاگت کا تخمینہ 10498.383ملین روپے ہے جس میں سے 8138.9ملین روپے اب تک جاری کئے جاچکے ہیں اور اس میں سے 3793.343ملین روپے استعمال کئے جاچکے ہیں۔ ان میں سے 4436.04ملین روپے کی 46 ملٹی پل ڈسٹرکٹ اسکیمیں ہیں۔ جس میں سے 2247.183ملین روپے اب تک جاری کئے جاچکے ہیں اور ان میں سے 734.742ملین روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ نگر پارکر کے علاقے میں 18فروری 2015کو 703.37ملین روپے کی لاگت سے 2ڈیم کالی داس اور ویرا واہ شرو ع کئے گئے ان منصوبوں پر اب تک 35ملین روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ۔تھر کے علاقے سے منتخب نمائندوں نے کہا کہ یہ دونوں ڈیم علاقے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ کو ہدایت کی کہ وہ محکمہ آبپاشی اور محکمہ خزانہ کے درمیان اس حوالے سے رابطہ کریں تاکہ منصوبے پر کام کی رفتار تیز ہو سکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ روڈ سیکٹر کی اسکیموں کے تحت وری ڈہرا روڈ کا سرینگیر تعلقہ چھاچھرو میں 57.915 ملین روپوں کی پانچ کلو میٹر طویل سڑک، ہرا ر چانڈیا تا کورو لیج 355.695ملین روپے کی لاگت سے 24کلو میٹر طویل سڑک ، کھینسر تا کھیرو وریام 431.378ملین روپے کی لاگت سے 30کلو میٹر طویل سڑک، چھاچھرو وچھولو پار روڈ تا ولیج پین پاریو وایا چھاچھی اور چند دیگر سڑکیں 130ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کے حتمی مراحل میں ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اے سی ایس محمد وسیم اور سیکریٹری ورکس اینڈ سروس اعجاز میمن کو ہدایت کی کہ وہ ان سڑکوں پر کام کی رفتار کو تیز کریں اور کام کے معیار کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں تھر میں ڈینگی کے پھیلنے پر تشویش ہے انہوں نے کہا کہ میر ی ہدایت پر ڈائیریکٹوریٹ آف ڈینگی نے 17000ڈینگی کٹس خرید کیں ہیں جن میں سے 1000کٹس DHOمٹھی کے حوالے کی گئی ہیں۔ حکومت نے 7 یو ایل وی فیومیگیشن مشینیں بھی بی ایچ یو تھر کو بھیجی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندے مناسب طریقے سے فیومیگیشن اور 74000ماسکیٹو بیڈ نیٹس کی تقسیم کو یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں رپورٹس ملی ہیں کہ 150ڈینگی بخار کے کیس تھرپارکر میں رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سے زیادہ تر کو LMC حیدرآباد ریفر کیا گیا جنہیں وہاں پر مناسب علاج کے بعد واپس اپنے گھروں کو بھیج دیا گیا ۔ آج کی تاریخ تک 10مریض سول اسپتال مٹھی میں داخل ہیں اور انکا بھی مناسب طریقے سے علاج کیا جارہا ہے۔ ڈی ایچ او نے 40دیہاتوں میں فیومیگیشن کی ہے اور منتخب نمائندوں اور متعلقہ ہیلتھ افسران کی جانب سے نشاندہی کرنے پر مزید فیومیگیشن کی جائیگی۔وزیراعلیٰ سندھ کو پانی کی فراہمی کی اسکیموں اور آر او پلانٹس سے متعلق بھی بریفینگ دی گئی ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ بہت جلد ضلع تھرپارکر کا دورہ کرینگے اور آر او پلانٹس متعلقہ لوکل باڈیز کے حوالے کرینگے تاکہ انہیں عوام کے وسیع تر مفاد میں فعا ل کیا جاسکے۔

مزید : کراچی صفحہ اول