کمیشن سے جو بھی مجرم ثابت ہوجائے سپریم کورٹ اسکو سزا دے :سراج الحق

کمیشن سے جو بھی مجرم ثابت ہوجائے سپریم کورٹ اسکو سزا دے :سراج الحق

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کمیشن سے جوبھی مجرم ثابت ہو جائے سپریم کورٹ اس کو سزا دے ،کمیشن کی کارروائی اوپن ہونی چاہیے،حکومت کی ہٹ دھرمی نے پورے ملک کو دلدل میں پھنسا دیا ہے، پوری قوم کی طرف سے سپریم کورٹ میں انصاف اور اپنے پیسوں کے حساب وکتاب کے لیے آئے ہیں،حکومت کی طرف سے عوام کی جیبوں پر سرجیکل سٹرائیک ہمیں منظور نہیں ہے،یہ کسی فرد کا نہیں بلکہ مفاد عامہ کا مسئلہ ہے،محدود وقت میں احتساب ہونا چاہیے اور سب کے احتساب کے لیے جامع نظام تشکیل دینا چاہیے،اپوزیشن حکمرانوں کے لیے آ ئینہ ہوتا ہے ، حکمرانوں نے اپنا چہرہ صاف کرنے کی بجائے آئینہ کو توڑنے کی کوشش کی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا ۔اس مو قع پر جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور بٹ ،جماعت اسلامی کے مرکزی ترجمان امیر العظیم اور امیر جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد زبیر فاروق خان بھی اُن کے ہمراہ تھے ۔سراج الحق نے کہا حکومت کی ہٹ دھرمی نے پورے ملک کو دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ہم سات ماہ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وزیر اعظم اپنے اعلان کے مطابق اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کریں لیکن وزیراعظم 1947ء سے احتساب کی بات کرتے تھے مطلب یہ کہ وہ قائد اعظم کا بھی احتساب کرناچاہتے ہیں۔ہمارا پہلے دن سے یہی مطالبہ تھا کہ احتساب حکمرانوں اور ان کے خاندانوں سے شروع ہو اور پیچھے تک جائے۔سراج الحق نے کہا کہ اگر آج سڑکیں بند ہیں۔ملک میں انتشار ہے ۔حکومت خود اسلام آباد کی عمارتوں میں قلعہ بند ہے تو اپنے کرتوت اور مس مینجمنٹ کی وجہ سے ہے۔ہم پوری قوم کی طرف سے سپریم کورٹ میں انصاف اور اپنے پیسوں کے حساب وکتاب کے لیے آئے ہیں۔حکومت کی طرف سے عوام کی جیبوں پر سرجیکل سٹرائیک ہمیں منظور نہیں ہے عوام انہیں مینڈیٹ دیتے ہیں اور یہ ڈبل شاہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم ڈبل شاہ کی سیاسی کو مسترد کرتے ہیں۔سب کااحتساب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ میں آئی ہیں کیونکہ ہمیں اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد ہے۔جس معاشرے میں عدالت پر سے اعتماد ختم ہو جائے وہاں خون خرابہ ہوتا ہے۔ہمیں سپریم کورٹ سے امید ہے۔یہ کسی فرد کا نہیں بلکہ مفاد عامہ کا مسئلہ ہے۔محدود وقت میں احتساب ہونا چاہیے اور سب کے احتساب کے لیے جامع نظام تشکیل دینا چاہیے۔بد قسمتی سے حکومت پارلیمنٹ میں کوئی بھی ایسا بل لانے میں ناکام ہوئی جس کے نتیجہ میں کرپشن روکی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے راستے جس طرح سے بند کیے گئے اور وہاں کے وزیراعلیٰ پر آنسو گیس کی بارش اور بمباری کی گئی اس سے حکومت نے خود ہی آئین،موٹر وے کے قوانین اور جمہوری کلچر کو سبوتاژ کیا۔موٹر وے پر مٹی کے پہاڑ کھڑے کر دیئے گئے۔اپوزیشن جمہوری کا حصہ اور حسن ہے۔اپوزیشن حکمرانوں کے لیے آ ئینہ ہوتا ہے لیکن حکمرانوں نے اپنے چہرے کو صاف کرنے کی بجائے آئینہ کو توڑنے کی کوشش کی۔کرپٹ سسٹم اور عناصر کو ختم کرنے تک ہماری پر امن تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کمیشن سے جوبھی مجرم ثابت ہو جائے سپریم کورٹ اس کو سزا دے ۔کمیشن کی کارروائی اوپن ہونی چاہیے۔ہم چاہتے ہیں کہ دھرنا دینا تحریک انصاف کا حق ہے اور اس کوان کے حق سے نہ روکا جائے۔سراج الحق کے وکیل اسد منظور بٹ نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کو یہ تجاویز دی تھی کہ اگر کمیشن بنے تو حاضر سروس جج کو اس میں لگایا جائے اور جو بااختیار ہو اور نیب ایف بی آر سمیت دیگر اداروں سے مدد حاصل کر سکے تیسراا یہ کہ اگر کمیشن کارروائی کرے اور سمجھے کہ کوئی مجرم ہے تو اس کو سزا دینے کا بھی اختیار ہو۔ہماری پہلی دو گزارشات کو مان لیا گیا لیکن تیسری پر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کمیشن اپنی فائنڈنگز سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سامنے پیش کرے گا اور لارجر بینچ سزا تجویز کریگا۔حکومت نے جمعرات کے روز جواب داخل کرنا ہے انہوں نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی اوپن کورٹ میں ہوگی۔

مزید : کراچی صفحہ اول