تصادم کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے،علامہ ناصرعباس

تصادم کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے،علامہ ناصرعباس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اعلی عدالتی فیصلہ آنے پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے دھرنے کے پروگرام کوموخر کرنے کے فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی رہنماوں کا یہ فیصلہ انتہائی مدبرانہ اور حالات کے عین متقاضی ہے۔جس نے قوم کو ایک بہت بڑی آزمائش سے بچا لیا ہے۔ عدالتی فیصلوں اورقومی اداروں کا احترام سب پر عائد ہوتا ہے ۔ہمیں تصادم کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے افہام تفہیم کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔انہوں نے کہ اعلی عدلیہ سمیت دیگر ادارے ملک وقوم کے منافی حکومتی اقدامات کے خلاف اگر خود حرکت میں آئیں تو پھر عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی نوبت نہ آئے۔عوام کی نظریں اب سپریم کورٹ پر لگ گئی ہیں۔دہشت گردی،کرپشن اور لاقانونیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کالعدم جماعتوں اور کرپٹ عناصر کے خلاف بھی کاروائی ازحد ضروری ہے۔وطن عزیز میں ایسے شفاف جمہوری نظام حکومت کی ضرورت ہے جس میں مادر وطن کے ہر فرد کو جان و مال کا مکمل تحفظ حاصل ہو۔جہاں اختیارات کی بجائے قانون و انصاف کی حکمرانی ہو۔انہوں نے امیدظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقیناعدالتی فیصلہ کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ پانامہ لیکس سمیت کرپشن میں ملوث بااثرکرداروں کے تمام الزامات کی مکمل چھان بین اور سخت کاروائی جب تک نہیں ہوتی تب تک مقتدر اداروں کی بالادستی سوالیہ نشان بنی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی ترقی و استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مخلصانہ تگ و دو کرنا ہو گی۔وطن عزیز لاتعداد بحرانوں کا شکار ہے اور کسی رسہ کشی کی سیاست کا متحمل نہیں۔حکومت بے لگام اختیارات کو ترک کر کے آئینی حدود قیود کی پاسداری سے ملک کو انتشار کی سیاست سے بچا سکتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر