ایجوکیٹرز ‘ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی بھرتیاں ‘ امیدواروں کا نئی پالیسی کیخلاف شدید احتجاج

ایجوکیٹرز ‘ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی بھرتیاں ‘ امیدواروں کا نئی پالیسی ...

ملتان ( اعجاز مرتضیٰ سے)ایجوکیٹرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرزکی بھرتی میں این ٹی ایس اور حکومتی پالیسی میں تضاد کے باعث ہزاروں امیدوار رہ گئے ‘آرٹس امیدواروں کو این ٹی ایس ٹیسٹ میں سائنس کے سوالات دے گئے ‘ تفصیل کے مطابق ایجوکیٹر ز کی بھرتی کے لئے این ٹی ایس نے جو اشتہار دیا اس کے مطابق ای ایس ای میتھ (سائنس) کے لئے ایم اے اور بی اے پاس امیدواروں کو بھی اہل قرارد یا گیا ‘ایف ایس سی کے حامل امیدوار بھی اہل قرار دئیے گئے لیکن حکومت پنجاب کی نئی پالیسی کے(بقیہ نمبر32صفحہ12پر )

مطابق ایف ایس سی کو آپشنل رکھا گیا اور ایف اے پاس امیدواروں کو بھی اپلائی کے لئے اہل قرار دیا گیا‘اس کے علاوہ این ٹی ایس ٹیسٹ میں ایف ایس سی اور بی ایس سی لیول کے سوالات رکھے گئے جو آرٹس امیدواروں کی سمجھ سے باہرہو گئے ‘ اس کے علاوہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کی بھرتی کے لئے ایم اے پاس امیدوار اہل قرار دئیے گئے مگر پیپر سائنس کا رکھا گیا ‘ ایف ایس سی اور بی ایس سی لیول کے سوالات رکھے گئے جو آرٹس امیدواروں کی سمجھ سے باہر تھے‘ آرٹس امیدوارسراپا احتجاج ہیں اورانہوں نے کہا ہے کہ ان سے ایف اے‘ بی اے اور ایم اے لیول کے مطابق ٹیسٹ لئے جائیں‘ ا ن کا کہناہے کہ آرٹس امیدواروں سے درخواستیں لے کر سائنس کے ٹیسٹ لینا زیادتی ہے ‘اگر سائنس کے ہی ٹیسٹ لینا ہیں تو پھر آرٹس امیدواروں سے درخواستیں کیو ں لی جاتی ہیں ‘فیسیں کیوں لی جاتی ہیں‘ ان کا خرچہ کیوں کرایا جاتا ہے ‘ ان کی بھاگ دوڑ کیوں کرائی جاتی ہے ‘دوسری جانب امیدواروں کا کہنا ہے کہ ایم ایڈ اور بی ایڈ کرنے والے امیدواروں کو صرف5فیصد نمبر دئیے جاتے ہیں جو کہ بہت کم ہیں ‘ امیدواربی ایڈ اور ایم ایڈ استاد بننے کے لئے کرتے ہیں وہ ٹیچر بننے کے خواہشمند ہوتے ہیں ‘ لیکن انہیں نظر انداز کیا جا رہاہے ‘ اب بی ایڈ ویسے ہی ختم کر دیا گیا ہے اور ایم ایڈ کے کورس کرائے جارہے ہیں ‘ بی ایڈ اور ایم ایڈ کرنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ انہیں نظر انداز کرکے غیر متعلقہ افراد استاد بھرتی کئے جارہے ہیں جو عارضی طور پر یہ ملازمت کرتے ہیں اور پھر موقع ملتے ہی ٹیچنگ چھوڑ کر اپنے متعلقہ شعبوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں ‘ انہوں نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے مطالبہ کیاہے کہ صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور ایجوکیٹرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی بھرتی کی پالیسی میں موجود خامیاں دور کی جائیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر