فیڈ ریشن کو جاگیر سمجھنے والوں بزنس کمیونٹی مسترد کر دے گی :پی بی جی

فیڈ ریشن کو جاگیر سمجھنے والوں بزنس کمیونٹی مسترد کر دے گی :پی بی جی

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس گروپ (پی بی جی)کے رہنماؤں نے کہاہے کہ ایف پی سی سی آئی کو اپنی جاگیر سمجھنے والوں نے عہدوں کی بندر بانٹ کرکے بزنس کمیونٹی کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے ، ہمارا مشن سچ بولنا ہے اورہم اپنی انتخابی مہم سچ کی بنیاد پر چلائیں گے۔کسی بھی بدتمیزی کا جواب نہیں دیا جائے گا، ہمارے فیصلے صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے ، یو بی جی کے رہنما کیچڑ اچھالناچھوڑ دیں ۔ہمارے پا س بھی بہت سے ثبوت ہیں اگر ہم ان کو سامنے لے آئے تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ عقیل کریم ڈھیڈی کی رہائش گاہ پرگزشتہ روز ہونے والے اجلاس سے پاکستان بزنس گروپ کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں چیئرمین پی بی جی مہتاب الدین چاولہ ،بزنس مین پینل اور پاکستا ن بزنس گروپ کے ایف پی سی سی آئی انتخابات کے لیے مشترکہ صدارتی امیدوار عبدالرحیم جانو ،یحییٰ پولانی ،احمد سعید ،شاہ نواز اشتیاق ،عبید اللہ قادری ،رفیق سلمان ،وحید شاہ ،جاوید جیلانی اور نوید پولانی سمیت تاجر و صنعت کاربرادری کی ایک بڑی تعدادنے شرکت کی۔اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے انتخابات کے لیے حکمت عملی مرتب کی گئی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ21ویں صدی کو معیشت کی صدی کہا جاتا ہے ۔دنیا میں صرف ان ممالک کی آواز سنی جاتی ہے تو معاشی طور پر مضبوط ہیں ۔اس سلسلے میں ہم جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔اس کی بڑی فوج نہیں ہے لیکن اپنی مضبوط معیشت کی وجہ سے پوری دنیا میں جاپان کا اثر و روسوخ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے ۔ملک کے ممتاز ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ ایک آدمی کے مضبوط یا کمزور ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اصل بات یہ ہے کہ ملک کی معیشت بہتر بنائی جائے ۔ملک کی معیشت بہتر ہوگی تو عام آدمی کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ فیڈریشن میں ہمارا کردار فرینڈلی اپوزیشن کا نہیں ہونا چاہیے ۔ہمیں بہتر سے بہتر تجاویز پیش کرنی چاہئیں ۔فیڈریشن کو چاہیے کہ ان تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے ایک پالیسی مرتب کرے اور ان پر ہر صورت میں عملدرآمد کرائے ۔ایف پی سی سی آئی میں ماہر معاشیات ،ماسٹر آف بزنس ،چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور اسی طرح کے دیگر پروفیشنلز کو تعینات کیا جائے جو اپنے اپنے شعبو ں کے حوالے سے فیڈریشن کی رہنما کرسکیں ۔رہنماؤں نے کہا کہ ہماری برآمدات مسلسل گررہی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ برآمدات میں کمی کساد بازاری کی وجہ سے ہوئی ہے ۔یہ درست بات نہیں ہے ۔امریکا میں کساد بازاری پانچ سال قبل ہی ختم ہوچکی ہے ۔بنگلہ دیش میں کپاس نہ ہونے کے باوجود برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کی برآمدات 34ارب ڈالر ہوگئی ہیں ۔جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی برآمدات میں بھی 7ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ دو سال قبل ہم نے بزنس کمیونٹی کے مفاد کے لیے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا تھا اس گرو پ کا کام صرف میرٹ کی بنیاد پر کام کرنا تھا لیکن دو سال کے دوران کہیں بھی میرٹ نظر نہیں آیا،یوبی جی میں شخصی آمریت ہے اورسینئررہنماؤں کی تجاویز کو ردی کی توکری میں پھینک دیاجاتاہے۔ ہم نے متعددبار اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنی روش پر قائم ہے۔ہمارے پیش نظرذاتی نہیں بزنس کمیونٹی کا مفاد تھا اور ملک بھرکے تاجروں اور صنعتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے یونائیٹڈبزنس گروپ سے علیحدہ ہوکرپاکستان بزنس گروپ کی بنیادڈالی ۔انہوں نے کہا کہ ایک حکومتی عہدیدار اپنے حکومتی عہدے کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ وہ ناقابل شکست ہے لیکن ان انتخابات میں ملک بھر کی بزنس کمیونٹی خدائی دعوے کرنے والوں کو خاک میں ملادے گی ۔ہمارے کوئی ذاتی مفادات نہیں ہم بزنس کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر