سپریم کورٹ کی مداخلت،دیرآید،درست آید

سپریم کورٹ کی مداخلت،دیرآید،درست آید

(تجزیہ:کامران چوہان)

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 2نومبرکواسلام آباد میں وزیراعظم کے استعفیٰ تک دھرنے کااعلان کیاتوکھلاڑیوں نے کپتان کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے شہراقتدارکا رخ کرلیاجس کے بعد28اکتوبر سے یکم نومبرتک ملک کادالخلافہ میدان جنگ بنارہا۔ پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان میں دن رات جھڑپیں ہوتی رہیں،پولیس نے لاٹھی ،ڈنڈے ،آنسوں گیس اورربڑکی گولیاں اور کنٹینرزسمیت دیگر طریقوں سے کھلاڑیوں کواسلام آبادمیں قدم نہ جمانے کی تمام تر کوششیں کی گئیں مگر افسوسناک طورپریہ جھڑپیں دوجانوں کے چراغ گُل کرگئیں۔ایسا محسوس ہورہا تھا کہ شاید پوراملک میدان جنگ بناہوا ہے،اسٹاک مارکیٹ پر مندی کے بادل چھاگئے جبکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ انتہائی مجروح ہوئی۔یکم نومبرکو عمران خان سمیت دیگر افرادکی جانب سے پانامہ لیکس کیس میں سماعت کے دوران آخرکارسپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے کہا کہ ہم آزاداورخودمختارکمیشن تشکیل دے دیتے ہیں جونہ حکومت کی مشاورت سے ہوگا اور نہ ہی اپوزیشن کی مشاورت سے مگر اس سے قبل ابھی تمام فریقین لکھ کر دیں کہ وہ کمیشن کی رپورٹ کرتسلیم کریں گے جس کے بعد عمران نے دھرنا ختم کرتے ہوئے یوم تشکرمنانے کا اعلان کردیا۔اس ساری صورتحال کے بعدبہت سارے سوال گردش کررہے ہیں۔کہ کیا ہماری سیاسی جماعتوں میں ابھی تک اتنی سیاسی پختگی کیوں نہیں آئی کہ بات ٹیبل ٹاک پر کی جائے؟۔ متخب پارلیمان اور تمام صوبوں میں بھی ایوان ہونے کے باوجود فیصلے کیوں سڑکوں اور دھرنے کے ذریعے منوانے کی نوبت آتی ہے؟۔ کیوں حکومت نے خود فراخدلی کا مظاہر کرتے ہوئے آگے بڑھ کرڈیڈ لاک کوختم کرنے کی کوشش کی؟۔پولیس اورپی ٹی آئی کارکنان کے درمیان 2جانوں کے ضیاع کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگئی؟۔کیا سیاسی جماعتوں کواختلافی ایشوزپرفیصلے کیلئے غیرسیاسی فریق کی ضرورت لازمی ہے؟ جبکہ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ ہراختلافی فیصلے کے بعد فریقین فیصلے کی صحت پر سوال اٹھاتے بھی دکھائی دیتے ہیں شاید اسی لئے اس بار آخری مرحلے پرعدالت عظمیٰ نے خودکوثالث کے کردارکیلئے پیش کیا۔ یہاں یہ بات بھی انتہائی قابل ذکرہے کہ عدالت کی جانب سے کمیشن کے قیام کے آمادگی پرحکومت اور تحریک انصاف میں اتفاق ہوا۔مگر انتہائی ضروری ہے کہ کمیشن کے قیام کی مددت کا تعین بھی کیا جائے اور رپورٹ منظرعام پر آنے کی تاریخ کا بھی مقرر کی جائے ۔سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ بریک تھرو ا’’بیک ڈور‘‘رابطوں کی مرہون منت ہے جبکہ تین دنوں کے اندرٹی اوآرزپر اتفاق ایک مشکل مرحلہ ہے اسی لئے حکومت اور سیاسی جماعتیں سیاسی پختگی کامظاہر کریں ۔یہاں یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ کیا کمیشن کے قیام کے بعدمیاں نواز شریف خودرجاکارانہ طورپرعہدے سے الگ ہوکراحتساب کیلئے پیش کریں گے؟

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر