ڈاکٹر عاصم، انیس قائم خانی اور رؤف صدیقی کی ضمانت منظور

ڈاکٹر عاصم، انیس قائم خانی اور رؤف صدیقی کی ضمانت منظور

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے دہشت گردوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق کیس میں ڈاکٹر عاصم، انیس قائم خانی، رؤف صدیقی اور عثمان معظم کی ضمانت منظور کرلی ہے۔منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں دہشت گردوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس محمد علی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت عدالت میں ملزمان کے وکلا نے اپنے دلائل میں کہاکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چاروں ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ وکلا نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم، انیس قائم خانی، عثمان معظم اور رف صدیقی پر الزامات بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہاکہ کہ ہمارے موکلوں نے ڈاکٹر عاصم کو کسی بھی دہشت گرد کے علاج کے لیے فون نہیں کیا تھا۔عدالت میں موجود سرکاری وکیل نے کہاکہ ڈاکٹر عاصم کو طبی بنیادوں پر ضمانت دے دی جائے جبکہ انیس قائم خانی، رؤف صدیقی اور عثمان معظم کی ضمانت کی مخالفت کی گئی۔عدالت میں کیس کے مدعی رینجرز کے وکیل نے کہاکہ ہم نے اسپتال میں علاج کروانے والے ملزمان کے خلاف 330 ایف آئی آرز بھی تفتیشی آفیسر کو جمع کروائیں لیکن اسے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا جبکہ ماتحت عدالت نے بھی کہاتھا کہ تفتیشی افسر نے اس کیس میں ملزمان کو فائدہ پہچانے کے لیے ناقص تفتیش کی۔انہوں نے کہا کہ حالانکہ ملزمان نے جے آئی ٹی میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور ملزمان کے وکلا نے کسی بھی فورم پر جے آئی ٹی کے اخذ کردہ نتائج کو چیلنج نہیں کیا۔ ملزمان کے خلاف بہت سے شواہد موجود ہیں۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی درخواست ضمانت کی اپیل مسترد کی جائے۔عدالت نے چاروں ملزمان کی 5، 5 لاکھ کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزمان بیرون ملک نہیں جا سکتے۔ عدالت نے ملزمان کو اپنے پاسپورٹ بھی عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا۔سندھ ہائیکورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو حکم دیا کہ 2 ماہ کے اندر اس کیس کی سماعت مکمل کی جائے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو گزشتہ برس 26 اگست کو رینجرز نے کرپشن اور دہشت گردوں کی مالی معاونت اور ان کے علاج معالجے کے الزامات میں حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف نیب میں دو ریفرنسز اور دہشت گردی میں معاونت کا ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر