جنوبی کوریا کی صدر نے وزیرا عظم کو عہدے سے ہٹا دیا

جنوبی کوریا کی صدر نے وزیرا عظم کو عہدے سے ہٹا دیا
جنوبی کوریا کی صدر نے وزیرا عظم کو عہدے سے ہٹا دیا

  

سیول (مانیٹرنگ ڈیسک ) جنوبی کوریا کی صدر نے وزیرا عظم کو عہدے سے ہٹا دیا ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کشیدہ ملکی حالات کے پیش نظر جنوبی کوریا کی صدر نے وزیر اعظم کو عہدے سے فارغ کر دیا ۔

اسلامک یونیورسٹی کی طالبات کی بس کو حادثہ ،خبر پڑھنے کیلے یہاں کلک کریں

صدارتی ترجمان کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیرا عظم کو بد انتظامی اور احتجاجی صورت حال کے پیش نظر ہٹا یا گیا ہے ۔ جنوبی کوریا میں لو گ صدر کی جانب سے اقربا پروری کو فرو غ دینے کے حوالے سے سڑکوں پر ہیں اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔

صدر پر الزامات ہیں کہ انہوں نے اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اہل خانہ اور دیگر قریبی افراد کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازرکھا ہے جس بناءپر اپوزیشن جماعتیں اور عوام ان سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم دورہ نیوزی لینڈ کےلئے روانہ ہو گئی 

صدر پارک جیون ہائے نے چند روز قبل اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے تقریر تیار کرنے کیلئے اپنی دوست سے مدد حاصل کی تھی جس کے بعد ان پراپوزیشن اور عوام کی جانب سے شدید دباﺅ ڈالا جا رہا ہے ۔ جنوبی کوریا کے میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر کی دوست چوئی سون سل کسی حکومتی عہدے کے بغیر پالیسی سازی میں بھی پیش پیش رہتی ہیںتاہم انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے اوپر لگائے گئے ان الزامات کی تردید کر تے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی سازی میں انکا کوئی کردار نہیں ۔صدارتی ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ صدر مس پارک نے سابق صدر کے ایڈوائزر کم بیونگ جون کو نیا وزیرا عظم نامز د کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ صدر نے فنانس سروسز کمیشن کے چیئرمین یم جونگ یونگ کو وزیرخزانہ محکمہ پبلک سیفٹی کے نئے ہیڈ کو بھی تعینات کر دیا ہے ۔

پچھلے ہفتے صدر مس پارک نے اپنے سینئر اتحادیوں میں سے بعض سے استعفیٰ طلب کیا تھا اور اتوار کے روز ان میں سے پانچ کے استعفیٰ منظور بھی کر لیے تھے ۔

دوسری جانب صدر کو نئے نامز د کر دہ وزیرا عظم اور دیگر وزراءکی تعیناتی کیلئے پارلیمنٹ سے اجازت لینا ہو گی اور اگر اجاز ت مل گئی تو مسٹر کم2013ءکے بعد سے اب تک صدر پارک کی قیادت میں خدمات پیش کرنے والے جنوبی کوریا کے چوتھے وزیر اعظم ہونگے جبکہ مسٹر یم اس کابینہ کے چوتھے وزیر خزانہ ہونگے ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں