پاکستان کو دھمکیاں دینے والا بھارت خود سنگین خطرے میں ،امریکہ نے بڑی وارننگ دے دی

پاکستان کو دھمکیاں دینے والا بھارت خود سنگین خطرے میں ،امریکہ نے بڑی وارننگ ...
پاکستان کو دھمکیاں دینے والا بھارت خود سنگین خطرے میں ،امریکہ نے بڑی وارننگ دے دی

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بار بار پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دیکر خطے کا امن تباہ کرنے پر تلا بھارت خود سنگین خطرات میں گھر گیا، امریکہ نے بھارت میں داعش کے بڑے حملوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی وارننگ بھی جاری کردی ہے۔۔ میڈیا رپورٹس اور برطانوی تھنک ٹینک کے مطابق بھارت داعش کو اسلحہ، گولہ بارود اور افرادی قوت فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے۔بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کی جڑیں بھارت میں موجود ہیں۔ یہ بھارت ہی ہے جواس دہشتگرد تنظیم کوتناور درخت بننے میں مدد دے رہا ہے۔ بھارت داعش کو افرادی قوت فراہم کرنےوالاایک بڑا ملک بن گیا۔ یہی نہیں داعش کےزیراستعمال خطرناک اسلحہ اور دھماکا خیزمواد بھارت میں ہی تیار ہوتا ہے۔ برطانوی تھنک ٹینک، کنفلیکٹ آرمامنٹ ریسرچ کی رپورٹ نے کئی رازوں سے پردہ اٹھا دیا۔ کنفلیکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے وہ راستہ بھی بتا دیا جس سے بھارت داعش کوگولہ بارود پہنچاتا ہے۔داعش آگ اور خون کا یہ کھیل بھارتی اداروں کی ناک کے نیچے کھیل رہاہے۔ یہ بھارت ہی ہے جو پوری دنیا کےامن کو داو¿ پرلگانے کی پوری قیمت وصول کررہا ہے۔

7بڑی کمپنیاں داعش کواسلحہ فراہم کرنے کے دھندے میں ملوث ہیں۔ گلف آئل کارپوریشن، سولرانڈسٹریز، پریمیئرایکسپلوزی، راجھستان کیمیکل، چمندی، اکنامک ایکسپلوزیوزاورآئیڈیل انڈسٹریز کی مصنوعات نے ہزاروں لوگوں کی جان لی۔دوسری جانب بھارت میں داعش نے جگہ جگہ اپنے بھرتی کے مراکزقائم کررکھے ہیں۔ حال ہی میں کیرالہ سے تعلق رکھنے والے22افراد نےداعش میں شمولیت اختیارکی۔ دلی ایئرپورٹ سے پکڑی جانےوالی یاسمین زید نے سب کچھ بتادیا۔

داعش کیلئے بھرتیاں کرنےوالی یاسمین کاکہنا ہے کہ 13مرد، 6خواتین اوران کے 3بچوں نے افغانستان میں داعش کے دہشتگردوں کے ہاتھوں بیعت کی ہے۔داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد نے بنگلور، حیدرآباد دکن اور ممبئی سے کویت، مسقط اورابوظہبی کے لئے اڑان بھری۔ جہاں سے وہ افغانستان پہنچے۔ میڈیا رپورٹس کےمطابق داعش کے سہولت کار چھوٹے بڑے شہروں میں موجود ہیں ،جوچند روپوں کے عوض دہشتگردی کا بازار گرم رکھنے کے لئے افرادی قوت فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

مزید : بین الاقوامی