یہ ہے وادی یاسین کاسلطان آباد

یہ ہے وادی یاسین کاسلطان آباد
یہ ہے وادی یاسین کاسلطان آباد

  

تحریر: جاوید احمد ساجد

قدرت نے گلگت بلتستان کو بے شمار اور گونا گوں حسن فطرت سے نوازا ہے۔ اس حسن فطرت کا مشاہدہ کرنے اور بلند و بالا خاموش پہاڑوں کو دیکھنے کے لئے پہلے تو صرف غیر ملکی سیاح آتے تھے لیکن اب ملکی یعنی پاکستانی سیلانی بھی اس علاقے کو دیکھنے کیلئے بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے ان علاقوں میں وادی یاسین اپنی فطری اور دلفریب لیکن دوسرے علاقوں سے قدرے مختلف حسن فطرت کو لئے ہوئے ، اپنے دلفریب نظاروں کے ساتھ ہر آنے والے کو خوش آمدید کہتی ہے۔

وادی یاسین میں ”سیلی ہرنگ سے درکوت“ اور” تھوئی کے اشَقم غورو تک“ کوئی ستر سے زیادہ گاو¿ں ہیں اور سلطان آباد ان میں سے ایک نہایت ہی مختلف گاو¿ں ہے۔ اس کا پہلا اور قدیم نام ہویلتی ہے ، اس کا جدید نام سلطان آباد ہو نے کے باوجود بہت سے لوگ آج بھی ہویلتی کہنا پسند کرتے ہیں۔

اس گاوں کے چار حصے ہیں۔ ہویلتی کے پائیںکو” مت “کہا جا تا ہے، اس سے اگلہ حصہ گموئی یا للے دھ کہلاتا ہے اور درمیان کا علاقہ یا حصہ ہویلتی اور آخری حصہ یاچی یا وارز کہلاتا ہے۔ ”مت “میں برانداس کے پیر سید جلال صاحب جو کہ ایک صاحب کرامت بزرگ تھے ،کے ایک چشم وچراغ حاجی جان صاحب اقامت پذیر تھے۔ جنھوں نے ساٹھ کی دھائی میں اپنے گھر کے نزدیک ایک مٹی کے اونچے ٹیلے پر پتھروں کی مدد سے اانگریزی حروف میں سلطان آباد لکھو ا کر اس گاو¿ں کے جدید نام کی بنیا د رکھ دیا اور آہستہ آہستہ اس پورے گاوں (ہویلتی ) کا رجسٹرڈ نام ہی سلطان آباد پڑگیا اور اتنا مشہور ہو گیا کہ اس چھوٹے سے گاو¿ں کے نام پر ، بڑے بڑے گاو¿ ں مثلاََ طاو¿س، سندی، غوجلتی ، قرقلتی اور ہویلتی پر مشتمل پورے ایک حلقے کا سرکاری نام ہی سلطاں آباد رکھاگیا اور یہ یاسین کا حلقہ نمبر دو سلطان آباد کا حلقہ کہلاتا ہے۔

اس کے علاوہ شیعہ امامی اسماعیلی کونسلات میں سے ایک لوکل کونسل کا نام بھی لوکل کونسل سلطان آباد ہے، یہ گاو¿ں آبادی اور رقبہ دونوں لحاظ سے چھوٹا ہے ، سلطان آباد کے حدود آغا خان چوک سے شروع ہو تا ہے جو چراگاہوں کی نیاد پر قدیم سے تقسیم کیا گیا ہے یعنی طاو¿س بر ( طاو¿س کے نالہ) کا پانی جہاں سے گذرتا ہے وہاں سے شروع ہو کر گلنگ تک اس کی حدود ہیں۔ یہ علاقہ تقریباََ چھ کلو میٹر سے بھی زیادہ لمبا ہے لیکن چوڑائی میں بہت کم ہے ، چونکہ اس کی چوڑائی کو دریائے یاسین کے معاون دریا، دریا سیلگا نوغ اور دریا ئے تھوئی نے کاٹ کاٹ کر کم کیا ہے اور لمبائی بہت زیادہ ہو نے کی وجہ سے پیدل چلنے والے زمانے میں کسی مسافر نے تنگ آکر کہا ہے کہ اگر اس گاو¿ں کو پکڑ کر کھڑ ا کر دیا جائے تو آسمان تک پہنچ جائے گا۔

گاو¿ں کی آبادی 1600 نفوس پر مشتمل ہے اور گھرانے تقریباََ دو سو ہیں۔ تعلیم کا تناسب اللہ کے فضل سے یاسین میں سب سے شاید زیادہ ہے اور تقریباََ96 فی صد ہے، یہاں کے مکین بھی زیادہ تر روز گار کھیتی باڑی اور مال مویشیوں سے حاصل کر تے ہیں لیکن آج کل ملا زمتیں بھی زیادہ تر لوگ کرتے ہیں۔ ملازمتوں میں زیادہ تر فوجی ہیں ، جو کہ تقریباََ اس طرح ہے۔ فوجی حاضر سروس کی تعداد 54 اور پنشن تقریباَ80 ، ڈاکٹڑ صرف ایک ہے۔ لکچرار تین، وکیل دو، سکول ماسٹر حاضر سروس تقریباََ 40 اور پنشنر10سے51 ، نرسنگ 61، نرسیں25، اور تعلیم یافتہ کی تناسب کچھ یوں ہے۔ ماسٹر ڈگری ہولڈرز53، گریجویٹ بی اے اور بی ایس سی100 سے زیادہ ہیں ، ایف اے اور ایف ایس سی 150سے زیادہ ، میٹرک تقریباََ 1004ور مڈل پاس بھی کم از کم 300 ہیں۔ پولیس میں صرف چار بندے نوکری کر رہے ہیں۔ اس گاوں کو سین جور ہویلتی بھی کہا جاتا ہے وہ اس لئے کہ اس گاوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہاں بھیر کے درخت بہت زیادہ ہوتے ہیں اور جب جون کے مہینے میں ان درختوں پر پھول کھلتے ہیں ، تو ان کی خو شبو اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ انسان مدہوش ہو جاتا ہے۔ اور طاو¿س سے شروع ہو کر برانداس تک ان کی خوشبو ساتھ رہتی ہے اس لئے اس کو سین جور یعنی بھیر کا ہویلتی کہا جاتا ہے۔ اس لئے آج کل جون کے مہینے میں شہد کی مکھیاں پالنے والے ان کے بناوٹی چھتوں کو سلطان آباد کے حدود میں رکھتے ہیں۔ تاکہ بھیر کی شہد حاصل کیا جا سکے۔

سلطان آباد پھلدار درختوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے ، پھلوں میں سیب، خوبانی، بادام، آڑو، آلو بخارا، ناشپاتی، گلاس (چیری)زردالو اور اخروٹ بہت مشہور ہیں۔ خوبانی کی بہت سی قسمیں ہیں ، مثلاََ دروکلی، میرزہ خانی، نو حیکان، چلی، قرومو، ٹھوشٹاکو، خرٹی، بیرانی ، ولیان، اور مو جاکی۔ ناشپاتی کے اقسام کچھ اس طرح سے ہیں۔ چار نا غن، ناشپوتی، کھش نک، چی ماکی، شوغوری، پھی شھو، امبروز، بلاغون اور انگریزی امبروز، سیب کے اقسام یہ ہیں ، خوردوجی، شی نی بالت، دن بالت، شت بالت، فرانسی سی، اور ممو بالت وغیرہ۔جبکہ گندم، مکئی، جو، باجرہ، انو ، باقلہ، گیہوں (غراش) ِ گھرک، چھہ، چینگ، وغیرہ

سبزی: گوبھی، آلو، مٹر، سبز لوبیہ، پالک، چائنہ پالک، بینگن، کدو، شلجم۔ ٹھپر، گونگلو، گاجر کے علاوہ حازگار، سوانچل، بار جو ہوئی، اشکرکا، ہونی مینازکی، پھی چلنگ، اشپی تنگ، وغیرہ، اور دالوں میں ، مسور، مونگ، ماش، لوبیہ جیسی سوغاتیں یہاں کاشت ہوتی ہیں۔

سلطان آباد میں اب پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی میسر ہے۔ آغا خان پلاننگ اور بلڈنگ سروس پاکستان کے شکر گذار ہیں کہ WASEP کی مدد سے دریا کے کنارے کنواں کھود کر لفٹ ایریگیشن کے ذریعے انتہائی شفاف پانی کا بندوبست کیا گیا ہے۔

دوسری طرف نہری پانی بھی دستیاب ہے۔ اس گاو¿ں سے دو بڑے بڑے پانی کے چینل گذرتے ہیں جو کہ سلطان آباد کے علاوہ طاو¿س بالا اور پائین کو سیراب کرتے ہیں۔ ایک چینل کو کوہل پائین اور دوسرے کو کوہل بالا یا تھمو دلاح کہا جاتاہے۔ آج یہ نہریں اتنی چوڑی اور گہری ہیں کہ اگر کوئی جانور اس میں گر جائے تو پھر شاید طاوس میں ہی نکل پائے۔ پائین نہر نے سلطان آباد کے بہت سے معصوم بچوں کو بہا کر طاوس میں نکالا۔ لیکن سلطان آباد کے لوگ پھر بھی کچھ نہیں کہتے جب کہ طاوس کے لوگوں نے سلطان آباد کے عوام کو پینے کے نلکے کا پانی بھی بند کیا ، آخر میں WASEP کا ایک بار پھر شکریہ کہ ان کی مدد سے ہمیں پینے کا صاف پانی میسر آیا ، اور سلطان آباد کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے سابقہ رویات کو بر قرار رکھتے ہوے آپس میں اتفاق اور اتحاد سے اور محبت سے رہیں۔ اللہ ہم سب کا ہامی و ناصر ہے۔

سلطان آباد میں سب سے پہلا سکول ڈائمنڈ جوبلی مڈل سکول 1960 ءمیں قائم ہوا تھا، اسکے ہیڈ ماسٹر سید فضل حسن جو کہ شہزادہ بلبل کے نام سے زیادہ مشہور تھے جو کہ سید جلال صاحب کے خاندان کے حاجی جان صاحب کے فرزند تھے ۔ سکول کے لئے یہاں کے باشندوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کمرے بنائے تھے لیکن بد قسمتی سے شاہ صاحب اور ان کے دو، دوسرے ساتھی ، حسن مشنری اور ماسٹر میر ا عظم نے سازش کر کے اس سکول کے مڈ ل سیکشن کو ہندور شفٹ کیا اور پرائمری سیکشن کو یہی پر رکھا، مگر سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہوئی کہ اس سکول کو ایک سال بھی نہیں چلا سکے کیو نکہ ماسٹر میر اعظم نے بر کولتی میں ایک گورنمنٹ پرائمری سکول میں ملازمت اختیا رکرلی اور حسن مشنری اور سید فضل حسن صاحب نے بھی سروس چھوڑ دی اور سیاست میں چلے گئے۔ جس کی وجہ سے ایک بہترین سکول کا ستیاناس ہو گیا۔ کیو نکہ ان تینوں مدرسین کو بر کولتی سے دریائے تھوئی کو پار کر کے آنا پڑتا تھا اور دریا پر کوئی پل نہ تھا اس لئے ان لوگوں نے اپنے گھروں کے نزدیک اس سکول کو منتقل تو کیا لیکن چلا نہ سکے۔

لیکن اللہ کی شان دیکھئے سلطان آباد کا وہ پرائمری سکول 1970 کے عشرے میں مڈل بن گیا اور اس سکول کو بھی پائین سلطان آباد (مت) میں منتقل کیا گیا اور سلطان آباد کے غیور عوام نے اس سکول کے لئے بھی اپنی مدد آپ کے تحت عمارت تعمیر کیا اور سکول چلتا رہا اور جب 1977- 78میں ڈی جے سکولوں کو آغا خان ایجو کیشن سروسز کے نام سے جدید تعلیم کی غرض سے ایک نیا نظام دیا گیا اور مشہور ماہر تعلیم دادو خان کو اس کا نظام سنبھالنے کے لئے مقرر کیا گیا تو تعلیم کا تیسرا دور شروع ہوا اور سیلف ہیلپ کے نظام کے تحت سلطان آباد کے عوام کو ایک بار پھر سے آزمایا گیا اور ان غیور عوام نے اشرف استقال کی سر براہی میں ایک بار پھر سے کمر کس لیا اور یاسین میں سب سے پہلے پروٹوٹائپ کا سکول بنانے میں پہل کی اور آج بھی یہ سکول چل رہا ہے۔تاہم جب یاسین میں ایک ہائی سکول قائم کر نے کے لئے AKESP کے چئیرمین عاشق علی یاسین آگئے اور جگہ منتخب کرنے کی باری آئی تو سنٹر یاسین اور سندی کے عوام نے ایک جھگڑا بر پا کیا کہ سندی میں قائم کیا جائے یا سنٹر یاسین میں مگر اس بار بھی سلطان آباد کے لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اور ہائی سکو ل کو یاسین سنٹر میں قائم کیا گیا۔ جب کہ حق سلطان آباد کے لوگوں کا تھا،۔ اللہ کی بڑی کرم نوازی ہے کی اس وقت سرکاری دس بستروں کا ہسپتال، گورنمنٹ کالج، ہائی سکول، کے علاوہ فوجی فونڈیشن ہسپتال کے علاوہ کوئی پانچ یا چھ پرائیویٹ سکول اور کالجز بھی سلطان آباد کی حدود میں قائم ہیں۔ یہ یہاں کے لوگوں کی اتفاق، اور نیک نیتی ہے جس کا صلہ ان کو اللہ نے ہر سہولت سے نوازا ہے۔

مزید : بلاگ