افغان مہاجرین کی واپسی پر اعتراضات

افغان مہاجرین کی واپسی پر اعتراضات
افغان مہاجرین کی واپسی پر اعتراضات

  

پچیس لاکھ افغان مہاجرین کی انکے اپنے ملک میں واپسی پاکستان کے لئے مشکل ترین مرحلہ ثابت ہورہا ہے۔اگرچہ حکومت نے 31 دسمبر تک انہیں مہلت دے رکھی ہے کہ وہ اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر افغانستان واپس چلے جائیں لیکن افغان مہاجرین کی واپسی پاکستان کے اندر بھی اور افغانستان میں بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے مہمانوں کی کئی دہائیوں سے جاری مہمان نوازی کو ترک کرنے کے حق میں نہیں یا پھر یہ طبقہ چاہتا ہے افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے میں پاکستان سختی نہ کرے اور انہیں پاکستان میں ہی بسا رہنے دے کیونکہ ان افغانوں کی اب دوسری نسل بھی پاکستان میں پروان چڑھ رہی ہے اور انکی شادیاں پاکستانیوں کے ہاں ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے افغان مہاجرین کے ساتھ خونی رشتے استوار ہوچکے ہیں ۔ا س طبقے کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کو جبراً واپس بھیجا جارہا ہے اور ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔اس موقف اور اعتراض کے حامیوں کو شاید یہ بات نظر نہیں آرہی کہ ”مہاجر “ کا لفظ پاکستان میں کتنی بڑی مشکلات پیدا کرتا ہے۔ایم کیوایم نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ انہوں نے اپنی شناخت کو قائم رکھ کر سیاست اور اقتدار ہی نہیں پاکستان کی سماجی اور کاروباری دنیا میں خاص ذہنیت کا پرچار کیا ہے۔اس تناظر میں افغان مہاجرین کو مستقل پاکستان میں قیام کی اجازت دینا خود پاکستان کی سلامتی اور داخلی سیاست میں بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔صورتحال یہ ہے کہ پاکستان نے سوویت جنگ کے بعد 95 فیصد مہاجرین کو اپنی سرزمین پر باعزت پناہ دی اور اپنے دلوں کو کشادہ کیا۔اسکے عوض پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر نے فروغ حاصل کیا ۔پاکستان کی اکانومی اور کلچر کو افغان مہاجرین نے رود ڈالا۔امن عامہ کی خرابی میں بنیادی کردار اداکیا۔آرمی پبلک سکول پشاور میں حملے کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ افغان مہاجرین ملک کی سکیورٹی کا بڑا مسئلہ بن رہے ہیں لہذا انہیں واپس بھیجنا عالمی معاہدے کے مطابق بھی احسن قدم ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان ہمارے بھائی ہیں اور ان سے کسی قسم کی نفرت کا اظہار کرنا ہماری شان کے خلاف ہے ،ان پر کوئی تشدد نہیں کیا جارہا۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ نے تو اس پر پاکستان کی تعریف کی ہے کہ پاکستان نے مہاجرین کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو دلدل سے نکالنے کی فکر کرنا ہر ایک محب وطن پاکستانی کا فرض ہے۔افغان مہاجرین کی آڑ میں ہی نہیں خود افغان مہاجرین ایسے جرائم میں ملوث رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا اور بھرم توڑا ہے۔افغانوں کی ایک بڑی تعداد جعلی شناختی کارڈ بنوا کر پاکستان کی شہریت کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسرے ملکوں میں دہشت گردی اور جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں تو بدنام پاکستان ہوتا ہے۔کویت اور سعودی عرب میں منشیات اور دھماکوں میں ملوث افغانوں نے پاکستان کے پاسپورٹ بنوا رکھے تھے جس سے پاکستان کا تشخص بری طرح مجروح ہوا۔یہ ایسا جرم ہے جسے دنیا کوئی ملک برداشت نہیں کرتا ۔دنیا بھر میں افغان مہاجرین کو انکے ملک میں واپس بھیجنے کی تحریک شروع ہوچکی ہے لہذا یہ کہنا کہ پاکستان افغان مہاجرین کے معاملے میں سختی برت رہا ہے،حقیقت برمبنی نہیں ہے۔

افغان مہاجرین صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہیں۔یورپ میں بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ برطانیہ،کینیڈا،آسٹریا،یونان،ترکی سمیت بہت سے ممالک میں افغان مہاجرین موجود ہیں اور انکی واپسی کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔جرمنی نے بھی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔جرمن چانسلر کو اس ضمن میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔جرمن حکومت 80 ہزار میں سے 40ہزار مہاجرین کو ڈیپورٹ کرنے کا اعلان کرچکی ہے اور اس سلسلہ میں اکثریت ایسے نوجوان مہاجرین کی ہے جو غیر شادی شدہ ہیں اور انکی پناہ کے لئے درخواستین تین تین بار رد کی جاچکی ہے ۔دوسری جانب چانسلر کو مخالف جماعت کی کڑی تنقید کا بھی سامنا ہے جو جرمن عوام کو افغانوں سے پیدا ہونے والے تحفظات پر شدید ردعمل دے رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 500 سے زائد داعش ایجنٹوں کی جرمن میں آمد کے بعد جرمن کا مستقبل خطرے سے دوچار ہوچکا ہے ۔جرمن کلچر بھی افغان مہاجرین کی وجہ سے متاثر ہوچکا ہے جس سے جرمن کا اپنا تشخص خطرے میں ہے۔

سوئیڈن میں بھی افغان مہاجرین کو امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے ملک بدر کیا جانے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔اس وقت یورپ میں 178,000 پناہ گزیں جن میں سے 42,000 سوئیڈن میں مقیم ہیں ۔ان میں سے کئی خاندان ایسے ہیں جن پر طالبان نے بے پناہ ظلم کیااور انکے والدین کے سروں کو کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلتے رہے ۔اس خوف کی وجہ سے وہ واپس افغانستان نہیں جانا چاہتے۔سوئیڈن کے کئی سکولوں میں زیر تعلیم بچوں میں یہ خوف پیدا ہوچکا ہے کہ طالبان انہیں مارڈالیں گے لیکن سوئیڈن حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کررہی ۔یورپ نے حال ہی میں 82 ہزار کے قریب جن افغانوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا اسکی وجہ یورپ کے معاشی اور سماجی حالات سے زیادہ داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کی وجہ سے پیدا ہونے والا خوف ہے ۔ یورپ دنیا میں یہ خوف سرایت کرچکا ہے کہ داعش کو افغان مہاجرین میں سے ایجنٹ چننے میں آسانی ہوگی لہذا وہ دنیا کے بدلتے تقاضوں کے تحت سلامتی کی سخت ترین پالیسی پر عمل کرنا چاہتی ہے۔اسکے لئے وہ ایران کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہاں افغان مہاجرین شام کی جنگ میں ایرانیوں کا ساتھ دے رہے ہیں ۔

ایران میں 950,000 کے قریب رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں ۔ایرانی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے شام کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے ان افغانون کو بھرتی کیا ہے جبکہ ایرانی احکامات کو نظر انداز کرنے والے افغانوں کو پنجروں میں بھی بند کیا جاتا رہاہے ۔اس بدسلوکیپر کابل نے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔ایران بھی افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا چاہتا ہے لیکن اس نے خطے میں اپنے جنگی مفادات کے پیش نظر افغان مہاجرین کو استعمال کرنے کا ایسا ہتھکنڈہ اپنا رکھا ہے جس پر خطے کے کئی ملکوں کے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ایران نے گزشتہ سالوں میں ہزاروں افغان مہاجرین کو واپس بھی بھیجا ہے جبکہ ایران کی جیلوں میں 5ہزار کے قریب ایسے افغان قید ہیں جو مختلف جرائم میں ملوث ہیں یا جن کے پاس قیام کی قانونی اجازت نہیں ہے۔ایران افغان مہاجرین کے ساتھ کوئی رورعایت نہیں برتتا۔گزشتہ دہائیوں کے دوران ایران میں 2 ہزار سے زائد ایسے افغانوں کو سزائے موت بھی دی جاچکی ہے جو قتل ،ریپ،ڈکیتی اور دہشت گردی میں ملوث تھے ۔

مذکورہ بالا عالمی صورتحال سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی صرف پاکستان کا مسئلہ یا درد سر نہیں ہے پاکستان چونکہ افغانستان کی جنگ سے براہ راست متاثر ملک ہے اور ہنوز دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے افغانستان سے تحفظات بھی رکھتا ہے لہذا مہاجرین کے ساتھ کسی ایسی بدسلوکی یا غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ نہیںکررہا جس کی مثال دوسرے ملکوں سے مل رہی ہے۔

مزید : بلاگ