بلوچستان اسمبلی میں سانحہ پولیس ٹریننگ کالج پر تحریک التوا مشترکہ طورپرمنظور،کیڈٹس واپس بلانے پر سوالات جنم لے رہے ہیں: مولانا عبدالواسع

بلوچستان اسمبلی میں سانحہ پولیس ٹریننگ کالج پر تحریک التوا مشترکہ ...
بلوچستان اسمبلی میں سانحہ پولیس ٹریننگ کالج پر تحریک التوا مشترکہ طورپرمنظور،کیڈٹس واپس بلانے پر سوالات جنم لے رہے ہیں: مولانا عبدالواسع

  

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر بحث کیلئے پیش کی جانے والی تحریک التوا مشترکہ طور پر منظور کرلی گئی ہے جس کے بعد 7 نومبر کو اس معاملے پر بلوچستان اسمبلی میں 2 گھنٹے کیلئے بحث ہوگی۔ تحریک پیش کرنے والے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ پولیس کیڈٹس کو ٹریننگ کے بعد واپس بلانے سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی کی زیرصدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں سانحہ پولیس ٹریننگ کالج کے شہدا اورگڈانی میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف مولاناعبدالواسع نے سانحہ پولیس ٹریننگ کالج پرتحریک التوا پیش کی ۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں بےگناہ افراد کا قتل اور اغوا برائے تاوان کاسلسلہ پھرسے شروع ہوچکاہے۔ پولیس ٹریننگ کالج حملے میں 18 سے 25 سال تک کے 62 جوانوں کو شہید کیاگیا اس حملے میں 100 کے قریب زخمی بھی ہوئے اس لیے اسمبلی کی کارروائی روک کر پولیس ٹریننگ کالج کے دلخراش سانحہ کو زیربحث لایاجائے۔

سیکیورٹی اداروں کی کلبھوشن یادیو کے بعدایک بڑی کامیابی ، پاکستان میں تعینات بھارت کے دو سفارتی اہلکاروں کی طرف سے تخریب کاری کا نیٹ ورک چلائے جانے کا انکشاف

اس موقع پر قائد حزب اختلاف مولانا عبدالواسع نے اپنے خطاب میں کہا کہ سانحہ 8 اگست کوبین الاقوامی قوتوں پر ڈال کر جان چھڑالی گئی ہے ۔پولیس ٹریننگ کالج میں دہشتگردی کی تو پہلے سے اطلاع تھی اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان کابیان بھی سامنے آچکاہے جبکہ پولیس کیڈٹس کو ٹریننگ کے بعد واپس بلانے سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مولانا عبدالواسع کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک التوا مشترکہ طور پر منظور کرلی گئی جس پر سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک التوا پر 7 نومبر کو2 گھنٹے کی بحث ہوگی۔

مزید : کوئٹہ