سب سے پہلے وزیر اعظم کا احتساب ،جوڈیشل کمیشن پانامہ لیکس کا فیصلہ 25دن میں کرے ،کرپشن کے خلاف تحریک منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے :سینیٹر سراج الحق

سب سے پہلے وزیر اعظم کا احتساب ،جوڈیشل کمیشن پانامہ لیکس کا فیصلہ 25دن میں کرے ...
سب سے پہلے وزیر اعظم کا احتساب ،جوڈیشل کمیشن پانامہ لیکس کا فیصلہ 25دن میں کرے ،کرپشن کے خلاف تحریک منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے :سینیٹر سراج الحق

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ہم ایک ایسے جوڈیشل کمیشن کے متمنی ہیں جو سب سے پہلے مدت کا تعین کرے جو 25 دن سے زیادہ نہ ہو، جس طرح پانامہ لیکس میں ملوث باقی ممالک کے حکمرانوں نے اقتدار چھوڑا ، وزیراعظم پاکستان بھی استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کریں، سب سے پہلے وزیراعظم سے احتساب شروع کیا جائے اس کے بعد جن لوگوں نے قرضے معاف کرائے اور جن کے نام پانامہ لیکس میں ہیں ، ان کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔

منصورہ میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان اس وقت کرپشن کی دلدل میں بری طرح پھنس چکاہے،ہم نے کرپشن کے خلاف یکم مارچ سے مہم شروع کی اور اسے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے،پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ ، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی ، مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الٰہی سے انہوں نے رابطہ کیا ہے اور دیگر لوگوں سے بھی رابطہ کر رہے ہیں تاکہ مشترکہ ٹی او آرز سپریم کورٹ میں داخل کیے جائیں اور یہ تاثر نہ ابھر ے کہ اپوزیشن تقسیم ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب اور تمام ادارے جوڈیشل کمیشن کے ساتھ تعاون کریں، بیشتر ممالک کے ساتھ پاکستان کے معلومات شیئر کرنے کے معاہدے ہیں، حکمرانوں نے چوری کا مال جن ممالک میں چھپایا ہے ، اس کی معلومات حاصل کی جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم عدالت سے بھی درخواست کریں گے کہ جوڈیشل کمیشن اپنی رپورٹ حکومت کو دینے کے بجائے سپریم کورٹ میں پیش کرے اور اس کی روشنی میں سزائیں تجویز کرے، ہانگ کانگ اور سنگا پور کرپشن سے پاک ہوسکتے ہیں ، پاکستان کیوں نہیں ؟انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے قاضی حسین احمدؒ کی قیادت میں سب سے پہلے کرپشن کے خلاف دھرنا دیا اور اس وقت کی حکومت نے ان پر بدترین تشدد کیا، انہوں نے کہاکہ ہم اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی پارٹی جلسہ ، جلوس یا ریلی کرتی ہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں، ایک پارٹی نے شہر بند کرنے کا اعلان کیا ، حکومت نے راستے عملاً بند کیے،جو پارٹی یا حکومت آئین سے ماورا کام کرتی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔

سراج الحق نے کہاکہ ہم نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی تو بہت سے لوگوں کا خیال تھاکہ ہمیں عدالت میں نہیں جاناچاہیے تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ٹھیک جگہ عدالت ہے ، سڑکیں نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت سپریم کورٹ کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح اس مسئلے کو حل کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے انتہا پسندانہ سوچ کمزور پڑی ہے، پی ٹی آئی نے دھرنے کے بجائے یوم تشکر کا اعلان کیا تو اسے طعنے دیے گئے لیکن ان کے اس اقدام کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، ہم نے کوشش کی کہ تماشہ اور خون خرابہ نہ ہو ، اس سے مثبت نتائج نہیں نکلتے، ماضی میں مارشل لاء آئے جس سے ملک تقسیم ہوا۔

مزید : قومی