وہ شہر جہاں خاتون کی عزت صرف 15روپے میں فروخت کی جاتی ہے

وہ شہر جہاں خاتون کی عزت صرف 15روپے میں فروخت کی جاتی ہے
وہ شہر جہاں خاتون کی عزت صرف 15روپے میں فروخت کی جاتی ہے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت دنیا بھر میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے حوالے سے بہت شہرت رکھتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر وہاں سے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور بسااوقات گینگ ریپ کے بعد لڑکیوں کے قتل کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اب وہاں سے ایک ایسی خبر آ گئی ہے جس سے آپ کو ان کی جنسی درندگی کی وجہ بھی معلوم ہو جائے گی۔ میل آن لائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ”بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زبردستی جنسی زیادتیوں کی ویڈیو کھلے عام ویڈیوسنٹر اور موبائل شاپس پر فروخت ہو رہی ہیں۔ بالخصوص بھارتی ریاست اترپردیش میں یہ مکروہ دھندہ اپنے عروج پر ہے جہاں دکانداروں نے اپنے کمپیوٹرزخواتین سے گینگ ریپ کی ویڈیوز سے بھر رکھے ہیں۔ ان دکانوں پر گاہکوں کو ایسی ویڈیو زکی طویل فہرست دکھائی جاتی ہے جس میں سے وہ اپنی مرضی کی ویڈیوز منتخب کرکے اپنے موبائل فون میں منتقل کروا لیتے ہیں۔“

دنیا کا بڑا اسلامی ملک جہاں جسم فروشی غیر قانونی نہیں، یہ ترکی نہیں بلکہ۔۔۔ کونسا ملک ہے؟ نام ایسا کہ کوئی پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتا

رپورٹ کے مطابق یوپی میں یہ ویڈیوز اس قدر ارزاں دستیاب ہیں کہ گاہکوں سے فی ویڈیو صرف 15سے 200روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ ویڈیو عموماً حقیقی ہوتی ہے جو خواتین کو جنسی زیادتی کا شکار بنانے والے درندے بناتے ہیں تاکہ متاثرہ خاتون کو قانونی کارروائی سے باز رکھنے اور دیگر مقاصد کے لیے بلیک میل کر سکیں۔ بعد ازاں وہ یہ ویڈیوز مارکیٹ میں فروخت بھی کر دیتے ہیں اور بعض دکاندار بھی ملزمان کے مرمت کے لیے آنے والے موبائل فونز سے یہ ویڈیوز چوری کر لیتے ہیں اور پھر گاہکوں کو فروخت کرتے ہیں۔ ان میں اکثر ویڈیو ایک سے زائدملزموں کی خواتین اور بچوں سے زیادتیوں کی ہوتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”ایسی گینگ ریپ کی ویڈیو کی وجہ سے ہی بھارت میں خواتین سے جنسی زیادتیوں کے واقعات میں ہوشربا شرح سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ان ویڈیوز سے لوگوں کو گینگ ریپ کی ترغیب ملتی ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس