ہندوستان میں سابق فوجی کی خود کشی ،دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اورراہول گاندھی کی گرفتاری و رہائی کی آنکھ مچولی جاری ،بھارتی اپوزیشن مودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ گئی

ہندوستان میں سابق فوجی کی خود کشی ،دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال ...
ہندوستان میں سابق فوجی کی خود کشی ،دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اورراہول گاندھی کی گرفتاری و رہائی کی آنکھ مچولی جاری ،بھارتی اپوزیشن مودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ گئی

  

نئی دہلی (میٹرنگ ڈیسک) بھارت میں مودی حکومت اور اپوزیشن میں ’’ون رینک ون پنشن ‘‘پر سابق فوجی کی خودکشی کے بعد قومی راجدھانی دہلی میں ’’ہائی وولٹیج ‘‘ڈراما جاری ہے،عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو مودی حکومت کی ہدائیت پر پولیس نے گرفتار کر لیا ، خود کشی کرنے والے فوجی کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لئے جانے والے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کی گرفتاری و   رہائی کی آنکھ مچولی جاری  ۔

بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق ’’ون رینک ون پنشن ‘‘کے لئے خودکشی کرنے والے سابق بھارتی فوجی کے اہل خانہ سے ملنے کے لئے راہول گاندھی ’’رام منوہر لوہیا ہسپتال‘‘ پہنچے ، لیکن پولیس نے انہیں اندر نہیں جانے دیااور انہیں حراست میں لے کر’’ر مندر مارگ پولیس سٹیشن لے جایا گیا، جہاں سے بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیالیکن کچھ دیر بعد راہول گاندھی اور جیوترادتیہ سندھیا کو’’ کناٹ پلیس پولیس‘‘ نے ایک بار پھر حراست میں لے لیااور دونوں کو’’ مندر مارگ پولیس سٹیشن رکھا گیاہے، مندر مارگ تھانے سے رہا ہونے کے بعد راہل گاندھی دو دیگر پولیس سٹیشن بھی گئے اور کہا کہ سابق فوجی کے خاندان والوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے، میں ان کو ڈھونڈ رہا ہوں، اس دوران راہل کو پولیس والوں نے کافی سمجھایا لیکن راہل کے نہیں ماننے پر انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا اور کناٹ پلیس تھانے لے جایا گیا، اس دوران راہل کے ساتھ کانگریس لیڈر جیوتی سندھیا اور غلام نبی آزاد بھی موجود تھے، جیوتی سندھیا نے کہا کہ مودی حکومت کا اصلی چہرہ لوگوں کے سامنے آ گیا ہے،بعد میں راہل کو شیلا ڈکشت، جیوتی سندھیا، اجے ماکن، غلام نبی آزاد، راج ببر سمیت کانگریس کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پولیس وین میں بٹھا دیا گیا اور تلک راستہ تھانے لے جایا گیا،تھوڑی دیر بعد راہل سمیت تمام رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔

دوسری طرف اب دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے،جبکہ ان کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔اپنی گرفتاری کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ کہ اگر دہلی میں کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے ، تو ملنا میری ذمہ داری ہے، میں تین گھنٹے سے یہاں ہوں، مجھے کیوں نہیں ملنے دیا جا رہا ہے؟ وزیر اعظم مودی پورے ملک میں جا کر جھوٹ بول رہے ہیں کہ’’ ون رینک ون پنشن‘‘ نافذ کر دیا ہے، ون رینک ون پنشن پر کوئی بھی فوجی خود کشی کرے، یہ دکھ کی بات ہے۔ مودی سب سے جھوٹ بول رہے ہیں کہ انہوں نے ون رینک ون پنشن نافذ کر دیا ہے، اگر وزیر اعظم نے اسے نافذ کیا ہے ، تو فوجی نے خود کشی کیوں کی؟ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی سہولیات کم کردی گئیں ہیں اور پی ایم’’ سرجیکل اسٹرائیک ‘‘کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں، اگر میری ریاست میں کوئی خودکشی کرتا ہے تو کیا میں ملنے نہ جاؤں؟۔

قبل ازیں دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور رکن اسمبلی سریندر کمانڈو بھی فوجی کے اہل خانہ سے ملنے گئے تھے ، جہاں ان کی پولیس سے نوک جھونک ہوگئی اور پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔دوسری طرف کانگریسی لیڈر رندیپ سرجیوالا نے پریس کانفرنس کر کے مودی حکومت پر بڑا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کی پولیس نے سابق فوجی کے بیٹوں کو مارا پیٹا اور گھسیٹا، فوجی کے لواحقین راہل گاندھی سے ملنا چاہتے تھے،انہیں امید تھی کہ’’ ون رینک ون پنشن‘‘ کا مطالبہ راہل جی پورا کروا سکتے ہیں،راہل گاندھی کو جب یہ پتہ چلا ، تو وہ رام منوہر لوہیاہسپتال پہنچے، لیکن پولیس نے پورے ہسپتال کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا،پولیس نے کانگریس کے لیڈر اجے ماکن کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی